امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ

by Other Authors

Page 7 of 24

امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ — Page 7

قبیلہ جرہم کے دل میں حضرت ہاجرہ کے لئے انتہائی احترام کے جذبات تھے کیونکہ وہ اس معجزہ پر حیران تھے آخر ان کے سردار نے بہت عزت کے ساتھ حضرت ہاجرہ کی خدمت میں درخواست کی کہ اگر آپ اجازت دیں تو ہم یہاں پڑاؤ ڈال لیں۔حضرت ہاجرہ اس نئے خُدائی انعام پر حیران رہ گئیں۔خُدا کی حمد کرتے ہوئے انہوں نے خوشی سے اجازت دے دی۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی تنہائی کو بھی دُور کر دیا۔اس قبیلہ کے سردار کا نام مضاض بن عمر و جرہمی تھا۔اور یہ قبیلہ تھا جو مکہ میں آباد ہوا۔میں نے پہلے بتایا تھا کہ صحراؤں میں پانی بہت قیمتی ہوتا ہے اور جو بھی قافلے ادھر سے گزرتے وہ حضرت ہاجرہ کی اجازت سے ٹھہر جاتے۔اپنے ساتھ لائی ہوئی کھانے کی چیزوں میں سے اُن کی خدمت میں کچھ پیش کرتے۔پانی سے پیاس بجھاتے اور اپنے سفر پر روانہ ہو جاتے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل کے لئے دُور ڈور کے علاقوں سے بہترین کھانے کی چیزوں کا انتظام کر دیا۔پھر اس کی قدرت دیکھو کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کو بچپن ہی میں صحرا میں پانی جیسی نعمت چشمہ “ کا مالک بنا کر ایک طرح مکہ کی بادشاہت اُن کے سپر د کر دی۔پھر بچو! مکہ میں مسلسل قافلے آتے اور پانی کی وجہ سے حضرت ہاجرہ کے احسان مند ہوتے۔اس طرح حضرت ہاجرہ کی عزت و احترام میں برابر اضافہ ہوتا رہا۔کچھ لوگ وہاں مستقل رہنے لگے۔اپنے اپنے خیمے لگالئے۔اس طرح بستی کی شکل ابھر نے لگی۔پانی ملا تو صحرا میں کھجور کے درخت اُگ آئے۔گویا نخلستان بن گئے۔اس طرح مکہ میں قدرتی سبزہ کا بھی انتظام ہو گیا۔خُدا کا جو وعدہ تھا کہ میں اس کو شہر بناؤں گا۔اس لئے ضروری سامان مہیا کر دیئے۔یوں آہستہ آہستہ مکہ آباد ہونے لگا۔نئے آنے والے لوگ چشمہ کی مالک حضرت ہاجرہ کی فرمانبرداری کرتے تھے۔حضرت اسمعیل کی پرورش قبیلہ جرہم کے افراد میں ہوئی۔وہ آپ کی معصوم اداؤں