امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ

by Other Authors

Page 9 of 24

امن کا گہوارہ ۔ مکّۃ المکرمہ — Page 9

۹ ۵۔شماع۔۶۔دومہ۔۷۔سا۔۸۔حدر۔۹۔تیما۔۱۰۔بطور۔۱۱ نفیس۔۱۲۔قومہ پیدائش باب ۲۵ آیت ۱۳ تا ۱۶) یعنی ان کی اولاد میں قبیلہ کی شکل اختیار کر لی۔ان کے ناموں پر قوموں کے نام تھے۔جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ بدل گئے۔سارے عرب فلسطین اور یمن کی طرف حضرت اسمعیل کی اولاد پھیلی ہوئی تھی۔عرب کے زیادہ تر لوگ جو قریش کہلاتے تھے۔وہ قیدار کی نسل سے ہیں۔حضرت اسمعیل مکہ کے پہلے بادشاہ تھے۔کیونکہ خانہ کعبہ کے وہی متولی تھے۔چشمہ زمزم کے مالک تھے۔مکہ ان کی وجہ سے آباد ہوا۔پھر ان کی زندگی میں ہی ان کی اولاد نے بہت ترقی کی۔جو قافلے پانی کی وجہ سے مکہ آتے تھے وہ حضرت اسمعیل اور ان کی اولا د کو ایک مقدس گھر کا طواف کرتے دیکھتے تھے۔تو وہ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔اور اپنی مشکلات اور پریشانیوں سے بچنے کے لئے دُعائیں مانگتے وہ قبول ہو جاتیں۔جس کی وجہ سے کعبہ کی شہرت پھیلنے لگی۔مکہ ایک شہر بن گیا۔پر رونق شہر، (مشہور مصنف بطلیموس با خوت صموری کے حوالہ سے لکھتا ہے کہ مکہ طول بلد ۷۸ درجہ اور عرض بلد ۳ء۰ درجه پر واقع ہے) اس طرح سارا سال ہی عرب کے قبائل کعبہ کا طواف کرتے اور حج کے موسم میں تو میلہ کا سماں ہوتا۔نہ صرف عرب بلکہ اس کے قرب و جوار سے بھی لوگ کعبہ کی شہرت سن کر آتے تھے۔اس طرح مکہ میں تجارت کی ابتدا ہوئی۔حضرت اسمعیل کے زمانہ میں مکہ نے بہت ترقی کر لی تھی۔انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنی اولا د کو پھلتا پھولتا اور ترقی کرتا ہوا دیکھا۔آخر خُدا کا بلاوا آ گیا اور آپ ۱۳۷ سال کی عمر میں اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گئے لے پیدائش باب ۲۵ آیت ۱۷