المبشرات — Page 74
دو کمشنر کی ملاقات کے متعلق بیت افرانتا جو بلا کسی ہماری تحریک کے شاء کی ایک عجیب خواب جو نہایت فارق عادت رنگ میں پوری ہوئی :- اسی سال انتہاء میں ناقل) ایک معاملہ کے متعلق جو گورنمنٹ کے تھے تھا ایسا واقعہ ہوا کہ کمشنر صاحب کی چٹھی میرے نام آئی کہ فلاں امر کے متعلق میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں لیکن مجھے آجکل اتنا کام ہے کہ میں گورداس پور نہیں آسکتا اور قادیان کے قریب تر جو میرا مقام ہے وہ امرت سر ہے۔یہاں اگر آپ آسکیں تو لکھوں اس بھٹی میں معذرت بھی کی گئی کہ اگر مجھے فرصت ہوتی تو میں گورداسپور ہی آتا لیکن مجبور ہوں اس چھٹی کے آنے سے تین دن بعد مجھے رڈیا ہوئی کہ میں کمشنر صاحب کو ملنے کے لئے گورداسپور جا رہا ہوں اور یکوں بغیرہ کا انتظام ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کر رہے ہیں لیکن جس دن میں نے رویا دیکھی اُس دن ڈاکٹر صاحب قادیان میں موجودہ نہیں تھے بلکہ علی گڑھ گئے ہوئے تھے۔اسی رات میں تھی کہ مجھے کچھے کام گورداسپور بھی نکل آیا ہے اگر آپ کو امرت سر آنے میں تکلیف ہو تو میں فلاں تاریخ گورو اسپور آرہا ہوں آپ وہاں آجائیں اس چٹھی سے ایک حصہ تو پورا ہوگیا مگر دوسرا حصہ باقی تھا اور وہ ڈاکٹر صاحب کی موجودگی تھی۔ڈاکٹر صاحب ایک جہینہ کے ارادہ سے علی گڑھ اپنی چھوٹی لڑکی کی لات پر اپریشن کرانے کے لئے گئے تھے اور ابھی ان کے آنے کی کوئی امید نہ تھی مگر دوسرے دن ہمیں گورداسپور جانا تھا کہ اتنے میں ڈاکٹر صاحب آگئے اور بیان کیا کہ جس ڈاکٹر نے اپریشن کرتا تھا اس نے ابھی ٹانگ کاٹنے سے انکار کر دیا ہے اور کہتا ہے کہ ایسا کرتا سرجری کی شکست ہے میں پہلے یونہی علاج کروں گا اس لئے میں نے سردست ٹھہرنا مناسب نہ سمجھا اور واپس آگیا ہوں (گو چند ماہ بعد اس ڈاکٹر کو مجبورا