المبشرات — Page 197
۲۱۳ سے اُن کے جرنیل ان کو انگیخت کرتے چلے گئے تب مینے اپنے دو تین ساتھیوں سے کہا کہ وہ نعرہ تکبیر بلند کریں۔انہوں نے تکبیر کا نعرہ لگایا لیکن فوج کے ہجوم اور اوزاروں کی بھنبھناہٹ کی وجہ سے آواز میں گونج نہیں پیدا ہوئی پھر بھی کچھ لوگ متاثر ہوئے اسپر پھر مینے کہا کہ سپا ہیو! میں تمہارا کما نڈر ہوں تمہارا فرض ہے کہ میری اطاعت کرو اور میرے تجھے چلو تب کہنے ان میں سے کچھ اور چہروں پر شناخت اور اطاعت کا اثر دیکھا اور اُن سے کہا کہ بلند آواز سے نعرہ تکبیر لگاؤ اور پھر اپنی عادت کے خلاف نہایت بلند آواز سے پکارا اللہ اکبر جب بنے یہ نعرہ لگایا تو گویا ساری فوج کے دل ہل گئے اور سر نے نہایت زور سے گرجتے ہوئے بادلوں کی طرح اللہ اکبر کہا اور ساری فضا ان نعروں سے گونج گئی تب مینے انہیں کہا میرے پیچھے چلے آؤ اور خود آگے کو چل پڑا۔اس وقت سینے دیکھا کہ تمام فوج میرے پیچھے قطاریں باندھ کر چل پڑی اس وقت ان میں جوانی اور رعنائی اپنی پوری طاقت پر معلوم ہوتی ہے ان کے بھاری قدم جو وہ جوش سے زمین پر مارتے تھے یوں معلوم ہوتا تھا کہ زمین کو ہلا رہے ہیں اور زمین پر ایک کامل سکو کیسے درمیان اس فوج کے قدموں کی آواز جو میرے پیچھے چلی آرہی تھی عجیب موسیقی سی پیدا کر رہی تھی میں سڑک پر ان کو ساتھ لئے ہوئے چلا گیا یہ سڑک ایک ٹیلے کے گروخم کھا کر گزرتی تھی جب اس ٹیلہ کے پاس سے وہ سٹرک مڑی تو پینے دیکھا کہ کوئی ڈیڑھ منزل کے قریب بلندی پر ایک وسیع کمرہ ہے اور اس کے اندر بہت سے لوگوں کا ہجوم ہے اور وہ بھی احمدی فوج کے آدمی ہیں اور گویا اس جھگڑے کے فیصلہ کا انتظار کر رہے ہیں میرے ہمرا ہوں میں سے ایک شخص دوڑ کر اوپر چڑھ گیا اور اوپر جا کر جو ان کا افسر دروازہ پر کھڑا تھا اسے اس نے سمجھانا شروع کردیا کہ یہ جماعت کے کمانڈر ہیں اور انہوں نے جرنیلوں کی غلطی کی وجہ سے خود کسان سنبھال لی ہے اور گویا دوبارہ دنیا میں آگئے ہیں وہ شخص جسے بنے دیکھتے ہی پہچان لیا کہ چوہدری مولا بخش صاحب مرحوم سیالکوٹی ہیں (ڈاکٹر میجر شاہ نواز صاحب کے والد) اس سے کہہ رہے ہیں کہ اگر یہ درست ہے تو ہمیں پہلے کیوں اطلاع نہیں دی گئی منے اپنے ساتھی کو روکا اور چوہدری صاحب سے کہا کہ افسر میں ہوں یہ میرا کام ہے کہ میں بتاؤں کہ کب اور کس طرح اطلاع دی جائے داس وقت سینے جرنیلوں سے کہ اس مضمون کی اشاعت کے وقت ڈاکٹر صاحب کیپٹن۔بیٹن تھے مگر اس کے بعد میجر ہو گئے۔۔۔