المبشرات

by Other Authors

Page 50 of 309

المبشرات — Page 50

: ۵۰ کسی سے باتیں کرتے سنا حضرت عائشہ نے دریافت کیا یا رسول اللہ آپ کس سے گفتگو فرار ہے ہیں۔حضور نے فرمایا جبریل آیا ہے اور تمہیں السلام علیکم کہتا ہے۔ہفتم۔نظر آنے والے فرشتے کے ذریعہ سے کلام الہی سنایا جاتا ہے اور دوسر لوگ اس میں سمانا و رویتہ شریک ہوتے ہیں جیسے ایک مرتبہ جبریل دحیہ کلبی کی شکل میں حضور کی مجلس میں آئے اور صحابہ نے ان کو اچھی طرح دیکھا۔جب وہ چلے گئے تو صحابہ کے استفسار پر حضور نے فرمایا جبریل تمہیں دین کی باتیں سکھانے آئے تھے۔تابع وحی کلام الہی کا تیسرا قرآنی ذریعہ تابع وحی کا ہے جو وحی غیر متلو بھی کہلاتا ہے تابع وحی کے کمالات تابع وحی اکثر و بیشتر تصویری زبان میں نازل ہوتی ہے اور اپنی زبان میں متعد د کمالات رکھتی ہے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :- " ایک فائدہ تو اس وحی میں یہ ہے کہ گو کلام میں بھی اجمال کو مد نظر رکھا سکتا ہے مگر تصویری زبان میں تو بعض دفعہ ایسا اجمال ہوتا ہے جو کسی فقرہ میں بھی نہیں ہو سکتا اس کی مثال یوں سمجھ لو کہ اگر رویا یا کشف کی حالت میں کسی کی صورت آنکھوں کے سامنے پھرا دی جائے اس کے ماتھے پر شکن پڑے ہوئے ہوں اور دس میں مختلف قسم کے جذبات اس کے چہرے سے عیاں ہو رہے ہوں تو یہ نظارہ ایک ساعت میں اسے دکھایا جا سکتا ہے لیکن اگر اپنی جذبات کو الفاظ کی صورت میں ادا کیا جائے تو خواہ کیسے بھی محمل الفاظ ہوں اور کس قدر اختصار کو ملحوظ رکھا گیا ہو پھر بھی دس پندرہ فقروں میں