المبشرات — Page 41
۴۱ نے اس کے جواب میں خواب اور ر ویا کو بطور دلیل پیش کیا ہے۔الہام اور رویا میں فرق صرف یہ ہے کہ الہام کے کو الفاظ کان سنتے ہیں اور رویائیں آنکے نظار در گیتی ہے۔رویا سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ انسان بعض حالتوں میں ایسی آوازیں اور ایسے نظارے دیکھے یا سن سکتا ہے جن کا خارج میں وجود نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ دل کا خیال ہوتے ہیں پس شواہد سے نہ طبعی قانون سے معلوم ہوا کہ ایسا کی ہے کہ بغیر بولنے کے الفاظ پیدا ہو جائیں جو دل کا خیال نہ ہوں ہر شخص نے کبھی نہ کبھی ایسا گا نظاره ضرور دیکھا ہوگیا ہے وہ نظارہ نیند کی حالت میں ہو یا بخار کی حالت میں چاہیے وہ نظارہ جھوٹا ہو یا سچا اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ وہ واقعہ میں نظارہ معلوم ہوتا ہے اور دل کا خیال نہیں ہوتا یہ الگ بحث ہے کہ ایسا نظارہ حقیقی ہوتا ہے یا تخیل کا نتیجہ جھوٹا ہوتا ہے یا بیماری کا نتیجہ۔بہر حال اتنا اننا پڑیگا کہ دماغ میں ایسی خاصیت ضرور ہے جس سے انسان کی آنکھ بعض دفعہ ایسے نظارے دیکھ سکتی ہے جن کا خارج میں کوئی وجود نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ دل کا خیال ہوتے ہیں پس آنکھ اگر ایسا نظارہ دیکھ سکتی ہے تو کیا کان ہیں آواز نہیں سن سکتے آگے یہ الگ سوال ہے کہ ایسے الفاظ سچے ہوتے ہیں یا جھوٹے دماغی نقص کا نتیجہ ہوتے ہیں یا تخیل۔اس قسم کی فرضی آواندوں کا جن کو انگریزی میں ہیلوسی نیشن ) illucination) کہتے ہیں ہر ایک نے مشاہدہ کیا ہو گا۔مثلاً الگ الگ کمرے میں بیٹھے ہوئے یا سنسان جنگل میں چلتے ہوئے بعض وقعہ ایسا ہوتا ہے کہ اپنا نام کان میں آجاتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ہم کو بلا رہا ہے گو آپ اس کو وہم کا نتیجہ ہی قرار دیں مگر یہ نا مکن نہیں کہ ایسی آواز آئے ہیں ثبوت یہ مانگتا ہو گا کہ ایسی آوازیں و ہم ( دماغی نقص کا نتیجہ ہوتی ہیں یا واقعہ میں خدا کی آواز (الہام) ان آوازوں کے آنے کا سیب خواہ کوئی بھی ہو ا تنا ثابت ہے کہ یہ قلبی خیال نہیں ہوتا ہے را روی آن لاین اردو جوری نشده است