المبشرات — Page 268
۔۔۔۔۲۸۴ میں سے ایک صاحب جن کا نام محمد النطق ہے سے کہا کہ جاؤ اور اس قسمی انتظامیہ کرو کہ میں کیسی وہاں اس طرح جا سکوں کہ کسی کو میر اعلم نہ ہو محمد الحق نے تھوڑی ویر میں آکر کہا کہ سینے انتظام کر دیا ہے آپ چلے جائیں۔میں ایک بند کمرہ میں سے ہو کر اس جگہ گیا ہوں جہاں مسٹر گاندہی میں راستہ میں کچھے پہرہ دار ہیں۔اُن میں سے ایک نے مجھے روکا لیکن محمد اسحق نے انہیں یہ کہکو ہٹا دیا۔اُن کے لئے اجازت لی ہوئی ہے۔اس کے بعد میں اندر داخل ہوا یہ ایک صحن ہے۔اس میں گاندھی جی تکیہ کا سہار الگائے اپنے معروف لباس میں مغرب کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہیں۔سامنے ایک صف اخباری نمائنڈں کی ہے ہیں ان میں جا کر بیٹھے گی مگر میرے بیٹھتے ہی وہ لوگ ، اُٹھ کر مجھے سے مصافح کرنے لگ گئے۔اور میں خواب میں حیران ہوں کہ میں تو پوشیدہ آیا تھا پھر یہ لوگ مجھے سے اُٹھ کر کیوں مصافحہ کرنے لگ گئے۔جب سب نمائیندے مجھے سے مصافحہ کر چکے تو ایک شخص اُٹھا اور اُس نے بھی مصافحہ کیا۔مگر ساتھ ساتھ ایک طویل گفتگو شروع کر دی۔سینے خیال کیا یہ دیوانہ ہے اس سے کسی طرح پیچھا چھڑانا چاہئیے آخر سوچ کر لینے اسے کہا کہ یہ تو گاندھی جی کی ملاقات کا وقت ہے ان سے بات کرو۔اسپر وہ مجھے چھوڑ کر گاندھی جی کی طرف متوجہ ہوا اور بات کرتے کرتے اُن پر جھکتا چلا گیا۔یہاں تک کہ اسکی دباؤ کی وجہ سے گاندھی جی ایسی حالت میں ہو گئے کہ گو یا لیٹے ہوئے ہیں وہ اُن کے اوپر دراز ہو گیا اور اپنی بات جاری رکھی۔میں حیران ہوں کہ اُن کے ملاقاتی ان کو چھڑاتے کیوں نہیں۔اسی حالت میں گاندھی جی نے انگلیاں پلائی شروع کر دیں جیسے کوئی شخص دل میں باتیں کرتے ہوئے انگلیاں بلاتا ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ اس طرح اس سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں پہلے له الفضل ا ر ا گست که ما کالم ہے