المبشرات

by Other Authors

Page 253 of 309

المبشرات — Page 253

حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ تعالی نے یہ نظارہ دیکھتے ہی چوہدری ظفر الدین صاحب (حال بیج انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس ، اور سابق امام مسجد لنڈن موللنا جلال الدین صاحب شمس کے ذریعہ سے مسٹر مارین کو بھی اس سے مطلع فرما دیا۔مئی ۲۵ ء میں جبکہ یہ خبر دی گئی۔پارلیمنٹ ٹوٹنے کا ہرگز کوئی امکان نہ تھا۔کیونکہ شہداء کے پارلیمنٹ ایکٹ کی وجہ سے پہلی پارلیمنٹ کی میعاد میں نو می شود تک توسیع ہو چکی تھی لیکن چند روز بعد ہی کنز روٹیو پارٹی نے جنرل الیکشن کا فیصلہ کر دیا۔چونکہ جنگ عظیم کی فتح کا تمام تر سہرا مسٹر چرچل کے سر تھا اس لئے مسٹر چرچل اور ان کی پارٹی کی کامیابی یقینی تھی۔بلکہ خود لیبر پارٹی کے لیڈر مسٹرائیلی اور مسٹر ماریس بھی جو انتخابی کمیٹی کے چیئر مین تھے۔یہی رائے رکھتے تھے حتی کہ خود انتخاب کے دوران میں پھر ہر چیاں ڈالے جانے کے بعد بھی قریباً تمام اندازے اس امر پر متفق تھے کہ کثرت قدامت پسندوں کی ہوگی بلکہ ڈیلی ہیرلڈ نے نتیجے کا اعلان ہونے سے صرف ایک دن قبل کی اشاعت میں ادارتی نوٹوں میں لکھا کہ بیبر پارٹی نے شروع میں ہی کہہ دیا تھا کہ یہ الیکشن بہت جلدی میں کیا جارہا ہے لیکن کئزر وٹو نے مسٹر چپ چل کی شہرت سے جو انہیں سب پارٹیوں کی گورنمنٹ کے لیڈر ہونے کی وجہ سے حاصل ہوئی فائدہ اُٹھانا چاہا ہے۔ڈیلی میل نے لکھا ” ان لوگوں کے علاوہ جو اپنے یقین پر مصر ہیں کہ مسٹر چہ جیل کو تعی نیز بڑی اکثریت حاصل ہو گی کنری وٹو اور لیبر پارٹی کے ہیڈ کوارٹرز میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں اس خوف سے پریشانی ہے کہ کسی ایک کو بھی کھلی بیچارٹی نہیں ملے گی۔اور جولائی مگر ۲۶ جولائی (س) کو دنیا یہ خبر سنکر دنگ رہ گئی کہ کنز رو ٹو پارٹی کے مقابل لیبر پارٹی ۲۰۴ ووٹوں کی بھاری اکثریت سے جیت گئی ہے چنانچہ برطانیہ کے مقتدر اخبار ے مختلف پارٹیوں کا نتیجہ پر پارٹی ۳۹۳ ) مؤیدین، لبرل ۱۲- انڈنیڈنٹ بیرل ۳۔کمیونسٹ ہو۔کامن ویلتے آئرش نیشلسٹ - کنزرو ٹو ۱۸۹ (مؤیدین) ایسٹر یونینٹ 9۔نیشنل کا برلی نیشنل ۱۲ (انڈیپنڈنٹ ۱۴)