المبشرات — Page 227
۲۴۳ ساتھ محاصرہ میں آگئیں۔برطانیہ اور فرانس کی یہ نازک حالت دیکھی تو اٹلی نے بھی ان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا اس طرح یہ دونوں ملک بیک وقت دو اطراف سے گھر گئے فرانس کو شکست ہوئی اور اس کا ایک بڑا حصہ جرمنوں کے قبضہ میں آگیا۔(۳) لیکن ابھی فرانس میں زندگی کی رمق باقی تھی اس لئے ارجون نر کو جب فرانس موسیور بینو نے تورس ( Tours) سے ملاقات کی تو دوران گفتگو میں اگر چہ صلح کا ذکر بھی آیا لیکن اس وقت تک عام تاثر یہی تھا کہ فرانسیسی بہر حال جنگ جاری رکھیں گے خواہ انھیں شمالی افریقہ کے مقبوضات سے جاری رکھنی پڑے۔اس ملاقات میں امریکہ سے استمداد کا فیصلہ بھی ہوا لیکن اس فیصلہ کے تیسرے ہی دن وزیر اعظم فرانس نے برطانوی حکومت کو پیغام بھیجا کہ امریکہ کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں پہنچا اس لئے اسے دور مارچ م یو کے میثاق سے آزاد کر دیا جائے۔چونکہ فرانسیسی دارالحکومت اس وقت بورڈو منتقل ہو چکا تھا اس لئے یہ پیغام بھیجو اگر موسیور یو بورڈو کے لئے روانہ ہونے والے تھے کہ نہیں اطلاع ملی کہ فرانس کی حکومت تبدیل ہو گئی ہے اور نئی حکومت کا صدر مارشل پٹیان کو تجویز کیا گیا ہے اور اس کا بڑا مقصد صلح ہے" ٹائمز ۲۶ جون ۶ غرضکہ فرانسیسی حکومت چاہتی تو امریکہ سے دوبارہ گفت و شنید کر سکتی تھی اور شمالی افریقہ سے جنگ جاری رکھنا تو اس کے لئے ہر طرح ممکن تھا لیکن اس نے ایسا نہ کیا اور مصلح کرلی جو سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی بنصرہ العزیز کی رؤیا کے عین مطابق تھا۔(۴) فرانس کا یوں جرمنی سے مصالحت کر لینا برطانیہ پر پھیلی بن کر گرا کیونکہ