المبشرات

by Other Authors

Page 38 of 309

المبشرات — Page 38

٣٨ في السَّمَاءِ تُؤْتِي اخْلَهَا كُلَّ حينٍ بِاِذْنِ رَبِّهَا وسوره ابر ایم ) امام ترجمہ : کلمہ طیبہ یعنی پاک شریعیت پاک درخت کی مانند ہے میں کی جڑ ہیں زمین سے پیوست اور شاخیں آسمان میں ہیں اور جو ہر وقت اذن انہی سے تازہ پھیل پیش کرتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود بیسوی صدی میں شجر اسلام کے وہ شاندار کھیل ہیں جو کلام الہی کی حلاوتوں کا بہترین نمونہ اور ضلاله ہیں۔بے شبہ قرآن مجید دینی و دنیاوی علوم کا جامع صحیفہ ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق ان کی تفصیلات کا انکشاف انہی کے ذریعہ سے ہوا ہے اور اُن پر کلام الہی کے انوار کی بارش اس کثرت سے ہوئی ہے کہ اس کی کیفیات کے سائے تک روشن ہو گئے ہیں قرآن مجید میں کلام الہی کے قرآن مجید جو آخری شریعت ہے کلام الہی تین اصولی ذرائع کا بیان کے اصولی ذرائع بیان کرتے ہوئے کہتا ہے۔مَا كَانَ لِبَشَرِ أَنْ يُكَلِمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيَا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ اَوْيُرْسِلَ رَسُولاً فَيُوحَى بِاذْنِهِ مَا يَقاوه انه على حکیمه (سوره شوری ترجمہ : اللہ تعالے کسی بیشر سے کلام نہیں کرتا مگر (بلا واسطہ) وحی کے ذریعہ سے یا پس پر وہ وحی کے ذریعہ سے اور یا پھر وہ اپنا فرشتہ بطور رسول بھیجتا ہے پس وہ اپنے اذن سے جو وحی چاہتا ہے نازل فرماتا ہے۔کیونکہ وہ بلند شان رکھنے والا اور حکیم ہے۔یعنی اس کی بلندشان کا تقاضا ہے کہ تعلیم کے مادی اور سطحی اسالیہ سے ہٹ کر اپنی شان کے مطابق مخصوص رنگ میں گفتگو کرے اور اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے