المبشرات — Page 39
٣٩ کہ وہ محض ایک ہی طرز اور ایک ہی رنگ میں بولنے کا پابند نہ ہو بلکہ اس کے ہاں اپنے منشاء مبارک کے اظہار کے منقد و انداز ہوں جن میں سے اپنی حکمت کے مطابق جیسے اور جس وقت چاہے اختیار فرمائے۔غرض کہ قرآن مجید نے وحی یعنی کلام الہی کے تین اصولی ذرائع منکشف فرمائے ہیں۔ا حقیقی بلا واسطه وحی ۲- پس پرده یا تاریخ وحی - س حقیقی بالواسطہ وحی وحی کے لغوی معنی وحی کے لغوی معنی ہیں الاشارة السريعة ومفردات راغبة یعنی وہ اشارہ جو نہایت تیزی سے کیا جائے۔اصطلاحی معنی | شریعت اسلامیہ میں وحی سے مراد کلام الہی ہے جس کا نزول خدا کے پیغمبروں اور عارفوں پر ہوتا ہے۔مفردات راغب میں لکھا ہے يقال للكلمة الالهية التي تلقى الى انبیاء و اولیاء ہ وحی وہ الہی کلمہ جو انبیاء و اولیاء پر نازل ہو دھی کہلاتا ہے۔لفظ وحی میں حکمت قرآن مجید نے کلام الہی کے لئے وحی کا لفظ اختیار کر کے منکرین کلام الہلی کے اس سوال کا لطیف جواب دیا ہے کہ خدا اپنے کسی ہندے سے بولتا ہے تو دوسرے بندے اس کی آواز کیوں نہیں سن سکتے فرمایا کلام الہی کے قطعی اور واضح ہونے کے باوصف اس کا نزول اس تیزی سے ہوتا ہے کہ اس کے شنوا وہی ہوتے اور ہو سکتے ہیں جنہیں ہم سنانا چاہتے ہیں دوسرے نہیں ہو سکتے۔اس باب میں کلام الہی کی مثال ریڈیو کی نشر گاہ جیسی ہے جس کی آواز افذ ( Catch) کرنے کی صلاحیت ایک خاص ساخت کے آئے کو