المبشرات

by Other Authors

Page 271 of 309

المبشرات — Page 271

۲۸۷ بھول جانا چاہئے۔۔۔میں یقین کرتا ہوں کہ اگر اب بھی مسلمان اختلاف پر زور دینے کی بجائے استاد کے پہلوؤں پر جمع ہو جائیں تو اسلام کا مستقبل تاریک نہیں ا رہے گا ورنہ افق سما پر مجھے سپین کا لفظ لکھا ہوا نظر آتا ہے ! سپین کا خونی ڈرامہ مشرقی پنجاب کے چپہ چپہ میں کس بے دردی سے کھیلا گیا قلم و زبان اپنی سحر بیانیوں اور تخیلات کی ناقابل تسخیر قوتوں کے باوجود اس کا کھینچنے سے عاجز ہیں۔اردو کے مشہور صاحب قلم مولنا رشید اختر ندوی سقوط غرناطہ کے درد ناک حالات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- جولائی کہ ایک منحوس رات تھی جب فلپ سوئم نے بلنیہ میں بسنے والی اس يد نصیب قوم کی موت کے پروانے پر دستخط کئے۔دستخطوں کی سیاہی ابھی خشک نہ ہونے پائی تھی کہ شاہی فوجیں ملک کے طول و عرض میں پھیل گئیں ہر سیتی اور ہر قریبے کو گھیر لیا اور ث ہی منادی ڈھول پیٹ کر چیچنے لگے بدنصیب بوتین دن کے اندر اندر اس ملک کو خالی کر دو تم اپنے ساتھ صرف انتا سامان سے جا سکتے ہوں جتنا کہ تم اٹھا سکوں تین دن ابھی ختم نہ ہوئے تھے کہ ان بدنصیبوں کو ان کے گھروں سے جبرا جانے کا کام شروع ہوا جور تین بچے اور مرد اپنے گھروں کی دیواروں اور دروازوں سے لپٹ لپٹ کر رو ر ہے تھے اور سپاہی ان کی پیٹھوں پر کوڑے برسا رہے تھے۔۔۔جنہوں نے گھر چھوڑے ساحل کو جانے والی سڑکوں پر ہوئے وہ روتے گئے جن کے پاؤں تھک گئے فوج نے ان کی بیٹھوں پر کوڑوں کی بارش کی۔نازک بدن عورتوں کی حالت سب سے تباہ تھی۔انہوں نے آجتک کبھی اس طرح پیدل سفر نہ کیا تھا وہ ناز و نعم میں پلی تھیں چلتے چلتے اُن کے پاؤں سوچ گئے تھے وہ قدم قدم پر رک رک جائیں۔بد معاش پہرہ دار پہلے تو اُن کی پیٹھیں کوڑوں سے سہلاتے پھر اُن کی عریانی کا سامان کرتے عین سڑک پر اُس بدنصیب قافلے کی آنکھوں کے سامنے له الفضل ۲۸ ر ا گست سلاله ۶ 7