المبشرات — Page 116
١٢٠ کہ اس رویا میں حضرت مسیح موعود کو لارڈ کچز کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے اور حضرت خلیفہ اول کو سر او مور کرے کے نام سے۔اور جب ہم دونوں افسروں کے عہدہ کو دیکھتے ہیں تو جس سال حضرت مسیح موعود نے وفات پائی تھی اسی سال لارڈ کچز ہندوستان سے رخصت ہوئے تھے اور سر او مور کرے کمانڈر مقرر ہوئے مگر یہ بات تو پھیلی تھی مجیب بات یہ ہے کہ میں سال اور جس مہینہ میں سر او مور کرے ہندوستان سے روانہ ہوئے ہیں اسی سال اور اسی مہینہ یعنی مارچ 191 ء میں حضرت خلیفہ اسیح فوت ہوئے اور مجھے اللہ تعالٰی نے اس کام پر مقرر فرمایا۔کیا کوئی سعید الخطرات انسان کہہ سکتا ہے کہ یہ رویا شیطانی ہوسکتی تھی یا کوئی انسان اس طرح دو تین سال قبل از وقوع ایک بات اپنے دل سے بنا کر بتا سکتا ہے ؟ کیا یہ ممکن تھا کہ میں دو سال پہلے یہ سب واقعات اپنے دل سے گھڑ کر لوگوں کو شنا دنیا اور پھر وہ صحیح بھی ہو جاتے ؟ یہ کون تھا جس نے مجھے بتا دیا کہ حضرت مولوی صفا مارچ میں فوت ہو نگے 11 ء میں ہونگے اور آپ کے بعد آپ کا جانشین میں ہونگا کیا خدا تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی ایسا کر سکتا ہے؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔اس رویا میں یہ جو دکھایا گیا کہ چارج میں ایک نقص ہے اور میں اس کے لینے سے انکار کرتا ہوں تو وہ ان چند آدمیوں کی طرف اشارہ تھا کہ جنہوں نے اس وقت فساد کھڑا کیا۔اور اللہ تعالے نے اس رویا کے ذریعہ سے حضرت مولوی صاحب پر سے یہ اعتراض دور کیا ہے جو بعض لوگ آپ پر کرتے ہیں کہ اگر حضرت مولوی صاحب اپنے زمانہ میں ان لوگوں کے اندرونہ سے لوگوں کو علی الاعلان آگاہ کر دیتے اور اشارات پر بھی بات