المبشرات — Page 117
IM نہ رکھتے یا جماعت سے خارج کر دیتے تو آج یہ فتنہ نہ ہوتا اور مولوی صاحب کی طرف سے قبل از وقت یہ جواب دے دیا کہ یہ نقص میرے زمانہ کا نہیں بلکہ پہلے کا ہی ہے اور یہ لوگ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں ہی بگڑ چکے تھے ان کے بگڑنے میں میرے کسی سلوک کا دخل نہیں مجھ سے پہلے ہی ایسے تھے ( برکات خلافت طبع اول ۲۵ ۲۶ ) شوراء میں میں ستمبر کے مہینہ میں چند دن کے لئے شملہ گیا تھا جب میں وہاں سے چلا ہوں تو حضرت خلیفہ اسیح کی طبیعت اچھی تھی لیکن وہاں پہنچ کر لینے پہلی یا دوسری رات دیکھا کہ رات کا وقت ہے اور قریبا دو بجے ہیں ہیں اپنے کمرہ میں (قادیان میں بیٹھا ہوں مرزاعبدالغفور صاحب دیو کلانور کے رہنے والے ہیں، میرے پاس آئے اور نیچے سے آواز دی میں نے ار کر ان سے پوچھا کہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ حضرت خلیفہ ایسیح کو سخت تکلیف ہے تب کی شکایت ہے ایک سو دو کے قریب تب ہو گیا تھا آپ نے مجھے بھیجا ہے کہ میاں صاحب کو جا کر کہہ دو کہ ہم نے اپنی وصیت شائع کردی ہے مارچ کے مہینہ کے بدر میں دیکھ لیں جب سینے یہ رؤیا دیکھی تو سخت گھبرایا اور میرا دل چاہا کہ واپس لوٹ جاؤں لیکن لینے مناسب خیال کیا کہ پہلے دریافت کرلوں کہ کیا آپ واقع میں بیمار ہیں سوئینے وہاں سے تار دیا کہ حضور کا کیا حال ہے جس کے جواب میں حضر نے لکھا کہ اچھے ہیں یہ سکیا کہنے اسی وقت نواب محمد علی خاں صاحب انہیں مالیر کوٹلہ کو اور مولوی سید سرور شاہ صاحب سنادی تھی اور غالباً نواب صاحب کے صاحبزادگان میاں عبید الرحمن خاں صاحب میاں عبداللہ خاں صاحب میاں عبد الرحیم خان صاحب میں سے بھی کسی نے وہ رویا سنی ہوگی