المبشرات — Page 297
٣١٣ لیتا تھا تو بے اختیار لوگ اس کی طرف کھینچتے چلے جاتے۔اور کوئی ان کو تو کی روک نہ سکتا۔انسانوں پر ہی کیا موقوف ہے ہر ایک چیز درخت وغیرہ تک اس کی طرف کھینچنے لگتے۔اور جب وہ سانس باہر نکالتا جہاں تک پہنچتا وہاں تکب کی ہر ایک چیز کو جلا کر راکھ کر دیتا۔اس وقت لینے اپنے دوستوں میں سے ایک کو دیکھا جس پر وہ حملہ آور ہو رہا تھا۔میں بھاگ کر گیا کہ اس کی مددکروں لیکن وہ ادھا اس سے ہٹ کر مجھے پر حملہ کرنے لگا۔اس وقت مجھے کو وہ اثر وھا یا جوج ماجوج ہی معلوم ہونے لگا اور خیال آیا کہ اس کا سامنے ہو کر تو مقابلہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ لا يدانِ لاَحَدٍ لِقِتالِهِمَا ؟ کی اس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکے گا اور یہ حدیث یا جوج ماجوج کے متعلق ہے۔اس سے مجھے کچھ گھڑا ہٹ سی پیدا ہوئی لیکن معا یہ بات مجھے بجھائی گئی کہ اس حدیث کا تو یہ مطلب ہے کہ اس کے سامنے ہو کر کوئی مقابلہ نہیں کر سکے گا۔اگر کسی اور طریق سے حملہ کیا جائے تو ضرور کامیابی ہوگی اس کے بعد تینے دیکھا کہ ایک چارپائی پیدا ہوئی ہے جو بنی ہوئی نہیں صرف کیوں ہے اور وہ اس اثر دمے کی پیٹھ پر رکھی گئی ہے میں اس پر کھڑا ہو گیا اور ہاتھ اُٹھا کر دعا کرنی شروع کر دی ہے جس سے وہ پگھلنا شروع ہو گیا اور آخر کار مرگیید یہ سینے اس کے سامنے ہو کر مقابلہ نہیں کیا بلکہ اوپر ہو کر کیا تھا اس لئے کامیاب ہو گیا۔" له اخبار الفضل مورخہ ۲۶ مئی شده ۵۰ کالم ۲۷ - ۳ نیز الفضل ، ارمئی دو منہ کالم کے