المحراب — Page 45
ان پر سوار ہو کہ قادیان پہنچا کرتے تھے اور غر بار یہ قریباً گیارہ میل کا فاصلہ حضرت مولانا غلام رسول را جیکی حضرت حافظ غلام رسول وزیر آبادی پیدل طے کر کے دیار حبیب میں پہنچ جاتے تھے حلیہ سالانہ پر چونکہ آنے والوں شیخ غلام احمد نے ایمان لانے والے شیخ عبد القدوس نے ایمان لانے والے) اور کی کثرت ہوا کرتی تھی اس لئے مرکز سلسلہ کی طرف سے جو نا ظم استقبال مقرر مدرسہ احمدیہ کے چند طلبا رتے بھی جلسہ میں تقاریر کیں۔ہوا کرتے تھے وہ مع اپنے معاونین کے بالہ پہنچ جایا کرتے تھے اور تمام مہمانوں کے بینر اور ضروری سامان او پر چٹیں چسپاں کر کے اپنے انتظام کے ماتحت چھکڑوں پر ناد کر قادیان پہنچاتے تھے راستہ میں سردی کا موسم ہونے کی وجہ سے جگہ جگہ اکیس واں جلسہ سالانہ آگ جلانے کا بھی انتظام ہوا کرتا تھا۔تاکہ لوگ آگ تاپ کو سردی کی شدت سے پہنچ سکیں چونکہ آنے والوں کی بہت کثرت ہوا کر تی تھی اس لئے اس سٹرک پر جو بالہ سے قادیان کو جاتی ہے عموما گڑھے پڑے رہتے تھے۔یہ مختصر حالات اس لئے ذکر کر دیئے گئے ہیں تا آنے والی نسوں کو یہ معلوم ہو کہ ان کے بزرگ کس قدر لایت برداشت کر کے اپنے امام کی ملاقات کے لئے مرکز سلسلہ جایا کرتے تھے۔(حیات نور صفحه ۴۷۷) بلیوان جلسه سالانه منعقده ۲۹ تا ۲۹ دسمبر ۶۱۹ بمقام بیت الاقصی قادیان منعقده ۲۵ تا ۱۲۷ دسمبر ۱۹۱۲ بمقام بیت الاقصی قادیان حضرت خلیفة المسیح الاول نے ۲۵ دسمبر کو بعد نماز ظہر حاضرین جیسے۔خطاب فرمایا در آپ نے فرمایا جب کسی آدمی کا تعلق اللہ تعالے سے بڑھتا جاتا ہے تو حضرت جبریل علیہ السلام کو نکم ہوتا ہے کہ اس سے تعلق پیدا کر و۔اس طرح جبرئیلی رنگ کی مخلوق سے تعلق اور قبولیت کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے اب وہ قبضہ ایک کہانی کی طرح ہو گیا بینینی مت کرو۔بڑائی شیخی اور تحر ے لئے نہیں تحدیث نعمت کے لئے کہتا ہوں کہ میں نے خود ایسے فرشتوں کو دیکھا ہے اور انہوں نے ایسی مدد کی ہے کہ عقل دفکر درہم میں نہیں آسکتی اور انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ دیکھو ہم کس طرح اس معاملے میں تمہاری حضرت خلیفہ المسیح الاول کا ارادہ سلسلہ کے جلسہ سالانہ کے موقع پر کوئی خاص تقریر کرنے کا نہ تھا۔آپ کا منشا یہ تھا کہ ہر روز در کس دیتے ہی ہیں اسی میں سہولت مدد کرتے ہیں۔کر لیں گے۔مگر ایک دوست کی تحریک پر حضور نے ۲۷ دسمبر کو بعد نماز ظہر اڑھائی پھر آپ نے کو نو مع الصادقین کی تشریح کرتے ہوئے صحابہ کرام حضرت محمد گھنٹہ تک تقریر فرمائی۔اس تقریر میں حضور نے ناسخ و منسوخ کے مسئلہ کی حقیقت کی کا میابیوں کا تذکرہ فرمایا اور احباب کو تلقین کی کہ ولاتموتن الارانتم علم حدیث کی ضرورت و غیرہ مسائل بیان کرنے کے بعد جماعت کو تقوم باسم استحاد مسلمون فرمانبردار ہو کر مر و ایسا ہی واعتصمو بحبل الله جميعا ولا و اتفاق اور تفرقہ سے بچنے اور نیکی اور فضول سینوں کو چھوڑ دینے کی نصیحت فرمائی۔تفرقو پڑھ کر باہمی محبت والفت اور اتفاق داتحاد پر زور دیا اور باہمی دشمنی نیز خلافت کی ضرورت و اہمیت واضح فرمائی۔خلاصه تقریر از از تاریخ احمدیت جلد چهارم صدا ۲ ، ۴۱۲) دوران جلسه روزانه درس القرآن کا سلسلہ بھی جاری رہا۔حضرت خلیفة المسیح الاول کے خطاب کے علاوہ علیہ میں درج ذیل تقاریر ہوئیں۔مدارج تقوی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمد احمد قرآن شریف کی خوبیاں حضریت چودری فتح محمد صداقت حضرت مسیح موعود حضرت مولوی محمد احسن امروزی اور عداوت اور تفرقہ کو چھوڑنے کی نصیحت کی۔(حیات نور صفحه ۵۸۷) ۲۶ دسمبر کو حضور نے گزشتہ روز کی تقریر کا مضمون مکمل فرمایا۔ر دسمبر بروز جمعه حضرت خلیفہ المسیح الا دل نے بیت النور قادیان میں خل حمد ارشاد فرمایا یں میں آپ نے سورۃ والعصر کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے احباب جماعت کو نصائح فرمائیں۔حضرت خلیفہ المسیح کی تقاریہ کے علاوہ جلسہ میں درج تقاریر ہوئیں۔حضرت مسیح موعود کی زندگی کا اصل مقصد در جماعت کے فرائق ) حضرت داگر مرزا یعقوب بیگ