المحراب

by Other Authors

Page 44 of 207

المحراب — Page 44

اٹھارہواں جلسہ سالانہ منعقده ۲۵ تا ۲۷ مارچ ۱۹ بمقام بیت الاقصی قادیان ه در مارچ بروز جمعه حضرت خلیفہ المسیح الاول نے بیت الانعلی میں رقت آمیز خطبه جمعه است و فرمایا انیسوال جلسه سالانه منعقده ۲۵ تا ۲۷ دسمبر ۱۹ ممقام بیت الاقصی قادیان علالت طبع کے یا وجود حضرت خلیفہ المسیح الاوں نے اس جلسہ سے دو دفعہ خطاب فرمایا۔۲۵ دسمبر کو حضور نے بعد نماز ظہر لا اله الا اللہ کے فقرہ پر تقریر مائی می کو صبح گیارہ بجے سے نماز ظہر نیک حضرت صاحیزاده مرزا بشیرالدین محمد احمد کثرت مخلوق کے باعث چونکہ حضور کی آواز دور تک نہیں پہنچ سکتی تھی اس لئے آپ نے چار افراد کو مقرر کیا کہ وہ آپ کے الفاظ دہراتے جائیں اس طرح سب لوگوں نے خطاب فرمایا۔یک آواز پہنچائی گئی سلسلہ احمدیہ میں یہ پہلا موقع تھا کہ جیب ایب انتظام کرنا پڑا۔دسمبر کو صبح گیارہ بجے سے نماز ظہر زنگ حضرت مولوی محمد حسن امروہی احباب کی کثرت کے باعث بہیت الا قعلی ساری بھی گئی تھی لوگوں کو گھروں کی چھتوں تے اور نماز ظہر وعصر کی ادائیگی کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الاول نے تھر یہ دعا کے اور گلی کوچوں میں کپڑے بچھا کہ نماز ادا کرنی پڑی۔خطبہ جمعہ کے بعد حضرت میر ناصر نواب نے اپنا مضمون یستا یا جس میں پیشہ ور احباب کو تلقین کی گئی تھی کہ وہ اپنی کمزوریوں کو رفع کر کے سچائی و دیانت اختیار کریں۔آپ کی تقریر کے بعد طلبا میں انعامات تقسیم کئے گئے۔موضوع پر تقریر فرمائی۔حضور نے فرمایا۔ادعوني استجب لکم یہ ایک ہتھیار ہے اور بڑا کارگر ہے لیکن کبھی اس کو چلانے والا کمزور ہو تا ہے اسلئے اس ہتھیار سے منکر ہو جاتا ہے وہ ہتھیار دعا کا ہے جس کو تمام دنیا نے چھوڑ دیا ہے۔ہماری جماعت کو چاہیئے کہ اس کو تیز کریں اور اس سے کا م لیں جہاں تک ان سے ہو سکتا ہے دعائیں مانگیں اور نہ تھیں میں ایسا بجا ہوں کہ دہم بھی نہیں ہو سکتا کہ میری زندگی کھتی ہے اس لئے یہ میری آخری وصیت ہے اس کے بعد بورڈنگ ہاؤس کے ایک کمرہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا بیر الدین محمود احمد کی صدارت نہیں احمد یہ کانفرنس کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف جماعتوں کے صد را در سیکرٹری شامل ہوئے۔دوسرے دن بہرہ مارچ کو حضرت میر حامد شاہ صاحب نے نظم پڑھی جی کے بعد علیہ سالانہ کی رپورٹ پڑھ کر سنائی گئی، نماز ظہر کے بعد حضرت خلیفہ ایسے الاول نے تقریر فرمائی ہیں کہ لا الہ الا اللہ کے ساتھ دعا کا ہتھیار تیز کرد تمہاری جماعت میں میں آپ نے علم لدنی کے فوائد پر حقائق و معارف کا ایک دریا بہا دیا۔مارچ کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمد احمدکی تازہ نظم سنائی گئی تفرق نہ ہو کیونکہ جب کسی جماعت میں تفرقہ ہوتا ہے تو اس پر عذاب آجاتا ہے۔پھر حضرت صاحبزادہ صاحب نے چند آیات قرانیہ کی لطیف پیرا یہ میں تشریح فرمائی حضرت خلیفہ المسیح کی دونوں تقاریر مدرسہ احمدیہ کے پرانے بورڈنگ آپ کی تقریر کے بعد انجمن تشهید الادیان کی سالانہ رپورٹ پڑھ کر سنائی گئی۔کے صحن میں ہوئیں۔اس جلسہ میں کثیر جماعت حضرت خلیفہ المسیح کے ہاتھ پر بیعت کر کے داخل سلسلہ عالیہ احمد یہ سوئی۔۔(حیات نور صفحه ۴۴۶ - ۴۲۷) ر تو میرے کو حضرت حکیم مولوی نورالدین خلیفة المسیح الاول قادیان میں حضرت نواب محمد علی خان کی کو بھی سے واپس تشریف لاتے ہوئے گھوڑے پر ۲۰ دسمبر کو ہی بعد نماز مغرب حضور نے تمام احمد یہ انجمنوں کے عہدیداران و کارکنان سے سے خطاب فرمایا اور ان کو قمبنی تصارح فرمائیں۔( سبات نور صفحه ۴۷۰ تا ۴۰۰) (ضروری نوٹ ) شرکائے جلسہ کی تعداد کے ساتھ اگر اس وقت کے سفر کی صعوبتوں کا سے گر پڑے اور آپ کی پیشانی پر شدید چوٹ آئی۔اس وجہ سے حضور کی طبیعت اندازہ بھی ہو تو زیاده از دیاد ایمان کا باعث ہوتا ہے۔قادیان میں جب تک ایک لیا ئ اللہ نا ساز رہی جلسہ کے ایامت تک زخم پوری طرح مندمل نہیں ہوا تھا۔حضور یل گاڑی نہیں آئی تھی یعنی سایر تک) بٹالہ سے قادریان پہنچنے کا یہ انتظام تھا کی علالت طبیع کے یا وجود اس سال جیلہ اپنی مقررہ تاریخوں پر منعقد ہوا۔کہ اس زمانہ میں پرانی قسم کے لیے چلا کرتے تھے۔مالدار اور درمیانی قسم کے لوگ ۴۵