المحراب

by Other Authors

Page 3 of 207

المحراب — Page 3

اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا دیکھو! خُدا نے ایک جہاں کو جھکا دیا ! گم نام پا کے شہرہ عالم بنا دیا ! جو کچھ مری مراد تھی سب کچھ دیکھا دیا میں اک غریب تھا مجھے بے انتہا دیا دنیا کی نعمتوں سے کوئی بھی نہیں رہی جو اس نے مجھ کو اپنی عنایات سے نہ دی اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا ئیں خاک تھا۔اُسی نے ثریا بنا دیا میں تھا غریب و بے کس و گم نام وبے بہیر کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر لوگوں کی اس طرف کو ذرا بھی نظر نہ تھی میکے وجود کی بھی کسی کو خبر نہ تھی اب دیکھتے ہو کیسا رجوع جہاں ہوا اک مرجع خواص یہی شادیاں نہوا براہین احمدیہ حصہ پنجم )