المحراب — Page 2
قال اللہ تعالیٰ جل شانه بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ و إِذْ قَالَ إِبْرَاهِمُ رَبِّ آرِي كَيْفَ تَى الْمَوْتُ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنُ قَالَ بَلَى وَلكِنْ لِيَطْمَئِنَ قَلْبِي قَالَ فَخُذُ أَرْبَعَةً مِنَ الطَّيْرِ فَهُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلَ عَلَى كُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِيْنَكَ سَعْيَا وَاعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَزِيزُ حَكِيمُ (سورة البقره آیت (۲۶۱) اور اس واقعہ کو بھی یاد کرو) جب ابراہیم نے کہا تھا کہ اسے میکے رب! مجھے بتا کہ تو مردے کس طرح زندہ کرتا ہے۔فرمایا کیا تو ایمان نہیں لا چکا ہے (ابراہیم نے کہا، کیوں نہیں ( ایمان تو بے شک حاصل ہو چکا ہے) لیکن اپنے اطمینان قلب کی خاطر میں نے یہ سوال کیا ہے) فرمایا۔اچھا ! تو چار پرندے لے اور ان کو اپنے ساتھ سدھائے پھر ہر ایک پہاڑ پر ان میں سے ایک ایک حصہ رکھ دے۔پھر انھیں گا۔دو تیری طرف تیزی کیسا تھ چلے آئیں گے وبر جان سے کہ اللہ غالب (اور) حکمت والا ہے۔قال رسول الله ما علم أَبْشِرُوا وَ أَبْشِرُوا إِنَّهَا أُمَّتِي مَثَلُ الْغَيْثِ لَا يُدْرَى آخِرُهُ خَيْرَ امْ أَوَّلُهُ أَوْ لَحَدِيقَةٍ أَطْعَمَ مِنْهَا فَوْجًا عَامَّا ثُمَّ أَطْعَمَ مِنْهَا فَوْجًا عَامًا لَعَلَّ أَخِرُهَا فَوْجًا أَن تَكُونَ أَعَرَضُهَا عَرْضًا وَأَعْمَقُهَا عُمْقًا وَأَحْسَهَا حُسْنًا (ترمذی) یعنی اسے سلمان خوش ہو جاؤ اور خوب خوشیاں مناؤ کہ میری امت کی مثال اس بارش کی طرح ہے جسکے بارے میں ر نہیں کہا جاسکتا کہ اسکی ابتدا بہتر ہے یا انتہایا میری امت کی مثال اُس کستان کی سی ہے میں میں پہلے ایک فوج مدتوں خوراک حاصل کرتی رہی اور پھر ایک اور فوج مدتوں استفادہ کرتی رہی اور یہ نامکن نہیں کہ دوسری فوج وسعت تعداد اور کام کو عمدہ طور پر بجا لانے میں پہلی فوج سے کئی قدم آگے ہو۔