المحراب — Page 170
مشن ہاؤس - کچی پکائی کا انتظام تھا جبکہ سالن اور تبادل رضا کار خود پکاتے تھے۔بہلوہ کے لنگر خانہ کے عادی افراد کو دال اور آلو گوشت کی جگہ روسٹ مربع دیکھ کر خوش گوار منعقده ۳۱ جولائی تا ۱۲ اگست ۹۸۷ حیرت ہوئی پرالی کی بجائے قوم کے گدے تھے۔جلسہ گاہ زنانہ و مردانہ کے لئے دو بڑی مارگیر نصب کی گئی تھیں اور چالیں بمقام: اسلام آباد تلفورڈ برطانیہ کا روانہ کرائے پر لئے گئے تھے۔اُردو تقاریر کا انگریزی، عربی اور انڈونیشین زبانوں اسم جولائی جلسے کا پہلا دن جمعہ کا دن تھا حضور ایدہ الودود نے خطبہ جمد ارشاد میں ترجمہ کا انتظام تھا۔جلسہ کے مجملہ انتظامات جماعت احمدیہ انگلستان اور دوسرے فرمایا۔نماز جمعہ کے بعد شام چار بجے حضور جلسہ گاہ تشریف لائے۔ممالک سے آئے ہوئے رضا کاروں نے انجام دیئے۔نمائش مکتب کا اہتمام بھی کیا گیا اس جلسہ کی اہم بات یختی کہ جان گاہ مختلف قسم کے جھنڈے بھی لہرائے گئے تھے حضرت تھا۔ان میں سب سے نمایاں مختلف زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم تھے۔منعقده ۲۵ ۲۶ ۲۷ جولائی ۱۹۸۶ء فالية ليس الاب الی اللا على بنشر العربية نے جل گا پہنچکر سب سے پہلے بوائے احمدیت لہرایا۔حضور نے افتتاحی خطاب میں فرمایا "دنیا کا ہر مذہب اور اس کے ماننے والے قابل احترام ہیں۔یہ وہی عظیم الشان اصول ہے جو صرف قرآن کریم تے بیان فرمایا ہے۔جو یہ جماعت برطانیہ کا اکیسواں جلسہ تھا۔منصور ایدہ الودود نے تینوں دن مطالب شخص حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لایا اس پر گھر کافتوی ہی فرمایا احباب جماعت نے مجموعی طور نہیں گھنٹے اپنے آقا کے خطابات گنے۔لے گا لیکن نہیں کہ وہ جہنم کا ایندھن ہے۔خدا ہیجانی کے بہانوں سے مالے گا جو قومی کے یکم اگست کو دوسرے اجلاس میں احباب جماعت سے خطاب کرتے ہوئے دنیا ۲۵ جولائی کو حضور نے اختتامی خطاب فرمایا۔مخدا کا بے حد شکر اور فضل و کرم اس معیار پر انہتا ہے وہ دین کے پیغام کو جب بھی سنے گا اس کو قبول کرلے گا۔ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق اور دیوانے دنیا کے ایسے ایسے دور دراز مالکوں سے جو مشرق کا کنارہ اور ایسے ایسے ملکوں سے جو مغرب کا کنارہ کے کونے کونے میں جماعت احمدیہ کی تیز رفتار ترقی کا ایمان افروز تذکرہ فرمایا۔کہلاتے ہیں اور ان جگہوں سے جہاں مشرق اور مغرب کا امتیاز مشکل ہے۔وہاں سے اس وقت خدا کے فضل کریم سے ۱۴ ممالک میں احمدیت داخل ہو چکی ہے۔اللہ کے ذکر کے لئے تشریف لاتے ہیں اور حضرت اقدس بانی مسلہ احمدیہ سکا الہام گزشتہ تین سال میں 4 بہ نے خانہ ہائے خدا اور مراکزہ نماز قائم ہوئے ایک سال میں یکن تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا بڑی شان سے ۳۵۸ نئی جماعتوں کا قیام عمل میں آیا۔۷ر ممالک میں ریڈیو اور ٹی وی پر جماعت کے پروگرام نشر ہوئے۔افریقہ کے 14 ممالک میں ہوا مراکز قائم ہوچکے ہیں۔امریکہ مالوین جولائی کو حضور نے صوبہ توں سے خطاب فرمایا جس میں عورت کے مقام پر رناطہ سپین اور آئر لینڈ میں عمارات اور قطعات تعمیدے گئے۔۱۴۰۰۰ کیسٹس تیار میشنی ڈالی اور عورت کے حقوق کا تفصیلی تذکرہ فرمایا۔کی گئیش، ۱۶۸، اخبارات میں جماعت کے باتے نہیں لکھا گیا۔حضرت صاحب کے خطبات عور تو اسے خطاب ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی آزادی کی جو تحریک اور مجالس عرفان، انٹر دیونز 9 ارگھنٹے ٹی وی پر دکھائے گئے۔تین نئی زبانوں میں قرآن کریم چلائی وہ عائلی زندگی کو جنت بنانے والی ہے جگہ موجودہ آزادی نسواں کی تحریکیں نیوی کے ترجمے ہوئے پریس قائم کیا گیا۔پورا ہو رہا ہے۔(ضمیمہ تحریک جدید جولائی ) جہنم کی طرف لے جانے والی ہیں۔دین حق نے عورت کے حقوق کی مکمل حفاظت کی ہے ور اگست کو اختتامی خطاب میں قرآنی تعلیمات کی رو سے عدل کا مضمون بیان درمایا۔حضور نے فرمایا۔اور صوبہ توں کو مرد کے ساتھ برابری کا حق دیا ہے۔(ضمیمہ خالد اگست ماد) ۲۷ جولائی جلسہ کے آخری اجلاس سے خطاب فرماتے ہوئے حضور نے قتل مرتد اللہ تعالیٰ کے عہدوں کو پورا کرنے والوں کو سب کچھ عطا کیا جاتا ہے۔ہند کنی سے عقیدہ کی قرآنی آیات اور احادیث نیوگیر کی رو سے تردید فرمائی اور اس کے تمام اس قدر قابل نفریت عادت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی یہ علامت پہلووں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔خطاب کے آخر میں حضور نے افراد جماعت کو پاکستان بیان کی ہے، آخر میں حضور نے احباب جماعت کو دعاؤں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کے لئے اور بنی نوع انسان کے لئے۔تمام مصیبت زدگان کے لئے ہواؤں کے لئے فرمایا کہ عائیں کرتے ہوئے آئیں اور دعائیں کرتے ہوئے بائیں ہمارا اوڑھنا بچھونا ڈھا دعا ہی ہونا چاہیئے۔اسلام کی تعلیم بڑی سین ہے بڑی دلکش ہے لیکن اس پر مل کر تا را شکل ہے کیونکہ اس پر انسان اللہ تعالے کے فضل کے بغیر عمل نہیں کر سکتا۔اس لئے اس کے لئے دعا کی بہت ضرورت ہے اور یہ آپ کا آخری قدم خدا کی جانب بڑھنا چاہیئے اس لئے جب ینک وہ خدا توفیق نہ دے اس وقت تک خدا تعالی کی طرف انسان کا قدم نہیں بڑھتا اور مظلوموں کے لئے دعاؤں کی تحریک فرمائی۔کتابوں اور دیگر لٹریچر کی نمائش لگائی گئی۔تعداد حاضرین ۵۰۰۰ سے ۶۴۸۰ تک FIF