المحراب

by Other Authors

Page 7 of 207

المحراب — Page 7

جلسہ سالانہ کی برکتیں پیغام حضرت سیدہ مریم صدیقه صدرالجنـــه امــاء الله پاکستان حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے جماعت احمدیہ کے افراد کی تربیت کے لیے جو ذرائع اختیار کیے ان میں سے ایک اور میرے نزدیک سب سے بڑا اور اہم ذریعہ جلسہ سالانہ کا انعقاد ہے جس کے قیام پر اس سال سوسال پورے ہو رہے ہیں۔اس ذریعہ سے لوگ ہر سال جلسہ پر آتے تھے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے آپ کے قریب ہوتے تھے اور کونوا مع الصادقین پر شل کرتے ہوئے اپنا ایمان تازہ کرتے تھے روحانی فیض حاصل ہوتا تھا۔آپ کی نصائح پر عمل کر کے جب قادیان سے واپس جاتے تو ایک نئے انسان بن چکے ہوتے تھے جن کے دلوں سے برائیاں دور ہو کر نئے ایمان کے جذبے ان میں داخل ہو چکے ہوتے تھے تو سب سے پہلی عرض جو اپنے اندر بہت سی برکتیں رکھتی تھی اپنے امام سے ملاقات اور ان سے فیض حاصل کرنا ہوتا تھا۔دوسری بہت اہم برگت ان جلسوں کی یہ تھی کہ مختلف جگہوں سے آنے والے احمدی ایک دوسرے سے میں ان کے حالات کا انکو علم ہو آپس میں اخرت اور محبت کا جذبہ پیدا ہو۔چنانچہ آج سو سال گزرنے پر ایک بہت ہی پیارا نظارہ نظر آتا ہے کہ حجامہ سالانہ کے موقع پر دنیا کے کونے کونے سے احمدی آتے ہیں۔ہر ملک کے رسم ورواج جدا ہوتے ہیں غذائیں مختلف رہنے کے طریق الگ الگ مگر احمدریت کے ذریعہ سے وہ ایک ہی لڑی کے موتی بن بنکے ہیں اور ایک محمدی خواہ مہند وستان کا رہنے والا ہو یا امریکہ کا روس کا ہو یا چین کا پاکستان کا ہو یا یورپ کا افریقہ کا ہو یا بنگلہ دیش کا سب کے دلوں میں ایک ہی دل دھڑکتا ہے۔آپس میں سگے بھائیوں سے بھی زیادہ محبت ہوتی ہے۔جب سال کے بعد پچھڑے ہوئے ملتے ہیں تو ایک پر تکلف نظارہ ہوتا ہے اور دنیا پیشیم حیرت سے دیکھتی ہے کتنا پیار ہے ان لوگوں میں کوئی کسی جگہ کا رہنے والا کوئی کسی جگہ کا مگر اپنے سگے بھائیوں سے بھی زیادہ پیار اور شفقت سے ملتے ہیں عرض إنما المؤمنون اخوا کا نظارہ حقیقت میں جلسہ سالانہ کے موقع پر ہی نظر آتا ہے۔تیسرا بڑا فائدہ جلسہ سالانہ پیر دینی علم بڑھانا اور اپنی معلومات وسیع کرنا ہے وہ جلسہ کے موقع پر امام جماعت احمدیہ کی تقاریر سنتے ہیں اور دوسرے علما کی بھی ٹھٹوی تقاریرا اور ہر سال اپنے علم اور معرفت ہیں اضافہ کرتے ہیں اس سے بہت بڑا ذکر ان کا علم بڑھتا ہے جتنی کتب پڑھنے سے پڑھے۔پو نھی عرض یہ کہ جلسہ سالانہ کا سفر محض اللہ سفر ہوتا ہے جس میں کوئی دنیاوی عرض شامل نہیں ہوئی۔اس لیے جو بھی یہ سفر اختیار کرتا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر فضل نازل ہوتا ہے۔بانی جولیا برکت یہ کہ جوں جوں جماعت کی تعداد میں اضافہ ہوا ہر سال زائرین جلسہ کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔اتنے آدمیوں کے ظہرانے کا انتظام اور ان کی ضروریات پوری کرنا۔جلسہ گاہ میں خاموشی کے ساتھ بٹھانے کا انتظام کرنے کے لیے بہت سے معادن کام کرتے ہیں مردوں میں بھی اور عورتوں میں بھی اور اس طرح ان کی تنظیمی قابلیت میں اضافہ ہوتا جاتاہے وہ بغیر کسی غرض کے خدمت کرتے ہیں جو ہمارا بہت بڑا فرض ہے۔اسی طرح اور بھی بہت سی برکتیں ہیں اور روحانی فیوض ہیں جو جلسہ سالانہ میں خدا تعالیٰ کی خاطر مشتمل ہونے والے حمل کرتے ہیں۔وہ جلسہ جو صرف ستر آدمیوں کے ساتھ شروع کیا گیا تھا آج دنیا کے ہر ملک میں بڑے اہتمام اور بڑی شان سے منعقد ہو رہا ہے اور ان جلسوں سے فائدہ اٹھانا ہمارا فرض ہے میں ملک میں بھی جلسہ سالانہ ہو گا وہ اسی جلسہ کامل ہوگیا جو بانی سلسلہ احمدیہ نے منعقد کیا تھا اور حسبکی کامیابی کے لیے آپ نے بہت دعائیں کی تھیں اور شدید خواہش کا اظہار فرمایا کہ سب پاک ہو جائیں۔فرمایا تھاکہ اس جلسے سے مدعا اور مطلب یہ تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر حاصل کر لیں کہ ان کے دل آخرت کی طرف بھی جھک جائیں اور ان کے اندر خدا تعالی کا خوف پیدا ہواور وہ زہر اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیز گاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مواخات میں دوسروں کے لیے نمونہ بن جائیں اور انکار اور تواضع اور راست بازی ان میں پیدا ہوا اور دینی مہمات کے لیے سرگرمی اختیار کریں خدا کرے حضرت مسیح موعود کی خواہش پوری ہو اور احمدیہ جماعت کا ہر فرد آپ کی ان خواہشات کو پورا کرنے والا ہو اور یہ جلسہ سالار جہاں بھی منعقد ہو دنیا میں ایک روحانی انقلاب لانے کا باعث بنے۔اسے خدا تو ایسا ہی کہ۔اور اگر کسی ملک مں جلسہ منعقد کرنے میں روکیں ہوں تب بھی ان دنوں میں خصوصاً جو جلسہ سالانہ کے ایام کہلاتے ہیں خصوصی دعائیں کرنی چاہئیں اور باقی دنوں میں عموما کہ اے اللہ ہم سب ان جلسوں کی بنیادی عرض کو پورا کرنے والے ہوں تو ہم سے راضی ہو جا ہمارے دلوں میں صرف تیری رضا حاصل کرنے کی خواہش ہو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے ہوں۔بنی نوع انسان کی خدمت کرنے والے ہوں۔آمین۔