المحراب — Page 64
نے بھی خطاب فرمایا۔فرمائی جو کہ نہایت پر معارف اور لیے حد ایمان افروز تھی۔جلسہ میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان، مولوی ظهور حسین صاحب سجا را خواتین میں سے محمدی بیگم صاحبہ ، اہلیہ صاحبہ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب ، زبیده صاحبه اروشن بنجه به حضرت سیده ساره بیگم صاحبه حرم حضرت خلیفه ای اور میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر فاروقی نے بھی تقاریر کیں۔استان مری بیگم صاحب اور سیدہ فضیلت بیگم صاحبہ نے تقاریر کیں۔بیالیس واں جلسہ سالانہ منعقده ۲۶ ۲۷ ۲۸ دسمبر ۶۱۹۳۳ بمقام ملحقه میدان بیت النور قادیان جلسہ پر ہندوستان بھر کے علاوہ افغانستان اور سیلوں سے بھی احباب تشریف لائے تھے۔نیز صاحب حیثیت معزز غیر احمدی، غیر مبائع، مہندرا در سکھ حضرات بھی جلسہ میں شریک ہوئے۔امسال جلاس سالانه درمستان المبارک کے مہینہ میں آیا۔اور سخت سردی کے بارجو منتظمین اور کارکن سخت مشقت اٹھا کر روزہ داروں کے لئے افطار و سحر کے وقت بیعت پر اس علیسه پر ۱۲۸ دسمبر کی رات تک بعیت کرنے والوں کی تعداد ۲۶۴ شمار کی گئی جن میں معزز تعلیم یافتہ اور بار سورخ احباب کے علاوہ لعین غیر مبالعین بھی شامل تھے۔جاه لانه مستورات رای سال جلسہ گاہ کو کافی وسیع کر دیا گیا تھا۔پھر بھی حضرت خلیفہ المسیح کی تقریر کے وقت بہنوں کو ارد گرد کے مکانات میں بیٹھنا پڑا۔حضور نے ۲۷ دسمبر کی صبح کے اجلاس میں خواتین سے خطاب فرمایا حضور نے اپنے اس خطاب میں فرمایا مہ آج کل عورتوں کا تعلیمی ڈگریاں لینا فیشن ہو گیا ہے۔۔۔پہلے بعنوان تھا جہالت کا اب جنون ہے علم کا۔حالانکہ یہ بھی ایک جہالت ہے۔حضور نے جماعت احمدیہ کی ضروریات کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری ضروریات ایسی ہیں کہ نہیں ڈگریوں کی ضرورت نہیں۔خواتین کو چاہیے کہ وہ علم دین سیکھیں اور ہی حقیقی علم ہے اس کے بغیر انسان جاہل ہے۔“ مستورات کے جاتے حضرت مولوی محمد ابراہیم با پری حضرت شیخ یعقوبی کھانا پہنچاتے رہے۔اور دسمبر کو افت می تقریر میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے حضرت مسیح موعود عرفانی، حضرت مولوی غلام رسول را جیکی ، حضرت مفتی محمد صادق ، با با حسن محمد خان مناسب کی زندگی کے ابتدائی حالات کا تذکرہ فرمایا کہ حضرت مسیح موعود مہانوں کی آمد پر اپنا کھانا مولوی ظهورتین صاحب بنجارا اور میاں احمد دین صاحب نے خطاب فرمایا۔جہانوں کو پیش کر دیتے اور خود چنوں پر گزارہ کرتے۔حضور نے فرمایا کہ حضر نہیں ہو نے اپنے اس وقت کا نقشہ اس شعر میں کھینچا ہے کہ لفاظاتُ الْمَوَائِدِ كان اكلى فَصِرْتُ اليوم مطعام الا مالي کہ ایک وہ وقت تھا کہ دستر خوان کے بیچے ہوئے ٹکڑے مجھے ملنے تھے مگر اب یہ حالت ہے کہ سینکڑوں خاندانوں کو اللہ تعالیٰ میرے ذریعے رزق دے رہا ہے۔گویا ایک دہ وقت کہ گھر کی مستورات مہمان کو بوجھ بھی نہیں اور کھانا دینے سے انکار کر دیتی ہیں اور حضرت اقدس نے آٹھ پیر کے روزے رکھے اور کجا یہ وقت کہ (علی سالانہ پیرا ہزارہا آدمی یہاں آتے ہیں اوران کار رنقی اُن کے آنے سے پہلے یہاں پہنچ جاتا ہے اور چوبیس گھنٹہ میں ایک منٹ بھی لنگر خانہ کی آگ سرد نہیں ہوتی۔مستورات میں سے سیدہ فضیلت بیگم صاحبہ رضیه میگم صاحیا علی مرزا گل محمد صاحب زینب بی بی صاحبہ اہلیہ حکیم احمد دین صاحب، زبیده بیگم صاحبه املیه با بود محمد نواز صاحب، استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ، مصالحہ بیگم صاحبہ (رام دارد) اہلیہ حضرت میر محمد اسحق نے تقاریر کیں۔حضرت سیدہ ام طاہر نے لجنہ کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔تینتالیس واں جلسہ سالانہ منعقده ۲۸,۲۷۲۶ دسمبر ۶۱۹۳۴ دسمبر کو دوست احباس میں اپنی دوسری تقریر میں حضور نے اہم جماعتی امور بمقام ملحقه میدان بیت النور قادیان بیان فرمائے اور ضروری ہدایات دیں۔ور دسمبر کو حضور نے اختتامی تقریر حضرت مسیح موعود پر دلی کے موضوع پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۲۶ دسمبر کو اپنی افتتاحی تقریر میں خدا تعالیٰ کے 46