المحراب — Page 63
اکتالیس واں جلسہ سالانہ منعقده ۲۶ ۲۷ ۲۸ دسمبر ۶۱۹۳۲ بمقام ملحقه میدان بیت النور قادیان دیگر مذا سبب پر علمی تبصره شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور فلسفه احکام شریعت حقہ حضرت مولوی غلام رسول را جیکی اجرائے نبوت از موٹے صحف سابقہ حضرت حکیم مولوی فضل الرحمان تہذیب و تمدن حضرت مفتی محمد صادق وفات حضرت مسیح ناصری حضرت مولوی حلال الدین شمس مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ قاضی محمد نذیر صاحب لائلپوری نیز ایک مصری جر نلسٹ سیاح نے ہوا اپنے ایک رفیق کے ساتھ جلسہ میں ۲۶ دسمبر کو اپنے افتتاحی خطاب میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے سورۃ موجود تھے اپنا ایڈریس پڑھا جس میں حضور سے اظہار عقیدت کیا گیا تھا۔اور ایک سنڈ فاتحہ کی تلاوت فرمائی اور دعا کی کہ اس سورۃ ہیں جو ہدایات ہمارے متعلق ہیں نوجوان نے حضرت مسیح موعود کی صداقت کے بارے میں پنجابی نظمیں پڑھیں۔ان کو پورا کرنے کی خدا ہمیں توفیق دے۔اور ان کے جواب میں جو اہم وعدے ہیں۔ور دسمبر کو ایک قرار داد پاس کی گئی کہ مسلم کا نفرنس اور مسلم لیگ کے اس کا فضل محض اپنی رحمت سے وہ وعدے پورے فرما دے نیز فرمایا کوئی فرد مطالبات مسلمانوں کے لئے بہت مفید اور ضروری ہیں اور اس کے خلاف بیوٹی کانفرنس پر خیال نہ کرے کہ یہاں آنا معمولی بات ہے ، اور یہ مجلس دنیا کی مجالس کی طرح معمولی الہ آباد کی سجا دی مسلمانوں کے لئے ضرر رساں اور نقصان دہ ہیں میں ہم حکومت سے مجلس ہے۔ہم یہاں نئی زمین اور نیا آسمان بنانے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔یاد رکھو درخواست کرتے ہیں کہ مسلم کا نفر نس سے پیش کردہ مطالبات کو ہی سمجھے مطالبات تم وہ بیج ہو جس سے ایک عظیم الشان درخت اُگنے والا ہے جس کے سائے میں تمام سمجھے۔ہم مسلم کانفرنس کے مطالبات کی تائید میں ہر ایک قسم کی امداد کا وعدہ کرتے ہیں۔دنیا آرام پائے گی اور تمہارے قلوب دہ زمین ہیں جن سے خدا تعالیٰ کی معرفت کا پیوست در جای سالانہ کے موقع پر ۳۶۰ مرد حضرات نے بیعت کی۔جاه لانه مستورات پودا پھوٹنے والا ہے۔۲۷ دسمبر کو دوسک را تبلاس میں خطاب فرماتے ہوئے حضور نے اہم جماعتی دانتظامی امور بیان فرمائے۔۲۸ دسمبر کو اختتامی اجلاس سے خطاب فرماتے ہوئے حضور نے مواد کے حاضری گزشتہ سال کی نسبت اتنی زیادہ منفی که با وجود گر به گان کی اصطلاح کئی گئی معنی اور آپ ٹیج کے دو طرف گیلریاں بنائی گئی تھیں۔لیکن پھر بھی جلسہ گاہ ناکافی ثابت ہوئی۔چنانچہ حضور نے قادیان کی خواتین کو واپس بھجوا دیا تا کہ باہر سے آنے موقع پر شروع کئے جانے والے مضمون فضائل القرآن کے پانچویں حصہ کو بیان فریبا والی خوانین جی سکس نیکیں۔اور ہدایت فرمائی کہ خواتین کی جلسہ گاہ بھی ہر سال بڑھائی جائے اور تحریک قرمائی کہ لاؤڈ اسپیکر بھی ضروری ہے جس کے لئے عور تیں چندہ حضور نے فرمایا۔البعض مضامین ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو مستی باری تعالیٰ کے مضمون کی طرح اتنی وسعت حاصل ہوتی ہے کہ ان کو خواہ کتنی بار بیان کیا جائے ان میں تکرار پیدا نہیں ہو سکتی۔فضائل القرآن کے مضمون میں بھی تکرار نہیں کیونکہ عدالعالی کے کلام میں اتنے متعارف ہیں کہ چاہے ساری دنیا مل کر قیامت تک انہیں بیان کرتی رہے وہ کبھی ختم نہ ہوں گے۔اس بلہ میں کی جانے والی تقاریر علمائے سلسلہ احمدیہ کی تفصیل درج ذیل ہے ہستی باری تعالیٰ مسئله خلافت پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب حضرت مولوی ظهور سب بین سنجارا دین حق ( ناقل) اور بالشویزم حضرت چوہدری فتح محمد سیال حضرت مسیح موعود کا علم کلام مولوی غلام احمد صاحب حضرت مسیح موعود کی پیش گوئیاں میر قاسم علی صاحب ایڈیٹر فاروق جمع کر کیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۲۷؍ دسمبر کو سنورات سے خطاب فرمایا۔حضور نے فرمایا ار میں طرح اعصاب اور رگوں کو آپس میں تعلق ہوتا ہے۔اسی طرح عورتوں اور مردوں کے تعاون کے ساتھ دنیا کا نظام چلتا ہے دنیا کی ساری اقوام کی عورتیں اپنے حقوق کے لئے جھگڑ رہی ہیں۔لیکن احمدی عورتوں کو چاہیے کہ وہ سجائے جھگڑنے اور حقوق طلبی کی جد جہد کے دین حق ارنافل) نے جو ان کو حقوق دیئے ہیں ان کا استعمال کرنا سیکھیں اور ان حقوق کا علم حاصل کرنے کے لئے قرآن و حدیث اور حضرت مسیح موعود کی کتب پڑھیں۔نیز فرمایا کہ حقوق سے فائدہ اٹھانا چانی ہو تو قربانی کرد نیز آپ نے نظام کی پابندی کی طرف بھی توجہ بائی۔جلسہ خواتین سے حضرت مولوی غلام رسول در بیر آبادی اور مولوی محمدابراهیم قادری 44