المحراب

by Other Authors

Page 184 of 207

المحراب — Page 184

مصلح موعود کا انداز خطابت حضرت ) مرزا عبدالترسیم بیگ) حضرت مصلح موعود خلیفة المسیح الثانی کے انداز تخاطب و تقاریر کے بارے آپ مضامین کے لحاظ سے اپنی آواز کو پر جوش انداز میں بلند کرتے تو شفا میں بتانا کوئی آسان بات نہیں اور ساتھ ہی سامعین کی کیفیت بیان کرنا ممکن نہیں۔نعروں میں بدل جاتی اور بعض امور پر خصوصیت کے ساتھ توجہ دلانے کی غرض سے لیکن جو کچھ آنکھ نے دیکھا۔ذہن میں اگرا اور قلبی کیفیت پیدا ہوئی اس کو بتانے کی ان کو اتنے عروج پر لے جاتے کہ طبیعت پر اثر انداز ہوتے ہوئے دلوں کو گرماتی ہوئی ذہنوں میں اترتی چلی جاتی۔اور ہمیشہ ہی تقریر کے بعد ہر شخص اسی کے اکثر چھتے دہراتا کوشش کر رہا ہوں۔لوگوں کو اس وقت کا شدت سے انتظار رہتا جب حضرت مصلح موعود ایک دوسے کو توجہ دلانا کہ کیا نکتہ بیان فرمایا۔اور یہ بات تو اس سے پہلے سمجھ میں نے تقریر کرنی ہوتی۔پھر جو افراد جا کے دوران کسی ضرورت کے تحت باہر چلے ہی نہیں آتی تھی اور یوں دیر تک بلکہ دنوں مہینوں تک امام وقت کا ذکر ہوتا رہتا۔جاتے تھے وہ وقت سے پہلے جلسہ گاہ میں پہنچنے کی کوشش کرتے۔اور ساتھ ہی مین خوش نصیب افراد کو آپ کی تقاریر سننے کا موقع میسر آیا۔وہ اس یہ خواہش بھی ہوتی کہ آگے جگہ مل سکے لیکن نظم وضبط کا یہ عالم کہ جس کو جہاں بھی بات کے یقینا گواہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ فدائیت ، رسول خدا کے بارے میں جگہ میسر آتی بیٹھتے چلے جاتے۔پھر جب وقت تنگ ہونے لگتا تو انٹر دیکھا گیا کہ عاشقانه انداز در امت مسلمہ کے لئے دور داور تڑپ ان میں نمایاں تھا شیدائی گلیوں میں دوڑتے ہوئے پہنچے۔بزرگوں اور کمزوروں کے قدم بھی تیزی سے تربیت کے موضوعات جن میں اخلاق در کردار کی تعمیر ان کے باریک در باریک تفاق پڑتے۔ساتھ ہی یہ خوف بھی رہتا کہ تقر یہ شروع نہ ہو جائے اور ایسا نہ ہو کہ کچھ سنتے اور چشم پوشی کر دینے کی دجیسے جو مسائل پیدا ہو جاتے ہیں ان سب کا ذکر پھر ان کی اصلاح سے محروم رہ جائیں گویا پرانے تھے جو شمع کے گرد جمع ہونے کے لئے تڑپتے نظر آتے۔کے طریق اپنانے کے گر سب کچھ ہی تو بتا یا جاتا۔اور بو قوم کو زندہ کرنے کی جیب حضرت مصلح موعود جلسہ گاہ میں تشریف لاتے۔تو عاشقان خلافت ائٹنگ کا ظہور ہونا۔اس کے علاوہ جب اقوام عالم یہ بات ہوتی توان کے ماضی کے چہرے دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے۔خوشی مسرت و فرحت کے ساتھ ساتھ آنکھوں کی چمک دلی کیفیت کو ظاہر کرتی۔حال اور مستقبل کو یوں بیان فرماتے کہ گویا آپ کے سامنے ہر ملک و قوم کے حالات اس کی تاریخ اس کا پس منتظر ان کی خوبیاں اور خامیاں اور کزوریوں کے پیدا ہونے تلاوت قرآن پاک میں سوز اور اثر ایسا کہ دلوں کی کیفیت بدل جاتی۔اور عالم کے اسباب کہاں کہ دار میں تھول تھا اور کہاں سے اخلاقی بیماریوں نے حملہ کیا اور کیوں پر سکتہ طاری رہنا۔پھر جب تقریر شروع ہوتی تو موضوع کے مطابق اس کی باریک ور ریڑھی اور کہاں پر اصلاح ہوئی یوں معلوم ہو کر ساری دنیا کی طرز معاشرت تہذیب و تمدن اور علوم وان کار سے باریک جزئیات کو بھی مد نظر رکھتے۔قرآنی علوم کے اسرار ورموز کے در کھلتے پر دسترس کی وجہ سے کہ آپ گویا ان میں ہی رہتے لیتے رہے ہیں کبھی روس کا چلے جاتے ، دقیق سے دقیق مسئلہ منطقی انداز میں سمجھایا جاتا۔اور کیسا ہی خشک مستقبل اور کبھی یہ کہ امریکہ و چین میں یہ ہو گا۔برطانیہ کے لئے کیا مسائل پیدا ہو نیوالے اور شکل مضمون ہو، آپ اس میں پچسپی پیدا کر دیتے۔عام فہم، آسان الفاظ، دلچسپ ہیں۔افریقی اقوام کیوں اور کیسے دوسری اقوام پر اثر انداز ہوں گی۔اور امت مسلمہ کے لئے واقعات پھر بر محل مزاح کی کیفیت پیدا کرتے ہوئے لطائف کا بیان جو اکثر یہ کچھ مقدر ہے۔گویا معلوم کا بہتا ہوا دریا تھا جو اپنی روانی میں ذہنوں کو سیراب کر نا چل تاریخی نوعیت اقوام کے مزاج اور انسانی فطرت کو ظاہر کرنے والے ہوتے جی سے جانا۔آپ کی تقاریر پر مغز ، مدبل ، حقائق سے یہ ، عارفانہ کلام مستطق و فلسفہ کے دقیق مسائل سامعین کے ذہن تازہ اور بٹ ش رہتے یوں عارفانہ انداز میں تفصیل سے تفصیل موضوع پر پر عام فہم انداز گویا سامعین کی طبائع کو قائل کر دیتے۔الیسا سمہ جو دلوں اور بہنوں ہمیشہ گرفت مضبوط رہتی اور تسلسل قائم رہتا۔کو بدلتے ہوئے ہر طبقہ فکر کے انسان کو سیر کرتا لیکن علم کے حصول کی ٹوپ اور تشنگی بڑھ مبا اوقات خطاب گھنٹوں پر محیط ہوتا۔لیکن دلچسپی کا وہی حال ہو شروع جاتی جو ہر لفظ کو جذب کرنے کی قوت عطا کرتی میں تھا آخر تک بر قرار رہتا۔تھکان ، گھبراہٹ یا بے چینی تو عام طور پر طویل تقاریر کی وجیسے پیدا ہوتی ہے۔کبھی بھی دکھائی نہ دیتی۔بلکہ ہمیشہ یہ تاثر ملتا کہ آپ بولتے رہیں اور یہ سلسلہ ختم نہ ہو۔خدا تعالی اس مقدس وجود پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔آمین۔اک وقت آئے گا کہ کہیں گئے تمام لوگ امت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے ۲۲۹