المحراب

by Other Authors

Page 183 of 207

المحراب — Page 183

ہی کھلا رہے ہیں با تقریر حضرت نواب مبار که میگیم جیا بانه سلامه ) تبرک سب سے پہلے میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر تی ہوں میں نے اس جلسہ کو خبرد خوبی سے اختتام تک پہنچایا اور نہیں مہمانوں کی قدمت عطا کی یہ اللہ تعالی کا فضل ہے کہ ایک لیے عرصے سے ہم جلسہ کے مہمانوں کی خدمت کرتے چلے آنے ہیں مجھے دو دن بھی یاد ہے جبکہ قادیان میں حضرت اماں جان کے مکان کے نچلے حصے میں یہاں اگر خراب روئی بھی کبھی ملے تو آپ کے لئے ہزار ہا کھانوں سے زیادہ صرف چند ایک مہمانوں کے سامنے دستر خوان سجھا کر اور قطاریں بنوا کر کھانا کھلوایا کرتے مبارک ہے اور جو اس میں مزہ آپ کو آئے وہ دنیا کی کسی اعلیٰ سے اعلیٰ نعمت ہیں تھے لیکن اب رہی حضرت مسیح موعود کے جہان ہزار ہا کی گنتی میں ہمارے سامنے موجو بھی نہ پائیں۔اس نگر کے تو مکڑے بھی تبرک ہیں ، ایک زمانہ تھا کہ نگر کا کھانا بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اُس نے اپنے اس کام کے لئے ہمیں نوازا در تہ دنیا اندر گھر میں پکتا تھا اور جلسہ کی روٹی ہمارے صحن میں کہنا تو کئی سال تک مجھے بھی میں کو دڑوں کروڑ مخلوق بھری پڑی ہے ہم نہ ہوتے تو کوئی اور لوگ اس کام کو یقینی طور پر یا د ہے۔اس وقت وہ بھی ایک بہت بڑی رونق نظر آتی تھی پھر اس کو سرانجام دینے والے ہوتے اس شکر یہ ہیں کہ اپنے اس کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے اللہ تعالٰی نے بیع سے وسیع تر کیا اور کرے گا۔اب لنگر کے تنور ایک جگہ کی سجائے گئی ہیں منتخب فرمایا۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ کام کو نیک نیتی اور اخلاص سے کریں جگہ بنتے ہیں اور کئی جنگہ سے روٹی تقسیم ہوتی ہے کام بڑھ گیا ہے۔مگر آپ ہمیشہ دیہی تصور اور آئندہ بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کریں کام کو اللہ تعالیٰ کا ہے وہ ہوگہ رہے کریں کہ آپ دار مسیح موعود کے خاص مہمان ہیں۔آپ میں سے بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا لیکن اگر ہماری نیتوں میں اخلاص نہ ہو گا اور ہم اس کام کو آئندہ بہتر بنانے کی کیا کہ حضرت مسیح موعود کے پورے گھر کا نام دارالامن ، آپ کا رکھا ہوا تھا۔جیسا کہ کوشش نہ کریں گئی تو ہم تو اب سے محروم ہو جائیں گی۔مختلف مکروں کے نام بیت المذکر در بیت الفکر وغیرہ آپ نے سنے ہوں گے تو جہاں بھی آپ لوگ اس سلسلہ میں جمع ہوں۔اپنے کو اسی طرح دار ال من ، میں تمھیں اور امن و محبت کو شعار بنائیں۔حضرت مسیح موعود نے انگر بہت محبت سے اپنے ( تاریخ لحجبه جلد دوم ص ۲۹) کایا پلٹ گئی مہمانوں کے لئے جاری کیا اور اس کا آپ کو بہت خیال رہتا تھا کہ کسی مہمان کو تکلیف ایک دفعہ انگر خانہ میں رات کو بارش ہوگئی۔نانبائی اور پیڑے بنانے والی نہ ہوا اور زیادہ سے زیادہ لوگ آہیں ، اور اس سے آرام پائیں۔لنگر کا کام قریباً بہت آخر عورتیں ایک دم اٹھ کر اندر کو بھاگیں کام رک گیا بڑی پریشانی ہوئی ہیں نے سب زمانہ تک آپ کے ہاتھ میں ہی تھا۔مجھے یاد آتے ہیں۔وہ دن کہ میاں نجم الدین بھر سے خدام و اطفال، بچوں بوڑھوں بڑوں کو بلایا اور کہا کہ میں کو جو چیز میسر آتی ہے وہ اٹھائے والے جو منظم ہوا کرتے تھے۔اتنے اور بتاتے کہ آٹا ختم ہے یا دوسری چیزیں تو آپ اور ان نانبائیوں کے سر پر چھری کے طور پر پکڑے رہے بارش اس کو نہ بھگوئے چنانچہ جلدی سے یو رقم موجود ہوتی ان کو دیتے اور فرماتے کہ جائیں اور سامان میں کہیں پر کام شروع ہو گیا اور ساری رات قریباً اسی طرح گزاری۔۔۔صبح کو مجھے ایک مولوی مہمان کو تکلیف نہ ہو۔ایک دفعہ کا خوب یاد ہے مجھے کہ آپ نے جیب اور اپنے رسالوں صاحب مجھے ملے مجھے دیکھتے ہی بھاگ کر مجھے سے لپٹ گئے اور چھوٹتے ہی کہا کی گرہیں کھول کھول کر روپے پیسے جتنے نکلے میں نجم الدین کو پکڑا دیئے اور فرمایا میں اس میں نے بیعت کر لی ہے میں حیران ہوا کہ یہ تو بڑے کمرا در منصب قسم کے شخص تھے وقت یہی نکلا ہے۔صرف ۳۲ روپے کچھ آنے اور کچھ پیسے تھے۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ہزار ہا پر نوبت پہنچتی ہے۔یہ سب اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اس کا شکر اور سندھ میں (مخالفین۔ناقل ) کے پیش روں میں سے تھے ان کی کایا کیسی پلٹی انہوں نے بتایا کہ جب رات کو بارش ہوئی تو میں یہ دیکھنے آیا کہ دیکھیں اب احمدی کیا کریں اور دعائیں کریں کہ تمام روحانی بر کاست کا سلسلہ جاری ہے ، اور یہ ظاہری شنگر کرتے ہیں۔میں نے یہ حیرت انگیز منظر دیکھا کہ افسر ماتحت کارکن سب کتابیاں اور مینی کہ یہ بھی ایک نشان ہے بڑھتا چلا جائے " حضرت نواب سیار که بگیم تاریخ ابن جلد سوم ) ایک نصیحت ایک تنبہ مستورات میں مہمان نوازی کے فرائض حضرت ام داؤد صاحبہ 2 سے مرا ۹۵ ار تک ادا کرتی رہیں میرے وار کے جاسے لالا نہ پر آپ بیمار تھیں مگر مہمانان مسیح کے ساتھ قلبی تعلق کا اندازہ اُن کی اس تحریر سے ہوتا ہے جو یا وجود بیماری کے آپ نے کارکنات کے لئے تحریر فرمائی۔پرائیں نے کرنا تائیوں کو بارش سے بچارہے ہیں۔یہ نظارا دیکھ کر میری ایسی کایا پلٹ گئی میں نے کہا کہ میں لازما بیعت کروں گا۔میں نے باقی رات بڑی لیے چینی سے کائی اب صبح بعیت کر کے آرہا ہوں۔“ (حضور اُس وقت افسر علیہ تھے ؟ ار خطبہ جمعہ حضرت خلیفة المسیح الثالث الفضل ۲ دسمبر ساد) ۲۲۵