المحراب

by Other Authors

Page 182 of 207

المحراب — Page 182

بیٹھا ہوا تھا۔آپ نے ال اور اشارے سے فرمایا ، میں اللہ وتنز کہ رہی تھی کہ میں تو اپنے امام کو ملنے جا رہی ہوں۔اس نے کہا بی بی تمہارا کوئی رشتہ دار بھی آؤ میرے ساتھ۔میں اُن کے ساتھ سٹور میں گیا۔آپ نے ۴، ۵ لوٹے اپنے دونوں وہاں ہے۔اس نے کہا کہ ہاں میرا ایک بیٹا ہے فلاں جگہ رہتا ہے تو اسی وقت امیگریشی ہاتھوں میں اُٹھا لئے میں نے بھی لوٹوں کا ایک ٹوکرہ سر پر اٹھا لیا۔جہاں تک میرا خیال افسر کے کان کھڑے ہوئے اور اس نے کہا کہ یہ تو بہانہ بنا رہی ہے۔اپنے بیٹے کے ہے آپ افسر علیہ تھے۔آگے آگے آپ جلارہے تھے پیچھے پیچھے میں جار ہا تھا ہم احمدیہ پاس ٹھہرنے کے لئے اور وہاں نیشنیلیٹی لینے کے لئے جارہی ہوگی۔یہ بیلنی اس کے دل اسکول پہنچے اور لوٹے وضو کرنے کی جگہ پر رکھ دیئے۔اس طرح لوگوں کے وضو کرنے کی میں پیدا ہوئی تو اس نے کہا کہ اچھا یہ کیوں نہیں کہتی۔امام امام کیوں کہ رہی ہو یہ کہوں نہیں کہتی کہ میں اپنے بیٹے سے ملنے جارہی ہوں۔اس کا جواب سنیئے، کہتی ہے تکلیف دور ہو گئی۔ستمبر اکتوبر القرفان الله) مجھے اب بھی یاد ہے در فٹے منہا اس طرح ہے اختیار اس کے منہ سے در فٹے منہ نکلا کہ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔اس جذبات کی وجہ سے کہتی میرا پتر تیس سال دا او تھے اسے ہیں مجھے اب بھی یاد ہے شروع شروع میں جب جامعہ نصرت کے میدان میں جلسہ مڑ کے اوس پاسے کدی نظر نہیں کیتی۔میرا امام اے جید لے لئی میں بے قرار ہو گئی آں ہوا کرتا تھا۔غالباً حضرت صاحب کی افتتاحی تقریر کے بعد میں با ہر نکلا کیونکہ میں اقسر طلبہ کسی بیٹے کی بات کہہ رہے ہو ۳۰ سال سے میرا بیٹا وہاں ہے میں نے کبھی اس ملک سالانہ تھا اور مجھے دوسری ڈیوٹیوں پر جانا تھا۔ایک صاحب جن کو میں ذاتی طور پر جانتا کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ہاں جب سے میرا امام گیا ہے میں بے قرار ہو تھا کہ دو لکھ پتی تھے یا اس سے بھی زیادہ امیر تھے۔انہوں نے ہاتھ میں ایک مکس پکڑا گئی ہوں اور بے چین ہوگئی ہوں۔ہوا تھا اور ساتھ اُن کی بیوی تھی وہ اڈے کی طرف سے چلے آرہے تھے میں سمجھ گیا کہ یہ تو ابھی پہنچے ہیں۔میں نے اُن سے پوچھا۔آپ کے لئے رہائش کی جگہ مقرر ہے ؟ کہنے لگے نہیں اب جا کہ تلاش کروں گا۔در خطاب حضرت خلیفة المسیح الرابع جلسه برطانیه ماه ساده سی ترکیب - کامیاب تجربہ چند سال پہلے میں نے گھر میں ایک بڑی اچھی ترکیب دیکھی تھی سینٹر بنانے کی میں نے سوچا یہ اب کہاں تلاش کریں گے۔۔۔میں نے اُن سے کہا آئیے ہیں وہ بڑی سادہ سی ترکیب ہے ، اگر اسے اختیار کیا جائے تو وقتی ضرورت پوری ہو جاتی آپ کے لئے کوشش کرتا ہوں۔میں اپنے گھروں میں ایک جگہ گیا۔گھر والوں سے پوچھا ہے۔انہوں نے پرانی کھاد کی بوریاں دھو کر اس سے خلاف بنا لئے اور ان میں پرالی پھیر لی کوئی کمرہ یا کوئی ڈریسنگ روم خالی ہو گر پتہ لگاکہ کوئی بھی خالی نہیں پھر ہم کو کے گھر گئے ادران کو اوپر نیچے سے ٹھیک کر کے ایک طرف رکھ لیا اور جب ان کے مہمان آئے جین حتی کہ میرے گھر میں تلاش کرتے کرتے ایک چھوٹا سا لانہ ٹائپ کمرہ تھا۔جیں میں گھر کے پاس میستر وغیرہ نہیں تھے تو ان کو اس کی نوش کیں دے دیں اور جو زائد تونکیں ہیں وہ والوں کی کچھ چیزیں پڑی ہوئی تھیں۔میں نے کہا۔کیا یہ کمرہ آپ کے لئے ٹھیک ہے ؟ او پر لینے کے کام آجاتی ہیں چنانچہ اس طرح ڈیل لیسترین گئے۔میں نے جب ان سے کہنے لئے بڑا اچھا ہے الحمد یہ ہم اس میں بڑے آرام سے رہیں گے۔میں نے وہ پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ نہایت ہی کامیاب تخیر یہ ہے نرم بھی رہتا ہے اور گرم بھی اس تو شک کو دیکھے کہ مہمان بہت خوش ہوئے۔" کمرہ خالی کروایا۔دی ہے کی ایک پنڈ منگوائی اور وہاں ڈلوا دی ہے ا خطبہ جمعہ حضرت خلیفة المسیح الثالث مطبوعه الفضل در سمیر نشده) ے دیت در اصل بوجوں والی گھاس ہوتی تھی جو کاٹ کر بچھاتے تھے اور ہجو خطیه ۲ رنویر ست حضرت خلیفة المسیح الرابع مطور الفصل ۲۰ نومبر ساده ) اولاد کے لئے باپ کا گھر تکلیف دہ ہوتی تھی پھر جیت دلانہ کے مہمانوں کو آرام پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے زمین کو کہا یہاں چاول اگا ورنہ پہلے تو یہاں چاول نہیں ہوتا تھا۔یہاں کا میهمانی دستر خوان بینی لنگر بھی آپ کی خدا تعالی کی طرف سے دعوت ہے۔جونان فرشتہ آپ کے روحانی باپ کو اس کے اور اس کے درویشوں کے لئے دے گیا ہے۔اس کی بھی قدر کریں اور ان ایام میں خصوصاً درویش صفت نہیں گھر آپ صرف امام کے لئے پچھلے سال آنے والوں میں سے ایک شخص نے مجھ سے ایک بڑا دلچسپ واقعہ کا ہے اولاد کے لئے باپ کا گھر اپنا ہوتا ہے۔سال بھر کے بعد بچھڑی ہوئی اولاد بیان کیا۔کہتے ہیں میں برٹش ایمبیسی اسلام آباد ( پاکستان میں بیٹھا ہوا تھا اور امیگریشن کا باپ کے دستر خوان پر جمع ہوتی ہے تو کس قدر خوش ہوتی ہے خواہ اپنے گھر میں کیسی آفیسر ایک بوڑھی عورت کے ساتھ انٹرویو لے رہا تھا ہو کہ تعلیم یافتہ بھی معلوم نہیں ہوتی تھی بھی خوشحال ہوں۔خصوص بیٹیاں باپ کے گھر روکھی سوکھی بھی لے تو اس کو انعمت معمر عورت تھی سادہ سی مغریب سی جب اس نے بہت سے سوال کئے اور ویزا شینے لگا جان کر خوشی سے کھاتی ہیں۔وہ خوشی اپنے گھر کبھی محسوس نہیں کر سکتی تو اس کا بھی تو اچانک اس کو خیال آیا کہ اس سے پوچھوں کہ اس کا کوئی رشتہ دار تو نہیں کیونکہ وہ خیال رہے کہ آپ سہی مہمان ہیں اور آپ سبی مین بات یہ مبارک روٹی آپ کو مسیح موعود م