المحراب — Page 159
میں حیات بنانے پر اور سیر کو میرا حالات حاضرہ پر نظم پڑھنا معمول کا رنگ اختیار اے صبر و رضا کے متوالوا اٹھو تو سہی، دیکھو تو سہی کو گی جو شاہ تک جاری رہا۔ان سالوں میں پڑھی جانے والی دو ایک نظموں کے چند اشعار پیش خدمت ہیں۔سو ده جو گر د سی تھی بھی ہوئی وہ جنہیں سے ہم نے اتار دی شب غم اگرچہ طویل تھی شب غم بھی نہیں کے گزار دی نہ سمجھا سکیں انہیں آندھیاں جو چراغ ہم نے جلائے تھے کبھی کو ذراسی جو کم ہوئی تو لہو سے ہم نے ابھار دی وبی مظہرے موردِ کفر بھی جنہیں دین جاں سے عزیز تھا طوفانوں کے مالک نے آخر رخ پھیر دیا طوفانوں کا اب آئے جو یار کی محفل میں جہاں رکھ کے تھیلی پر آئے اس راہ پر ہر شو پہرہ ہے کم نہیوں کا نادانوں کا آندھی کی طرح جو اُٹھے تھے وہ گرد کی صورت بیٹھے ہیں ہے میری نگاہوں میں ثاقب انجام بلند ایوانوں کا ر کے اس جلسہ سالانہ میں جھنگ کے ڈپٹی کمشنر اور ایس پی کے علاوہ حکومت کی طرف سے ایک فوجی کرنیل صاحب بھی اون ڈیوٹی (ON DUTY) تھے دیمی خارین کے کھٹک رہے ہیں جنہوں نے فصل بہار دی راولپنڈی کے ایک صحافی نے جو رپورٹنگ کے لئے بطور خاص آئے تھے بتایا کہ نظم نے کی مانند ہر ایک جام میں ڈھلتے رہنا ہم نے سیکھا نہیں ایمان بدلتے رہنا ٹھوکریں کھا کے پہر کام سنبھلتے ارینا پڑھے جانے کے دوران حاضرین کے بے محابا جوش و خروش اور نعرہ بازی کو دیکھ کھ رہے موصوف اشتعال سمجھتے تھے ) کرنل صاحب بہت مضطرب تھے انہوں نے دو ایک دفعہ بڑے اضطراب سے کہا کہ مجمع قابو سے باہر ہوتا جارہا ہے جب تیسری دفعہ بھی انہوں نے اسی رنگ میں اپنے اضطراب کا اظہار کی تو ڈپٹی کمشنر بھنگ ) دوستو ! تم کو قسم ہے یونہی چلتے رہنا نے چند منٹ اور صبر و ضبط سے نظارہ دیکھنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا۔خود بخود دے گی صدا تم کو کناروں کی ہوا دل میں موجوں کی تڑپ لے کے مچلتے رہنا گلشن دین محمد کے مہکتے پھولو لاکھ ہوں جور خزاں پھولتے پھلتے رہنا اور بھی آئیں گے ان راہوں میں کچھ سخت مقام عزم کی شمع نئے سینوں میں چلتے رہنا ایک اور سرکش آپ شاید اس جماعت کے مزاج سے واقف نہیں نظم ختم ہونے کے بعد جونہی اس کے امام مائیک کے سامنے آئیں گے۔آپ کو یوں محسوس ہو گا جیسے یہاں کوئی بیٹھا ہوا ہی نہیں۔اور وہی ہوا جو نہی مرزا صاحب نے سورۃ فاتحہ کی تلاوت شروع کی ہر طرف ایک گھمبیر سناٹا چھا گیا جس پر کرنل صاحب نے بڑی حیرت سے کہا۔یہ کس ملک کے باشندے ہیں ؟ کس قدر کنٹرول ہے انہیں اپنے جذبات پر یہاں تک شام میں مقتدر وقت پرس زنداں پہنچ گیا۔چنانچہ میں نے حضرت ۲۸ دسمبر کو نعت رسول خلیفہ المسیح الثالث سید نا ناصر کی اجازت سے شہد کے جلسہ سالانہ میں ، مسیر ربوہ کے جلسوں میں ۲۰ دسمبر کوئی حضرت خلیفہ مسیح کی علمی تقریر کی ہدایات کو ایک منظم انجام کے عنوان سے پڑھی میں کے چند اشعار یوں تھے سے فرصت ہے کیسے جو سوچ سکے پس منظران افسانوں کا سے نعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتا تھا گو کے بعد نعتوں میں بھی دلی کرب کا اظہار ہونے لگا تھا، ایسی نعتوں کے چند اشعار ملاحظہ ہوں سے کیوں خواب طرب سب خواب کوئے کیوں خون مہوا ارمانوں کا شعور دے کے محسود کے آستانے کا طاقت کے نئے میں چور تھے جو توفیق قطر جن کو نہ ملی مزاج بدلیں گے ہم اس نئے زمانے کا مفہوم نہ سمجھے وہ ناداں قدرت کے لکھے فرمانوں کا یہ میرادل مجھے دنیا کبھی دل ہی کہتی ہے پتے ہیں بالا خردہ اک دن اپنے ہی ستم کی چکی میں انجام نہیں ہوتا آیا فرعونوں کا ہامانوں کا جب زخم لگیں تو چہروں پر پھولوں کا تبسم لہرائے فرمانوں کا اتنا ظرف کہاں یہ حوصلہ ہے دیوانوں سکا یہ ایک جام ہے میرب کے بادہ خانے کا مرے سفینہ ہستی کے ناخُدا ہیں حضور مجھے نہیں کوئی اندیشہ ڈوب جانے کا ن ہے تصیب کہ میرا لہو بھی کام آئے مجھے جنوں ہے چراغ حرم جلانے کا