المحراب — Page 142
کی تاکید فرمائی۔حضور نے فرمایا اور میں روٹی پکانے کی دوشینیں لگائی گئیں۔چھوٹی مشین پر ایک وقت در گزشتہ سال جلسہ سالانہ ربوہ کی آبادی سمیت مہمانوں کی تعداد ہمارے میں رونا نیائی کام کرتے تھے۔حضور معائنہ کرنے کے لئے تشریف لائے تو روٹی کی شین اندازے کے مطابق ایک لاکھ پچاس ہزار تھی۔اتنے لوگوں کو وقت پر کھانا کھلا دینا چل رہی تھی حضور نے پکی پکائی روٹیاں نکلتی ہوئی دیکھے کہ اظہار مسرت فرمایا۔بعض خود اپنی ذات میں ایک معجزہ ہے لندن کی ایک بوڑھی عورت جلسہ پر دیوہ آئی۔روٹیاں اٹھا کر اور دیکھ کر روٹی کی کوالٹی پر اطمینان کا اظہار فرمایا۔دوسری مشین پر کراچی جب اس نے لنگر خانہ دیکھا اور مہمانوں کو وقت پر کھانا مہیا کئے جانے کے انتظامات کے درد انجین منیر احمد خان اور نعیم احمد خان صاحب دو ماہ سے سلسل کام کر رہ سے تھے کا مشاہدہ کیا تو وہ بہت بھیان ہوئی اور کہنے لگی کہ اگر میں واپس جا کہ یہ بتاؤں کرکس توقع رکھی گئی تھی کہ دو ہزارہ روٹیاں فی گھنٹہ بغیر نانبائی کی مدد سے تیار ہوں گی مشینوں طرح تھوڑے سے وقت میں اتنے بڑے اجتماع کو تازہ پکایا ہوا کھانا ہیا کیا جاتا ہے کے لئے تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ میں مچھہ سے تیار کئے گئے میکینیکل پیچیدگیاں اور تو میرے رشتہ دار یقین نہیں کریں گے اور کہیں گے یہ وہاں سے پاگل ہو کہ آئی ہے؟ باریکیاں حل کرنے میں مندرجہ بالا دو انجیر کا ساتھ ہر کس ایم ایس سی کے طالب علم ر خطبه فرموده ۱۸ اگست ۱۹۸۰ ء لندن) جلسہ سالانہ انگر نامہ کے انتظامات میں عمو با سات پیسے سات افران صیفہ مرزا الثمان احمد صاحب نے دیا۔نومی باشد و خطبه جمعه ارشاد فرماتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثالہ نے کے ماتحت ہوتے ہیں را، نظامت لنگر خانه (۳) انتظام۔(۳) آلا گندھوائی۔جلد سالانہ کے لئے نانبائیوں کی فراہمی کی دقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے لجنہ کو تحریک فرمائی (م) انتظام روٹی پکوائی (ہ، انتظام تقسیم روٹی (4) انتظام دیگ پکوائی۔کر ایسا انتظام دیکھیں کہ فوری طور پر خواتین پیڑے اور روٹی بنانے کے لئے تیارہ ہوں (ع) انتظام تقسیم سالن اور انتظام پہرہ ہر لنگر خانے کا الگ چارٹ بنتا ہے اور اوسطا ۶۰۰۰ ہزار رضا کارہ ڈیوٹی دیتے ہیں۔آپ نے فرمایا 19 د یک چھ نگر خانے کام کرتے رہے بیرونی ممالک کے مہمانوں اور اگر ضرورت پڑے گی تو ہم اپنی بہنوں کو روٹی پکانے والی مشینوں پر جھا دیں گے۔اپنی ماؤں کو بٹھا دیں گے اور اپنی بیٹیوں کو بٹھا دیں گے اور کہیں گے پر ہیزی کھانے کا علیحدہ انتظام تھا۔پیڑے بناؤ اور سنٹیاں لگاؤ تاکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قلعہ میں آنے والے اید میں محلہ دارالیمن میں نیا لنگر خانہ تعمیر کیا گیا اس طرح لنگر خانے سات مہمانوں کو کھانا مل سکے اپنے گھروں میں جب مہمان آتے ہیں تو بعض دفعہ ایک ایک ہو گئے۔نئے لنگر خانے میں سوئی گیس نہ ہونے کی وجہ سے فکر ہی استعمال کی گئی اس عوریت دس دس پندرہ پندره سیر آٹا گوندھ کہ روٹیاں پکا لیتی ہے تو خدا کے میں 4 سنتور لگائے گئے پر ہیزی کھانے کا نگر خانہ ملا کل آٹھ لنگر خانوں میں کام محمد کے مہدی کے گھر مہمان آئیں اور غور میں باہر بیٹھی رہیں یہ تو نہیں ہوسکتا؟ والفضل 19 دسمبر (1) ۱۹۷ء سے چو ہدیہ کی حمید اللہ صاحب افسر جلسہ سالانہ مقرر ہوئے۔ہوا اس سال دیگوں کے لئے جو عطیات جمع ہوئے تھے اُن سے ۲۶۰ دیگیں خریدی گئیں جو پہلی دفعہ ۱۹ ہیں استعمال ہوئیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث انتظامات کا جائزہ لیتے اور ہدایات دیتے رہے۔ملا یہ میں ایک لاکھ پچاس ہزار افراد نے 19 ء میں جماعت کے لئے مشکلات کا ایک نیا صبر آنہ ما دور شروع ہوا۔مسیح موعود کے لنگر زمانہ سے کھانا کھایا۔رحیم و کریم خدا تعالیٰ نے اپنے فضلوں سے سکنیت کے سامان بھی کئے حضرت خلیفہ المسیح الثالث کو ایک مرتبہ پھر شیخ مكانك کا اہلی حکم ملا اور اس حکم کے لنگر خانہ خلیفہ المسیح الرابع کے دور میں مشورہ میں نوبڑے لگانے بجالانے کے سامان بھی نہم ہوتے گئے کثرت سے مہمان خانے تعمیر ہوئے ہجو جدید کام کرتے رہے ایک نیا لنگر خانہ دار النصر عربی میں تعمیر کیا گیا جس میں دس ہزار افراد سہولتوں سے آراستہ تھے۔اہل ربوہ نے اکثر و بیشتر اپنے مکانوں کو وسعت دی کے لئے کھانا پکنے کسی گنجائش تھی۔روٹی پکانے کی مشینوں کی تعداد 44 ہو گئی میگریم میر احمد صاحب کی سرکردگی میں روٹی پکانے والی مشینوں کے ساتھ آٹومیٹک یونٹ اور مہمانوں کے لئے زیادہ گنجائش نکالی۔در میری ۱۹ ء کی اشاعت میں اخبار الفضل لکھتا ہے۔تیار کئے گئے اس وقت تک ان مشینوں سے یہ کام لیاجاتا تھاکہ آٹا گوندھ کر اس اس سال جوا حیاب نگر خانہ حضرت مسیح موعود سے کھانا کھاتے رہے ان کا پیٹا بنا کہ اور روٹی بنا کرمشین میں ڈالی جاتی تھی جس کو مشین پکا تی تھی۔آٹومیٹک کی تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ تھی گذشتہ سال ۷۸ ہزار آٹھ صدر تھی اس میں ریلوہ یونسٹ تیار ہونے کی صورت میں گندھا ہوا آٹا ڈالنے سے روٹی تیار ہو جاتی میرزا کے وہ بہترار یا احمدی شامل نہیں جو جلسہ کے ایام میں بھی منگر خانہ سے کھانا نہیں لیتے۔غلام احمد صاحب اور مبارک مصلح الدین صاحب لنگر خانے اور مہمان نوازی کے 1969ء کے جلسے کے متعلق حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے بڑا دلچسپ جملہ انتظامات میں چو ہدری حمید اللہ صاحب افسر جلسہ سالانہ کے ساتھ بطورہ تائب تبصرہ سنایا۔خدمات بجالاتے رہے۔۱۶۴