المحراب — Page 143
۱۹۸۳ ء میں روٹی پکانے کی چودہ نئی مشینیں بنوائی گئیں۔ایک نیا لنگرخانہ دارالرحمن انڈیا میں بھی ہو گا۔ایک جرمنی میں بھی ہو گا۔ایک روس میں بھی ہو گا۔ایک شرقی میں تعمیر کیا گیا جس میں بیک وقت میں ہزارہ مہانوں کا کھانا تیار کرنے کی گنجائش چین میں بھی ہو گا۔ایک انڈونیشیا میں بھی ہوگا۔ایک سیلون میں بھی تھی۔دونئی مشینیں پیڑے بنانے کے لئے تیار کی گئیں۔روٹی بنانے کے لئے آٹھ ٹینک ہوگا۔ایک یہ مائیں بھی ہو گا۔ایک لبنان میں بھی ہو گا۔ایک ہالینڈ میں بھی ہو گا۔عرض دُنیا کے ہر بڑے ملک میں یہ لنگر ہو گا۔مشین بھی بنائی گئی جو کرم منیر احمد خاں صاحب نے تیار کی۔پر ہیزی لنگر خانے سمیت ؟ لنگر خانے کام کرتے رہے۔جان سالانه ۱۹۸۳ء پر حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے فرمایا حضرت اقدس مسیح موعود نے جو نظام جماعت قائم فرما یا اس کی پانچوں ناخنوں سے ایک نظامت لنگر خانہ یا نظارت ضیافت تھی۔۔۔۔گزشتہ اعداد و شمار کے مقابل پر امسال کے اعداد و شمار بھی بتاتے ہیں کہ اس سال نمایاں اضافہ کے ساتھ مہمان تشریف لائے گزشتہ سال کل مہمان تین لاکھ تریسٹھ ہزار آٹھ سو چونسٹھ تھے اور امسال چار لاکھ چونسٹھ ہزار چھ سو پینتیس ہوئے بعض مہنیوں میں تو جہانوں کی تعداد اکانوے ہزارہ تک پہنچ جاتی رہی چونکہ ان کے لئے رہائش کی وقت ہو جاتی تھی باوجود بار بار وسعت دینے کے پھر مرد یہ ضرورت پیدا ہو گئی اور انشاء اللہ ابھی بھی پیدا ہوتی رہے گی۔تو اس کے لئے ایک جدید بلاگ تعمیر کیا گیا ہے جس میں یارہ بیڈ رومر ہیں ان میں ایک سے زائد مہما نے ٹھہر سکتے ہیں اس طرح کھانے وغیرہ کے کمرے الگ الگ بنائے گئے ہیں۔ر خطاب حضرت خلیفہ ربع الرابع حماسه سالانه ۱۹۸۳ و المفضل ۱۳ اپریل ۱۹۸۷) حضرت خلیفة امسح الرانی ایدہ الہ تعالیٰ بنصرہ العربیہ فرماتے ہیں۔اب جلسے کا یہ نظام دنیا کے بیس سے زائد ممالک میں خدا کے فضل سے جاری ہو چکا ہے اور رفتہ رفتہ پھیلتا جا رہا ہے اور امید ہے کہ چند سال کے اندر اندر انشاء اللہ ایک قادیان کا جلسہ اپنے ہم شکل اتنے جلسے پیدا کر دے گا کہ اجمالک سے زائد میں ویسے ہی جلسے ہوا کریں گئے اور ہر ملک میں حضرت مسیح موعود کا لنگر جاری ہو گا پس چونکہ جماعت کو یہ نام بہت پیارا ہے اور بیج موجود کے لنگر کے ساتھ ہی دل نرم ہو جاتے ہیں اور طبیعت میں بے شمار محبت جوش مارتی ہے اس لئے جلسے کو کارکنان کی کمی نہیں ہو سکتی۔ر خطیه فرموده ۲۰ جولائی منشار برطانیہ، مطبوعہ اکتون له الفضل) ماہ و سال کی سو سالہ طوالت پر ایک طائرانہ نظر سے کہیں زیادہ ایمان افرون حضرت خلیفہ ایسے الانی کی یہ پر بلال پیش گوئی ہے جو روشن تر منتقبیل کا لفظ آنکھوں کے سامنے سے آتی ہے۔اگر احمدی اپنے ایمان پر قائم رہے تو یہ لنگر بھی ہمیشہ قائم رہے گا اور کبھی نہیں مٹے گا کیونکہ اس کی مینیاد خارا کے مسیح موعود نے قائم کی ہے جس کو خدا تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ تین سو سال کے اندر تیری جماعت ساری دنیا پر غالب آجائیگی اور تین سو سال میں یہ لنگر ربوہ میں نہیں رہے گا بلکہ تین سو سال کے بعد ایک لنگر امریکہ میں بھی ہوگا۔ایک سیر روحانی جلد سوم ۱۳۶۵) 144