المحراب — Page 136
آپ خدا کی تربیت یافتہ تھے آنے والے مہمانوں پر کرم کی انتہا کردیتے۔منکسر مزاج خلیق اس کا ندازہ ذیل کے ایک فقرے سے ہو سکتا ہے جو اخبار المعلم نے آخری ایام کی ایک ملنسار، دوست تو از متحمل اور شدت سے محبت کرنے والے تھے ان صفات کے ساتھ وہ بات کے عنوان سے ریکارڈ کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔اپنے ماننے والوں اور زمانے والوں کی تخصیص نہیں کرتے تھے۔آپ کو مہمانوں کی عزت نفس بعض الرقات مسمانوں کو ایک چیز چاہیے مگروہ نہیں ملتی تو بیگم میری اُن کے ذوق و رحمان، اکل و شرب کی علاقائی عادات، زمنجی دسیاتی کیفیت کا اپنی فطری روح کو کھا جاتا ہے۔ذکاوت سے جائزہ لینے میں کوئی دقت نہ نگت آپ مہمانوں کا متبسم چہرے سے استقبال مہمان کا اکرام دیکھ کہ بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کوئی معمولی مہمان نہ تھے بلکہ بخارا فرماتے۔اُن کو زیادہ سے زیادہ آرام پہنچانا خود پر فرض کر لیتے اور عزت و تکریم سے رخصت کے مہمان تھے خدا کے پیارے بیج کے مہمان تھے ورنہ چنار میں نولس کا بھوکا سو بھانا عرش کو فرماتے ، آپ کا انداز ایسا ہوتا کہ جانے والی جدائی موادو کو محسوس کرتا اور آپ بھی اپنی بے قراری تھا نہ ہلا دیتا ایک دن بعض ناگزیر وجوہ کی بنا پر بہت دیر سے کھا نا ملا اور بعض مهمان تو بغیر نہ پاتے اکرام ضیف کے متعلق آپ کے علمی درس کے نمونے اور ارشادات اس بے مثال کھانا کھائے بھوکے ہی اپنے اپنے کروں میں جاکر سو گئے نہ تو انھوں نے شکایت کی نہ کسی سے وگر کہ کوئی ان سے ہمدردی کرتا مگر جب انھوں نے صبر کیا اور کسی سے ذکر تک نہ کیا تو خود کیفیت کا اندازہ لگانے میں محمد ہوں گے۔آپ فرماتے ہیں۔" میرا ہمیشہ خیال رہتا ہے کہ کسی مہمان کو تکلیف نہ ہو بلکہ اس کے لیے ہمیشہ تاکید کرتا رہتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے مہمانوں کو آرام دیا جاوے۔مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے اور ذر یہی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔ا ملفوظات حضرت مسیح موعود مجلد ۵ و ۲۰۶ اسی سلسلہ میں آپ کا ارشاد ہے۔رب العرش نے جس کے وہ مہمان تھے اپنے فرستادہ کو الہام کیا۔طْعِمُ الْجَائِعَ وَالْمُعْتَرَ۔وکھیو کے اور منتظر کو کھانا کھلاڈا صبح سویر سے حضور نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ بعض ممان رات بھر مجھبو کے رہے اسی وقت حضور نے لنگر سے منظم بین کو بلایا اور بہت تا کیار فرمائی کہ مسمانوں کی ہر طرح خاطر تواضع کی جائے۔شروع میں جلسہ سالانہ کے مہمانوں کا سارا خرچ حضرت اقدس خود بر داشت کرتے تھے نگر خانہ کے مہتم کو نیکی کر دی جائے کہ وہ ہرشخص کی احتیات کو تب الر کے اگر چہ و سال کی کی منفی نگر خدائی کفالت کے وعدوں پر اتنا تو کل تھا کہ کبھی تردد نہ ہوا آپ مگر چونکہ وہ اکیلا آدمی ہے اور کام کی کثرت ہے ممکن ہے کہ اسے خیال نہ رہتا ہو اس لیے کوئی دوسرا شخص اسے یا دلار یا کرے کسی کے میلے کپڑے وغیرہ دیکھ کر اس کی تواضع سے دستکش نہ ہونا چاہیے کیونکہ مہمان تو سب یکساں ہی ہوتے ہیں۔اور جو نئے اور نا واقف آدمی ہیں تو یہ ہمارا * ایک ایسے موقع پر جب محمان بڑی کثرت سے آئے ہوئے تھے آپ نے مہمانوں کی تکریم ملحوظ رکھنے کا اہتمام کرنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا۔دیکھو بہت سے معان آئے ہوئے ہیں ان میں سے بعض کو تم شناخت کرتے ہو اور بعض کو نہیں اس لیے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الاکرام جان کر تواضع کرو۔۔تم پر میر حسن ظن ہے کہ مہمانوں فرماتے ہیں۔"جو شخص ایسا خیال کرتا ہے کہ آنے میں اس پر بوجھ پڑتا ہے یا ایسا سمجھنا ہے کہ یہاں شہر نے میں ہم پر بوجھ ہو گا اسے ڈرنا چا ہیے کہ وہ شرک میں مبتلا ہے ہمارا تو یہ اعتقاد ہے کہ اگر سارا جہاں ہمارا خیال ہو جائے تو ہمارے جہات کا متکفل خدا تعالیٰ ہے۔ہم پر ذرا بھی بوجھ نہیں۔ہمیں تو دوستوں کے وجود سے بڑی راحت پہنچتی ہے " الملفوظات حضرت مسیح موعود جلد اول ص ۴۵۵ حضرت مفتی ظفر احمد کپور تھلوی بیان کرتے ہیں۔ایک دفعہ مجلسہ سالانہ کے موقع پر خرچ نہ رہا ان دنوں جلسہ سالانہ کے لیے چندہ کو آرام دیتے ہو۔ان سب کی خوب خدمت کردے۔اگرکسی کوگھر یا کان میں جمع ہو کر نہیں جاتا تھا حضور اپنے پاس ہی سے صرف فرماتے تھے۔میر ناصر نواب صاحب مرحوم سردی ہو تو لکڑی یا کوئلہ کا انتظام کرد و یا ر ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد ص ۲۳) نے آکر عرض کی کہ رات کو مہمانوں کے لیے سالن نہیں ہے آپ نے فرمایا کہ بیوی صاحبہ سے کوئی زیور لے کر جو کفایت کر سکے فروخت کر کے سامان کر لیں چنانچہ زیور فروخت یار میں کر کے حق ہے کہ ان کی سپر ایک ضرورت کو بند نظر رکھیں بعض اوقات کسی کو بیت الخلاء میر صاحب روپیہ لے آئے اور مہمانوں کیلئے سامان بہم پہنچا دیا دو دن کے بعد پھر میر صاحب کا ہی پتا نہیں ہوتا تو اسے سخت تکلیف ہوتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ مہمانوں کی ضروریات کا بڑا خیال رکھا جاوے میں تو اکثر چار رہتا ہوں اس لیے معذور ہوں مگر جن لوگوں کو ایسے کاموں کے لیے قائم مقام کیا ہے یہ ان کا فرض ہے کہ کسی قسم کی شکایت نہ ہونے دیں۔۔!! ( ملفوظات حضرت مسیح موعود جلات ص ۲۲۰) حضور مہمانوں کی جملہ ضروریات کا کسی فکر مندی اور تعہد سے خیال رکھتے تھے نے رات کے وقت میری موجودگی میں کہا کہ کل کے لیے پھر کچھ نہیں فرمایا کہ " ہم نے یہ رعایت ظاہری اسباب کے انتظام کر دیا تھا اب تمہیں ضرورت نہیں جن کے مہمان ہیں وہ خود کرے گا لیا اگلے دن آٹھ یا نو بجے جب بیٹھی رساں آیا تو محضورنے میر صاحب کو اور مجھے بلایا۔چھٹی رسان کے ہاتھ میں دس پندرہ کے قریب منی آرڈر ہوں گے جو مختلف جگہوں سے 10^