المحراب

by Other Authors

Page 132 of 207

المحراب — Page 132

دعائیں ہیں مامور خدائی حکم کے ماتحت مانگتا ہے اور جو دعائیں خدائی حکم کے اخت ایسا انتظام ہو گیا کہ زمین کے کناروں سے احباب اپنے اپنے ملکی لیاس اور شکل مانگی جائیں وہ پہلے سے ہی مقبول ہوتی ہیں اور دائمی اثرات کی حامل ہوتی ہیں۔وہ دشاہت کے ساتھ مرکز میں آئی اور بچشم خود دیکھیں کہ اسی جماعتیں کیسی ہوتی ہیں۔انقلاب آفریں ہوتی ہیں اور تبعی کو فائز المرام کر دیتی ہیں نسلاً بعد نسل اپنی آنکھوں پھر یہ طیور اڈ کہ واپس اپنے مساکن میں جائیں تو ایسی خوشبو ساتھ لے جائیں جوان سے دعاؤں کی قبولیت دیکھتے ہوئے فدائیان احمدیت اپنے ایمان میں تازگی محسوس کا ماحول معطر کرتی ہے۔کرتے ہیں جو بیج امام آخر زماں کے ہاتھوں ہوئے گئے آج سدا بہار باغ کی طرح ثمر دار ہیں۔جماعت کی تدریجی ترقی اسی فانی فی اللہ کی دعاوں کا معجزہ ہے قرآنی استاد ہے۔ترجمہ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم ملک کو اس کی تمام اطراف سے کم جلہ سالانہ کے موقع پر افتتاحی اور اختتامی دعا کے علاوہ بھی بہت سے مواقع کرتے چلے آرہے ہیں۔" مل کے دعا کرنے کے میسر آتے ہیں۔لاکھوں کے مجمع میں کوئی دین کی ترقی کوئی عاقبت (الرعد آیت ۴۲) مختلف نسلوں رنگوں قومیتوں اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے افراد یکجا ہوتے کی خیر کوئی بچوں کی کامیابی کوئی بیماروں کی صحت کوئی اولاد کوئی دیگر مشکلات کے لئے ہیں تو خدا تعالیٰ کی محبت کے سائے میں یکرنگ یک رنا بہت معاشرہ جنم لیتا دعا مانگ رہا ہوتا ہے۔بی ساری دعائیں مل کر نگرش پر جاتی ہیں تو دعائیں سنتے ہے۔پرانے تربیت یافتہ افراد نو واردان کی تربیت کرتے ہیں۔آغوش احمدیت والا خدا تعالی قبولیت کے در کھول دیا ہے پھران مانگنے والوں کی الگ الگ دعا ہر میں ایک سی اقدار نمو پاتی ہیں اور جماعت روحانی لحاظ سے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی ایک کے حق میں قبول ہو دیاتی ہے۔طرح مضبوط و تحکم ہوتی رہتی ہے۔نئے سماجی تعلقات جنم لیتے ہیں نئے رشتے ناتے امام وقت کی زیارت کیجائے خود روحانی سیرانی کا ذریعہ بنتی ہے وہ ہمہ وقت استوار ہوتے ہیں۔جائےسالانہ کے موقع پر کثیر تعداد میں نکاح شادیاں برکات کا نیا میروں سے لدے ہوئے درخت احمدیت کے لئے دعاؤں میں مصروف رہتے ہیں۔باب کھولتی ہیں۔ان دعاؤں سے زندہ احباب ہی فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ فیضان کی یہ جاری و سالانہ اجتماع مستقبل میں جہاں گیری کی تربیت مہیا کرتا ہے۔تو نہالاتِ ساری نہر وفات یافتگان کو بھی سیراب کرتی اور ان کی بلندی درجات کا باعث بنتی جماعت پختہ عمر تقیوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔نئے نئے تجربات سے گزارتے ہے۔جلسوں میں معمولی دوران سال وفات پانے والوں کے لئے دعا ہوتی ہے۔ہیں۔ان بزرگوں سے ملتے ہیں جن کے کارناموں کے متعلق کبھی سنایا پڑھا ہوتا ہے۔بہشتی مقبرہ میں غیر معمولی دعاؤں کے سیلاب کا بہاؤ رہتا ہے۔افراد روزانہ ان مقابر فراہمی آپ دواز میں چھوٹی چھوٹی خدمات مستقبل کے جہاں بانوں کی تربیت میں اہم کی زیارت اور دعا کے لئے جوق در جوق آتے ہیں۔اُن کے اسلام علیکم یا اہل القنور کہ دارا دا کر تی ہیں۔فرشتہ صفت بزرگ در ننھے فرشتے دعائیں دینے اور دعائیں میں سر وفات یا فتہ بلا تخصیص شامل ہوتا ہے۔قبرستانوں میں جاتے رہنے کا ارشاد لینے سے ہمہ وقت رو بہ خدا رہتے ہیں۔النبی صحیح معنوں میں نہیں تعمیل پذیر ہوتا ہے بہشتی مقبرہ قادیان اور ربوہ پر درد مراکز بسلسلہ کی ترقی اور اہل مراکز کی تربیت میں جلسے اہم کردار اداکرتے دعاؤں سے مہکتا رہتا ہے۔فضائیں کسی اور سی پرسکون جہان کا نظارہ پیش کرتی ایل مراکز در دیوار در در دل وا کئے مقدور بھر اہتمام کے ساتھ مہمانان جلسہ کی ہیں۔یہی کشمش کشان کشان زائرین کا ہجوم مجمع رکھتی ہے۔لوگ دوران سال وقات مدارت کے لئے چشم براہ رہتے ہیں۔بستر لحاف چاور کی تیاری ہو یا دائیں مصالحے جمع پانے والوں کے اعزاء سے مل کر ان کا دکھ بانٹتے ہیں اور دیگر مسائل کے حل میں مدد کئے جارہے ہوں مکانوں میں گنجائش نکالی جارہی ہو مقصد صرف مہمانوں کو آرام دیتا ہوتا ہے کیونکہ میزبان اور مہمان دونوں میچ کے حوالے سے محترم ہو جاتے ہیں۔دیتے ہیں۔باہمی تعارف ، میل ملاقات ، خلا ملا، علیک سلیک اور دید و دید سے ایک مهمانان مسیح موعود کو خود تکلیف اٹھا کر کچھ آرام پہنچانا بین راحت محسوس ہوتا ہے نیا جہاں پیدا ہو رہا ہے جس کی بنیادیں ٹھیٹھ دیتی اصولوں پر استوار ہیں۔تفرقوں جس کے گھر زیادہ مہمان ٹھہرے ہوں وہ خود کو خوش نصیب سمجھتا ہے۔اور میں گھر عنادا اور نفرتوں کے بواعث اپنی موت آپ مرنے لگتے ہیں۔احمدیت کی چھاپ میں مہمان نہ ٹھہریں اُسے بہت دید کوفت ہوتی ہے۔اہل مراکز کی شہری حقوق کے شعو مشرق کے احمدی پر بھی ویسی ہی نظر آتی ہے جیسی مغرب کے احمدی پر یا شمال کے (CONIC SENSE) کی تربیت ہوتی ہے۔گلی محلوں کی صفائی اور ٹریفک کنٹرول احمدی پر اور جنوب کے احمدی پر نظر آتی ہے۔امتیازات کارخ تقومی کی طرف مڑ کا کام تو جوان ذوق و شوق سے کرتے ہیں۔اجتماعی طور پر رضا کارانہ کام کرنے کی انتی گیا ہے چشم تصور آنے والے بیک رنگ و بینی معاشرے کی جھلک جلسہ ہائے سالانہ وسیع مثال روئے زمین پر کہیں اور نہیں ملتی۔عام ماحول میں خوشگوار تبدیلی ظاہر کرنے پر دیکھ سکتی ہے۔خد العالے کے فضل سے جماعت زمین کے کناروں تک پھیل چکی ہے لگتی ہے کہ مرکز میں کوئی پُر وقار تقریب ہونے والی ہے اونٹوں اور ریڑھوں پر پرانی میر ملک میں پہنچے کہ ان کو علی نمونہ دکھانا مشکل کام ہے۔جلسہ سالانہ کی شکل نہیں قیام گاہوں پر پہنچائی جاتی ہے چکیاں مسلسل آٹا پیتی ہیں۔ایک طرف لنگر خانوں میں ۱۵۴