المحراب

by Other Authors

Page 12 of 207

المحراب — Page 12

يَا أَحْمَدُ بَارَكَ اللهُ فيكَ اے احمد خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی جاری سالانہ کی شکل میں پوری ہونے والی پیش گوئیاں خداف فرستادوں کے اقوال بظاہر عام الفاظ ہوتے ہیں مگر اُن میں آسمانی روح بول رہی ہوتی ہے۔اُن کی خوائیں پہنچی ہوتی ہیں۔رویا و کشوف پینو دار تعبیروں کے حامل ہوتے ہیں اور وہ خبر جو الہام کی صورت میں متیت بہت عظیم الشان صداقتوں کا نشان ہوتی ہیں اور اعلی وارفع شارت کے ساتھ اپنے وقت پر پوری ہوتی ہیں۔عصر حاضر میں جلبان القار محمد دین حق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی بظاہر غریب دے کر دیگر نام و بے ہر قادیان کے دور افتادہ بستی میں گوشہ نشینی کی زندگی پر قناعت کے ساتھ خوش تھے۔خدا تعالی نے ان کا ہاتھ پکڑا ، اُن کو دنیا پر ظاہر کیا اور ان کی صداقت کے ثبوت میں ان گنت نشانات دکھائے۔ان نشانات میں سے ایک سے برکت کا نشان تھا۔ایک تنہا شخص کی طرف رجوع جہاں ہوا۔تقوی ، نفوس علوم اور اموال میں برکت دی گئی یہ بشارت کئی انداز میں پڑی ہوئی اور ہوتی رہے گی۔ذیل میں چند پیش خبریاں درج کی جاتی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے امام الزامات حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود کو عطا کیں اور جو حلیہ سالانہ کی صورت میں ایک ناقابل تردید حقیقت اور ایمان افروز طریق پر پوری ہوئیں اور پوری ہوتی رہیں ہے گے۔ر إنشاء الله تعالى) ۶۱۸۷۴ کا ایک خواب بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔ہم کو پراگندہ نہیں کرے گی چنانچہ سال ہائے دراز سے ایس سی ظہور میں نے خواب میں ایک فرشتہ ایک لڑکے کی صورت میں دیکھا جو ایک اُونچے چبوترے پر بیٹھا ہوا تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک پاکیزہ نان تھا جو نہایت چمکیلا تھا وہ نان اُس نے مجھے دیا اور کہا ، یہ تیرے لئے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لئے ہے۔میں آرہا ہے۔انزول مسیح مت روحانی خزائن جلد ها صفه ۵۸۴ / ۵۰۵) یہ خواب اس طرح پورا ہوا کہ مسیح کا لنگر خانہ آج تک کبھی ایک دن کے لئے بھی بند نہیں ہوا۔سینکڑوں ہزاروں اور لاکھوں افراد اکس جسمانی اور روحانی مائدہ سے سیراب ہو رہے ہیں۔۱۸۸۱ء میں خدا تعالیٰ نے آپ کا نام بیت اللہ رکھا۔اس یہ اُس زمانہ کی خواب ہے جبکہ میں نہ کوئی شہرت اور نہ کوئی دعوئی رکھتا میں پورے کرہ ارض سے قوموں کے اجتماع کی نوید ہے۔تھا اور نہ میرے ساتھ در دایوں کی کوئی جماعت تھی مگر اب میں کے ساتھ بہت سی وہ جماعت ہے جنہوں نے خود دین کو دنیا پر مقدم رکھ کر اپنے تئیں درویش بنا دیا ہے۔اور اپنے وطنوں سے ہجرت کر کے اور اپنے قدیم دوستوں اور اقارب ۱۸۸۲ ۶ میں خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ دعا سکھائی۔رب لا تذرني فَرْدًا وَأَنتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ (تذکره ها) سے علیحدہ ہو کر ہمیشہ کے لئے میری ہمسائگی میں آباد ہوئے ہیں اور نان سے میں (ترجمہ) اے خدا تو مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو خیر الوارثین ہے۔نے یہ تعبیر کی تھی کہ خدا ہمارا اور ہماری جماعت کا آپ متکفل ہوگا اور رزق کی پیشنگی پھر اس دعا کی قبولیت کی بٹ رہیں عطا فرمائیں جن میں کثیر