المحراب — Page 90
کہ اسے گو تو خیر ہم تجھے ایسے مقام پہنچانے والے ہیں کہ دنیا تیری تعریف کرنے پر مجبور ہو گی توکون شخص ہوتا جو خدا تعالیٰ کے اس پروگرام میں حائل ہو سکتا اس نے محمدی اکسٹھ واں جلائےسالانہ انوار کی تجلیات کو روشن کرنا شروع کیا اور اس کے حسن کو اتنا بڑھایا کہ نیا کی تمام خوبصورتیاں اس حسین چہرہ کے سامنے ماند پڑ گئیں اور دوست اور دشمن سب کے سب یک زبان ہو کہ پکار اٹے کہ محمد حقیقت محمد اور قابل تعریف ہے صلی اللہ علیہ وسلم بیلہ میں علمائے سلسلہ احمدیہ کی تقاریر کی تفصیل حسب ذیل ہے۔حضرت مفتی محمد صادق ذکر حبیب ال کی عمر اکم علیہ وسلم کی غیرت منعقده ۲۷۲۶ ۲۸ دسمبر ۱۹۵۳ به بمقام ربوه ور دسمبر کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے انتقامی خطاب فرمایا۔جس میں پروفیسر قانی محمد اسلم صاحب بالخصوص یہ تو جہ دلائی کہ جماعتی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ نئی نئی اصلاحات ہوں اور نئی قاضی محمد نذیر صاحب لائلپور سی حضرت مسیح علیہ السلام کی بھرت کشمیر مولوی عبد المالک خانصاحب شعائر اسلام کی اہمیت صداقت حضرت مسیح موجود قد آیا : حدیث حضرت کی رو سے بر مینی میں تبلیغ کے حالات چوہدری عبد اللطیف صاحب فرانس میں تبلیغ کے حالات ملک عطاءالرحمن صاحب قیود اور اصلاحات کو خوشی سے برداشت کیا جائے۔حفاظتی نقطہ نگاہ سے ایشیخ اور پنڈال میں بیٹھنے والے سامعین کے درمیان غیر معمولی فاصلہ تھا۔اس لئے حضور نے اس امر پر اظہار ناراضنگی فرماتے ہوئے کہا کہ حفاظت کے نے ظاہری تا بیر بھی ضروری ہیں لیکن خلاف کو بادشاہت کا رنگ مت در چنانچہ فوری طور پر فاصله ختم کردیا گیا۔۲۷ دسمبر کو اپنی دوسری تقریر میں حضور نے اپنے مستقل طریق و دستور کے مطابق اسلامی پردہ اوراس پر اعتراضات کے جوابات حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد راس سال بھی مختلف اہم اور ضروری امور پر روشنی ڈالی۔مثلاً پاکستان کے بنیادی اصولوں کے متعلق سفارشات - حضرت نصرت جہاں حرم حضرت مسیح موعود کی وفات تغیر بود، ننده شانه مسئلہ فلسطین مسئلہ کشمیر بیرونی مالک میں تعمیر بوت الصلاۃ، اور مسیح موعود کی پیش گوئیاں مخالفین سلسلہ کے بعض اہم اعتراضات کے حضرت مصلح موعود کے بارے میں حضرت میری زین العابدین ولی الہ شاہ بجوابات دین حق۔۔ناقل کے عقائد کو صحیح طور پر ہم مانتے ہیں یا ہمارے مخالف ملک عبد الر حمن صاحب خادم مولوی ابوالعطاء صاحب جماعت احمدیہ کی تدریجی ترقی حضرت مولانا جلال الدین شمس راسلام کی تائید این مغربی ممالک میں انقلابات حضرت جوید سی محمد ظفر اللہ خان جماعت کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کی ضرورت وغیرہ۔دسمبر کو حضور کی انتقامی تقریرہ تعلق باللہ کے موضوع پر تھی جس میں تستوف کے بہت سے باریک اور ضروری مسائل پر آسان اور دلنشین پیرا یہ میں روشنی ڈالی اور دس ایسے ذرائع کی نشاندہی فرمائی۔جن سے انسان محبوبان الہی کے پاک گروہ میں شامل ہونے کی سعادت حائل کر سکتا ہے۔۱) صفات البیہ کا دور در ۲۱) صفات الہیہ نریندیر (۳) خدمت متعلق۔(۳) گناه پر ندامت (۱۵) ضرورت دُعا کا احساس (۹) تدبر کامل او در توکیل اس جلسہ میں پاکستان کے بعض ممتاز صحافیوں نے بھی شرکت کی ۲۶۰ تاریخ کامل (6) انصاف پروری (۸) تفو سے (۹) صفات الہیہ کی عکاسی (1) محبت الہی کو شیہ اجلاس میں نظارت دعوت و تبلیغ کے سخت دنیا کی مختلف زبانوںمیں تقاریر کا پروگرام کے لئے دھا۔ہوا جس میں دیسی زبانوں میں تھا یہ ہوئیں۔پاکستان بھر کے علاوہ انگلستان امریکہ تو کی بو منی، فرانس سوڈان جیشہ حین جینی ترکستان اور انڈونیشیا سے بھی احباب تشریعیت لائے۔جانس الاله مستورات حضور نے اس کیہ معارف تقریر کے اختتام پر فرمایا۔تمہارے کاموں کا آخری انحصار دعا پر ہے ہیں انسان کو چاہیے کہ وہ للہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھکے اور اس سے کہے کہ الہی تیرا وجود مخفی ہے، میری عقل سخت ناقص اور ناتمام ہے مگر میرے دل کے مخفی گوشوں میں تیرے وصال کی ایک نہ ملنے والی خواہش پائی جاتی ہے میرا دل تجھ سے ملنے کے لئے بیتاب ہے میں چاہتا ہوں کہ تیری محبت کو حا صل کروں مگر اسے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی تمام تقاریر نیز حضرت مفتی محمد صادق ، حضرت میرے رب ! میری کوششیں اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتیں۔جب تک تیر سے فضل صا حبزادہ مرزا ناصر احمد حضرت مولانا جلال الدین شمس، اور حضرت چوہدری محمد میرے شامل حال نہ ہوں پس تو اپنی محبت سے مجھے حقہ عطا فرما، اور مجھے ان لوگوں میں ظفر اللہ خان صاحب کی تصاویر مردانہ جلسہ گاہ سے سنی گئیں۔شامل فرما جو تیر سے محبین کے پاک گروہ میں شامل ہوں ؛ ۹۳