المحراب — Page 91
اس جلسہ میں علمائے سلسلہ کی تقاریر کی تفصیل در زیج ذیل ہے۔ذکر حبیب حضرت مسیح موعود کی بعثت سے مستی نباری تعالے کا ثبوت۔حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب اسلام میں خلافت کی اہمیت مولوی عبد المالک مان صاحب سپین میں تبلیغ دین۔مولوسی کرم الہی صاحب ظفر عقیدہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ قاضی محمد نذیر صاحب لائلپوری صداقت حضرت مسیح موعود از روئے قرآن مجید مولوی محمد یار صاحب عارف جماعت احمدیہ کی دینی (تافل) خدمات چوہدری مشتاق احمد صاحب با جوه انڈونیشیا میں تبلیغ دین کے حالات مولوی امام الدین صاحب معلوم ہوتی ہے۔ایس تمہیں اپنے اس امتیاز کو قائم رکھنا چاہیے۔اس کے علاوہ اپنے اندر نظام کی عادت ڈالنی چاہئیے۔ان کا اندہ کیا ہو اگر ہماری مستورات میں بد نظمی جاری ہے۔جلسہ مستورات میں ہونے والی تقاریر کی تفصیل حسب ذیل ہے۔عقیدہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ کا ایمان حضرت سید و مریم صدیقہ صداقت حضرت مسیح موعود سیده بشه بلی بیگم صاحبہ شرائها بعیت اندرونی تبلیغ کے میدان میں ہماری مشکلات م اور ان کا علاج دعا اور اسکی برکات حضرت صاحتراده حافظ مرزا نا مهراحمد اسلامی پرده حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ امته المجيد صاحبه امته الرشید شوکت صاحبه مود دانشورنس اسلامی معاشده احمدیت کے خلاف اعتراضات کے جوابات ملک عبد الرحمان صاحب خادم دور حاضرہ میں جماعت احمدیہ کی بعض ذمہ داریاں محمد عبد اللہ خان صاحب انگریزی تقدیر عبد الشکور رش صاحب امریکہ متنام محمدیت جماعت احمدیہ کے نقطہ نظر سے شیخ عبدالقادر صاحب جہاد اور جماعت احمدیہ حضرت مولانا جلال الدین شمس دسمبر کو شبیہ اجلاس میں غیر ملکی طلبا نے اپنی اپنی زبانوں میں نتھار روکیں۔پاکستان کے علاوہ جرمنی امریکیہ شام سودان جیشہ برما حین انڈونیشیا اور پریش گی آنا کے بعض احباب نے کبھی شرکت کی۔جان الانه مستورات اس سال تینوں دن پہلے اجلاس میں مستورات کا علیحدہ پروگرام تھا اور دوسرے حضرت اماں جان کی سیرت طیبہ امتہ اللہ عورت یہ صاحبہ امتہ البجيب بصاحبه حضرت مسیح موعود کے کارنامے حمیده صابرہ صاحبہ باسٹھ واں مالی سالانہ منعقده: ۲۸۲۷,۲۶ دسمبر ۶۱۹۵۳ بمقام : ریوه نہ کے پر آشوب حالات اور ظلم و ستم کی وہ یا ت نہ بھیاں ہیں مخا لنین احمدیت نے چلائیں تھیں۔شمع احمدیت کے پروانوں کے مرکز سلسل میں جمع ہونے ہیں رکاوٹ نہ پھینکیں احباب جماعت نئے جوش اور نئے ولولہ کے ساتھ جلاس میں شامل ہوئے۔بھارت، انڈونیشیا ملایا، افریقہ، یورپ اور امریکہ کے احباب مجیبی جلسہ میں شریک ہونے۔ور دسمبر کو حضرت خلیفة المسیح الثانی نے افتاحی خطاب میں فرمایا ہم اللہ تعالی کا اجلاس کا پروگرام مردانہ جلسہ گاہ سے ستایا جاتا رہا۔نیز حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی ذکر کرنے اور دین حق ( قل کے نام کو بلند کرنے کی خاطر یہاں پر جمے ہوئے ہیں۔دین جوتے نا قل پر چاروں طرف سے یورش ہو رہی ہیں اور دین بن ناقلی کے مورچے پر سوائے احمدی تمام تقاریر مردانہ جلسہ گاہ سے سنی گئیں۔احمدی مستورات سے خطاب فرماتے ہوئے حضور نے مستورات کو تعمیر و نترالیہ کا قرین مبلغین کے اور کوئی نظر نہیں آتا۔تبلیغ کا جو عظیم الشان کام ہم نے شروع کردہ کتا ہے۔آن اور تعمیر محمدیہ بیت الصلواۃ ہالینڈ کے چندہ کی ادائیگی کی طرف تو تعبہ والی بحضور نے عورتوں کے کی کامیابی کے لئے خصوصیت سے دعائیں کروی چند یہ قربانی کی تعریف فرماتے ہوئے انتظامی قابلیت اپنے میں پیدا کرنے کی تاکید فرمائی۔۲۷ دسمبر کو دور سے اجلاس میں خطاب فرماتے ہوئے بھنور نے اہم جماعتی امور نیز مت مایا تمہاسے اندر قربانی کا چند بہ مردوں سے زیادہ ہوتا ہے کیونکہ تمہیں خدا اور وقتی حالات کا تذکرہ فرمایا حضور نے فرمایا مسلمانان عالم اس وقت نہایت خطرناک تے قربانی کی ہی نہیں بنایا ہے۔ماں بہن اور بیٹی کی حیثیت میں محنت اور قربانی کے جو نہا سے حالات سے گزر رہے ہیں۔یہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ وہ باہمی اختلافات کو عورتوں میں نظر آتے ہیں وہ ایک دفعہ تو انسانی دل کو کپکپا دیتے ہیں۔مرد بھی بے تک بڑی بڑی قربانی کرتے ہیں مگر جو روح فدائیت کی معورتوں میں نظر آتی ہے۔وہ ما فوق الانسانیت کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی کرنے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔نا نخواندہ بھائیوں کو تعلیم فراموش کر کے متحد ہو جائیں۔ہر احمدی کو یہ عزم کرلینا چاہیے کہ وہ ملک کی مقاتلت اور راستی کام ۹۴