المحراب

by Other Authors

Page 85 of 207

المحراب — Page 85

احمدیہ کا سالانہ جلسہ نہیں اور یہ کہ جماعت کا سالانہ جلسہ الیسٹر اپریل) میں ربوہ میں ہوگا۔حضور نے فرمایا۔و ہمارا آینده جلسہ سالانہ انشاء اللہ نئے مرکز میں ہوگا اور وہ اس جگہ کا پہلا جلسہ ہو گا۔۔۔نہیں تو ساری جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس جلسہ میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں آنے کی کوشش کرے۔وہ جلسہ چونکہ نئے مرکز میں پہلا جلسہ ہو گا اس لیے خاص طور پر دہ دعاوں کا جلسہ ہو گا تا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے نئے مرکنہ کو ہمارے لیے دین حق (ناقل) کی عظمت اور بڑائی کو ظاہر کرنے کے لیے زیادہ سے زیاد با برکت کرے پس انھی سے تمام دوستوں کو تیاری شروع کر دینی چاہیے۔کا کوئی سوال میں جو اصل مقصد ہے وہ ہمارے سامنے رہنا چاہیے اور جو اسل مقصد ہے اس کو ہمیں ہر چیز میرا ہمیت دینی چاہیے۔اس کے بعد حضور نے قرآن مجید کی دعائیں ہو حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے حضرت ہاجرہ و حضرت اسمائیل علیہ السلام کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑتے ہوئے پڑھیں تھیں تلاوت کیں اور تمام حاضرین جلسہ کو اپنے ساتھ ان دعاؤں کو دہرانے کی تلقین فرمائی۔ان دعاؤں کے بعد حضور نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی قربانیوں کو تفصیل سے بیان فرمایا۔نیز فرمایا ہماری نصیحت یہی ہے کہ دنیا کے گوشے گوشے میں خانہ کعبہ کی نقلیں بننی چا ہیں اور دنیا کے کونے کونے میں تمھیں اس کے ظل تیار کرنے چاہئیں اس کے بغیر دین حق کی کامل اشاعت نہیں ہو سکتی۔پھر حضور نے ابراہیمی دعائیں جو خانہ کعبہ کی بنیادیں رکھتے ہوئے پڑھیں وہرائیں اس موقع پر حضور نے غذائی قلت کے پیش نظر آئیندہ جلسہ پر آنے والوں کو ادرا حباب جماعت کو بھی ساتھ دہرانے کی تلقین کی۔تحر یک فرمائی کہ زمیندار احباب آتے ہوئے کچھ نہ کچھ غلہ سامنے لائیں۔جلسہ کے پہلے روز مفتی مظلم فلسطین کے ذاتی نمایندے ایشیخ عبداللہ غوثیہ اور الیہ سلیم احتی اور البتہ عبد الحمید بک بھی تشریف لائے الشیخ عبداللہ بخوبیہ نے مسئلہ فلسطین اور اتحاد دین حتی (ناقل) کے موضوع پر عربی میں ایک موثر تقریر فرمائی جس کا اردو ترجمہ حضرت سید ندین العابدین ولی اللہ شاہ نے سنایا۔ربوہ کا پہلا جلسہ سالانہ ستاون واں جلسہ سالانہ منتقده : ۱۶/۱۵ ۱۷ اپریل ۱۹۲۹ء بمقام : نزد ریلوے اسٹیشن ربوه ۱۵ر اپریل کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اختتامی خطاب فرمایا۔حضور نے فرمایا۔یہ جلسہ تقریروں کا جلسہ نہیں یہ جلسہ اپنے اندر ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے ہے۔ایسی تاریخی حیثیت جو مہینوں یا سالوں یا صدیوں تک نہیں جائے گی بلکہ بنی نوع انسان کی اس دنیا میں جو زندگی ہے اس کے خاتمہ تک جائے گئی اس میں شامل ہونے والے لوگ ایک جلسہ میں شامل نہیں ہو رہے بلکہ روحانی لحاظ سے وہ ایک نئی دنیا ایک نئی زمین اور ایک نئے آسمان کے بنانے میں حصہ لے رہے ہیں ہیں اس جلسہ کو تقریریوں کا جلسہ مت سمجھو تقریریں ہوں یا نہ ہوں مختلف مضامین پر لیکچھ سنے کا موقع ملے یا نہ ملے اس اپنے خطاب کے آخر میں حضور نے فرمایا۔اے خدا جس طرح تونے مکہ مدینہ اور قادریان و برکتیں دیں اسی طرح تو ہمارے اس نئے مرکز کو بھی مقدس بنا اور اسے اپنی برکتوں سے مالامال فرما یہاں پر آنے والے اور یہاں پر بسنے والے، یہاں پر مرنے والے اور یہاں پر جانے والے سارے خدا تعالٰی کے عاشقوں اور اس کے نام کو بلند کرنے والے ہوں اور یہ مقام دین حق (ناقل) کی اشاعت کے لیے احمدیت کی ترقی کے لیے، روحانیت کے غلبہ کے لیے، خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کے لیے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اونچا کرنے کے لیے اور دین حق (ناقل) کو باقی تمام ادیان پر غالب کرنے کے لیے بہت اہم اور اونچا اور صدر مقام ثابت ہونا اس کے بعد حضور نے ان ہزار ہا مخلصین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ اٹھنا کرلی دعا کی اس کے بعد حضور سجدہ میں گر گئے اور بھنور کے ساتھ ہی تمام حاضرین جلسہ بھی سر بسجود ہو گئے اور رب العرش سے اس مقام کے بابرکت ہونے کے متعالق آنسوں کی جھر دی اور آدوریکا کے ساتھ دعائیں کی گئیں۔۱۶، اپریل کو احتساب جماعت سے خطاب فرماتے ہوئے حضور نے بعض تنظیمی اور متفرق امور کی طرف توجہ دلائی نیز قاریان سے نکلنے کی وجوہات بیان فرمائیں۔حضور نے فرمایا۔وہ وقت ضرور آئے گا جب قادیان پہلے کی طرح پھر جماعت احمدیہ کا مرکز بنے گا۔خواہ صلح کے ذریعے ایسا ظہور میں آئے یا جنگ کے ذریعے بہر حال یہ خلائی تقدیر ہے جو اپنے معین وقت پر ضرور پوری ہوگی۔قادریا ملے گا اور مضرور ملے گا لیکن اس وقت اس چیز کی ضرورت ہے کہ مہم نے مرکز میں نئی زندگی کا ثبوت دیں۔اور اس تنظیم کو زیادہ شان کے ساتھ قائم کرین