المحراب

by Other Authors

Page 86 of 207

المحراب — Page 86

جو آج ملک ہمارا طرہ امتیاز رہی ہے۔ار اپریل کو حضور نے جلسہ کے اختتامی اجلاس سے خطاب فرمایا۔اس خطاب میں حضور نے جلسہ کے بعض انتظامات کا ڈ کرنے کے علاوہ جماعت احمدیہ نے قادیان مہمانوں کو بہت سہولت رہی۔جلسہ کے لیے مختلف ٹرینوں کے ساتھ اضافی بوگیاں نگان گئیں اور اسپیشل ٹرینیں بھی پھیلائی گئیں۔مہمانوں کی رہائش کے لیے اسٹیشن کے دونوں طرف دور سنک بیر کیں بنادی سے آخرت کیوں کی " کو بھی اپنی تقریر کا موضوع بنایا۔حضور نے حضرت مسیح موعود۔۔۔۔گئی تھیں، خواتین کے لیے مخصوص سیر کوں کے گر دیہار دیواری بنادی گئی تھی۔بہت سے احباب نے کھلے میدان میں جیسے بھی لگا رکھے تھے اور کئی اصحاب رات کو بیرکوں میں جگر کے چند الہامات اور اپنے متعد د ر و یا بیان فرمائے جن میں قادیان سے ہجرت اور حضور کے ذریعے جماعت کی حفاظت او ر نے مرکز میں جماعت کو اکٹھا کرنے کی خبر دی ہ ہونے کی وجہ سے کھلے میدان میں بستر بچھا کر سوئے۔خواتین اتنی کثرت سے آئیں کہ ان کی رہائش کے انتظامات ناکافی ثابت ہوئے اور مردانہ بہرکیوں کا بھی کچھ حصہ عورتوں کے گئی تھی۔حضور نے بتایا کس طرح حیرت انگیز یہ نگ میں یہ تمام امور پولے ہو چکے ہیں۔حضور نے فرمایا۔اس وقت تک صبر نہ کر وہ جب تک دین حق ( ناقل) دوبارہ ساری دنیا میں غالب نہ آجائے کادیان سے جماعت احمدیہ کی ہجرت خدائی و عداں کے مطابق عمل میں آئی۔میں آسمان اور زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ خدا نے جو کچھ کہا تھاوہ پورا ہوا۔وہ پیسے دلدار، والباندا ہے جو آج کبھی اپنی ہستی کے زندہ نشان ظاہر کر رہا ہے۔دنیا کی اندھی آنکھیں دیکھیں یا نہ دیکھے ہیں اور بہرے کان سنیں یا نہیں لیکن یہ امرائل ہے کہ خدا کا دین پھیل کر رہے گا کمیونزم خوا کتنی طاقت پکڑ جائے وہ میرے ہاتھ سے شکست کھا کر رہے گا اس لیے نہیں کہ میرے ہاتھ میں کوئی طاقت ہے بلکہ اس لیے کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم ہوں " اس جلسہ میں ہونے والی دیگر تقاریر کی تفصیل حسب ذیل ہے۔حضرت مفتی محمد صادق ذکر حبیب حضرت مسیح موعود۔پر اعتراضات کے جوابات۔مولوی غلام احمد صاحب بدو ملی حضرت صاحبزادہ مرزا نا تعمر حماد پیکنگ اسلامی تعلیم کی روشنی ہیں۔ظہور میں مولود کے متعلق قرانی پیشگونیاں حضرت مولانا جلال الدین شمس تقری عبد الشکور کرے جرمن اسلام میں حکومت کا تصور۔پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب - حضرت مسیح موعود اور تجدید دین تق انا قلم مولوی البو العطاء صاحب غیر ممالک میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی جد وجہد تحکیم فضل الرحمن صاحب۔خطاب اسلامی اصول اور کمیونزم پرده پیش گوئی اسمه احمد فرائض۔احمد ید اللہ صاحب ماری شمس ملک عبد الرحمن صاحب خادم قاضی محمد نذیر صاحب لائلپوری۔مولوی عبد الغفور صاحب ات الاسلام حکومت کے ایشیا ایشیا اما احب لیے مخصوص کرنا پڑا۔ایک پہاڑی کے دامن میں لنگر خانہ قائم کیا گیا جہاں تمام مہمانوں کے لیے کھانا تیار ہوتا۔اس جگہ ہم بٹور لگائے گئے تھے۔پانچ ٹرک لنگر تھانہ سے کھانا قیام گاہوں تک پہنچاتے۔ربوہ کے لق و دق میدان میں پانی کی فراہمی ایک بہت مشکل مسئلہ تھا اور کئی ہزار روپے خرچ کر کے بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی تاہم حکومت کی مددستے چنار همینکہ میسر آگئے جو پانی فراہم کرتے تھے۔ان کے علاوہ متعدد مقامات پر پانی کے ٹیپ بھی لگائے گئے تھے۔جلسہ انتظامات مختلف نظامتوں کے سپرد کیے گئے تھے اور ہر نظامت کے تحت کئی شعبے مجھے حضرت خلیفہ المیہ جلسہ کے ہر شعبہ کی خود نگرانی فرماتے تھے۔جلس الانه مستورات بمقام نزد مردانه جلسه گاه حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ا ا پریل گول زنانہ جلسہ گاہ میں تشریف لاکر خواتین سے خطاب فرمایا۔اپنے خطاب میں حضور نے اس جلسہ کی عرض و غایت بیان کرتے ہونے فرمایا۔یہ جلسہ تقریروں کا نہیں دعاؤں کا ہے۔پھر حضور نے صحابہ حضرت کی پیشانی اور صحابیات رضوان اللہ علیہم تحسین کے صبر استقامت سے بعض ایمان افروز واقعات بیان فرمائے اور بتایا کہ انبیاء کی جماعتیں ہمیشہ تکلیفوں سے عزت پاتی ہیں میں اپنے نفس میں اور اپنی اولاد میں دین کی خاطر تکلیفیں برداشت کرنے کی عادت ڈالو، مربی عورت عزت کی مستحق ہے جو بچہ نہیں جنتی شیر جنتی ہے جو انسان نہیں فرشتہ جنتی ہے، ہیں وہ کام ہے جو صحابیات ا حضرت محمد مصطفی نے کیا اور میں تمھارے لیے حقیقی نمونہ اور حقیقی راہ نما ہے۔حضور کے تینوں خطابات مردانہ جلسہ گاہ سے براہ راست زنانہ جلسہ گاہ میں انقلابات کے متعلق انذارات والشابات حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ بھی سنے گئے اور پہلے دن کے جلسہ کی تمام کارروائی مردانہ جلسہ گاہ سے نشر کی گئی۔جلسہ سے چند دن بیشتری ربوہ کا ریلوے اسٹیشن منظور کر لیا گیا جس کی وجہ سے جلہ تورات میں کی جانے والی دیگر تقاریر کی تفصیل درج ذیل ہے۔