المحراب — Page 67
پینتالیس واں جلسہ سالانہ منعقده ۲۸۰۲۷۱۲۶ دسمبر ۱۹۳۹ء آئے اور قرآن کریم کا کوئی ایسا استعارہ میرے سامنے رکھ دے میں کو ہیں بھی استعارہ سمجھوں پھر میں اس کا حل قرآن کریم سے ہی پیش نہ کروں تو وہ لیے شک مجھے اس دعوی میں جھوٹا سمجھے لیکن اگر پیش کر دوں تو کے ماننا پڑے گا کہ واقعہ میں قرآن کریم کے سوا دنیا کی اور کوئی کتاب اس خصوصیت کی حامل نہیں۔" (فضائل القرآن صفحہ ۴۳۹) اس علیہ میں علمائے سلسلہ احمدیہ کی تقاریر کی تفصیل درج ذیل ہے۔بمقام ملحقہ گراؤنڈ بیت النور قاریان معجزات سنتی باری تعالی پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب ر دسمبر کو جان لانہ کا افتتاح فرماتے ہوئے حضرت خلیفہ البیع الثانی نے فلسفه طریق نماز مختصر خطاب فرمایا اور اپنے بچپن کے زمانے میں ہونے والے ایک ابتدائی زمانہ کے عیسہ اچھوت اقوام کی موجودہ بیداری سے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔اس جلسہ میں جمع ہونے والے منتھوڑے سے افراد غریب تھے۔ان حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق جماعت احمدیہ کس طرح نامہ اسکی ہے۔حضرت الحاج مولوی عبدالرحیم نیر قرآن مجید میں نسخ کے عقیدہ کا ابطال حضرت مولوی سید محمد سردار شاه میں سے بہت ہی کم ایسے تھے جو متوسط درجہ کے کہنا سکیں اور سکھوں کے لئے مسلمانوں سے اتحاد مفید ) سٹرار محمد یسف صاحب ایڈ میز نور ہو سکتا ہے یا ہندوؤں سے حضرت مسیح موعود کے اثر کی وجت مسئلہ ) اس نیت سے جمع ہوئے تھے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا جسے دشمن سرنگوں کر نے کی کوشش کر رہا ہے ہم اسے سرنگوں نہ ہونے دیں گے۔بدری صحابی نے کہا تھا یا رسول اللہ بیشک ہم کمزور ہیں ای سی کے بار میں گوں کے یاران میرا اصرار اصحاب اعراف اور دشمن طاقتور مگر وہ آپ تک نہیں پہنچ سکتا۔جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے یہی قلبی کیفیت قادیان کے اس جلسہ ہیں جمع ہونے ولوں کی تھی۔ان بے سہارا تیم افراد کے دل سے نکلے میں تغیر جو حضرت مسیح موعود کی آمد سے پوری ہور میں ) حضر مالی والی اس کی دین و یا حضرت مولانا غلام رسول ایکی ہوئے خون نے عرش الہی کے سامنے فریاد کی جین کو دنیا حقیر و ذلیل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ فضائل) سمجھتی تھی۔اللہ تعالی نے ان کو نوازا اور ان کے آنسوؤں سے ایک درخت تیار کیا جن کا بھی تم ہو اگر ان سے اتنا بڑا باغ تیار ہو گیا ہے تو اگر تم بھی اپنے آپ کو اسی طرح قربانیوں کے لئے تیار کرو۔تو کروڑوں درخت پیدا ہو سکتے ہیں۔؟ جن میں آپ منفرد ہیں۔حضرت مولانا ابوالعطاء انگان خوان یک اکران خوات و کمک با زنان صاحب خادم فضیلت محمدی بیگم کی پیشگوئی پر ایک نظر حضرت سید زین العابدین ولی الانشاه دسمبر کے دوست راجلاس میں تقریر کرتے ہوئے حضور نے دوران سال حالات تبلیغ جزائر شرق الہند مولادی رحمت علی صاحب فاضل ہونے والی جماعتی ترقیات اور اہم جماعتی امور کا تذکرہ فرمایا در ر دسمبر کو اختتامی خطاب میں حضور نے عید سے سالانہ منا یہ سے شروع ہوتے والے عالمانہ مضمون فضائل القرآن " کا چھٹا اور آخری حصہ بیان فرمایا۔حضور نے سال پر محیط اس عظیم السان مضمون کے اختام پر فرمایا او غرض قرآن کریم کو دو عظمت حاصل ہے جو دنیا کی اور کسی کتاب کو حاصل نہیں اور اگر کسی کا یہ دعوی ہو کہ اس کی مذہبی کتاب بھی اس فضیلت کی حامل ہے تو میں چلیغ دیتا ہوں کہ وہ میرے سامنے آئے اگر کوئی دید کا پیر سلے تو وہ میرے سامنے آئے اگر کوئی توریت کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے آنے اگر کوئی انجیل کا پیرو ہے تو وہ میرے سامنے جلاس لانه مستورات حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ہر دسمبر کو مستورات سے خطاب فرمایا۔جس میں خواتین کو اعمال صالحہ سجا لانے کی طرف توجہ دلائی نیز مستورات کو تحریک جدید کے مطالبات پر خصوصا سادہ زندگی کے مطالبہ پر غسل کرنے کی ہدایت فرمائی۔خواتین کے جلسہ سے حضرت ڈاکٹر حسمت اللہ، حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق اور جناب مولانا ابو العطاء صاحب نے بھی خطاب فرمایا۔مستورات میں سے روشن سخت صاحبہ بہت مان امته الرشید بیگم ، زبیده خاتون صاحبه استانی میمونه