المحراب

by Other Authors

Page 5 of 207

المحراب — Page 5

امی حضرت مرا امیر ادریانا یا دارای ایران تعلی پیغام بر موقع جلسه سالانه قادیان (بھارت) منعقده ۲۶ ۲۷ ۲۸ دسمبر ۶۱۹۹ پیارے شرکائے جلسہ سالانہ قادیان ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته اللہ تعالیٰ کا بہت احسان ہے کہ اس نے آپ کو اس عظیم با برکت اجتماع میں شرکت کی توفیق عطا فرمائی ہے میں کی بنیاد سیدنا حضرت مسیح موعود بانی مسلہ عالیہ حمید اللہ تعالیٰ آپ پر ہمیشہ سلامتی نازل فرماتا ہے) نے اور دسمبر شاہ کو اسی مقدس بستی قادیان میں رکھی تھی۔بیان کیا جاتا ہے کہ اس پہلے جلسہ میں حاضرین کی تعداد دی تھی۔لیکن غالبا اس تعداد میں عورتوں کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے لئے علیحدہ انتظام ہی شروع نہ ہوا ہو۔خدا کی تقدیر نے بعد ازاں ثابت فرما دیا کہ جس مبارک وجود نے اس جلسہ کی داغ بیل ڈالی اور اس کے چند مصاحب جو اس جلسہ میں شریک ہوئے، ان کا مقام خدا کی نظر میں بہت بلند تھا اور ان کی عاجزانہ راہیں خدا کو پسند آئیں۔چنانچہ آج جبکہ تقریباً ایک سو سال اس پہلے جلسہ کو گزر چکے ہیں۔اس عرصہ میں دنیا بھر مں اتنے ممالک میں جماعتیں قائم ہو چکی ہیں کہ حاضرین جلسہ کی تعداد سے ان ممالک کی تعداد کہیں زیادہ ہے اور اور ان میں سے ہر منگ میں ان کے سالانہ جلسوں کے شرکاء کی حاضری بھی دے سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔آخری جلسہ جس میں مجھے پاکستان میں شمولیت کی توفیق علی اس ایک جلسہ میں خدا کے فضل سے پہا ۲ لاکھ سے زائد مردوزن شریک تھے۔انگلستان کے گوشتہ جلسہ میں بھی دور ہزارہ کے لگ بھگ اور جرمنی کے جلسہ میں دس ہزار سے زائد حاضری تھی۔اسی طرح افریقہ اور یورپ اور ایشیاء کے بکثرت ایسے ممالک ہیں جن میں ہزار ما کی تعداد میں جلسوں میں شرکت کی جاتی ہے۔پس خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بایرگ و بار ہو دیں اک سے ہزار ہو دیں کا منتظر دنیا میں ہر طرف دکھائی دیتا ہے۔میری نصیحت آپ کو یہ ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے تعداد میں اتنی برکت دی ہے اور حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی اس دعا کو غیر معمولی طور پر شرف قبولیت بخشا ہے کہ " ایک سے ہزار ہو دیں یا برگ وبار ہو دیں، وہاں ہمیشہ اس دعا کے دوسے حصہ پر بھی آپ کی نظر ہے اور ایسے نیک اعمال بجا لائیں کہ آپ حضرت مسیح موعود کی روحانی اولاد کے طور پر حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی نیک تمناؤں پر پورا اتر نے والے ہوں اور آپ کے حق میں حضرت مسیح موعود کا یہ منظوم کلام پوری شان سے صادق آئے۔اہل وقار ہو دیں فخر دیار ہو دیں حق پر نثار ہو دیں مولی کے یار ہوویں