المحراب

by Other Authors

Page 40 of 207

المحراب — Page 40

ر دسمبر کو بعد نماز ظہر و عصر حضور نے بیت الاقصی میں تقریر فرمائی جس میں اور دریوں کے ایک فراخ فرش کے علاوہ بنچوں امیروں اور کرسیوں آپ نے اپنی بعثت کی اغراض بیان فرمائیں اور بتایا کہ حمدی اور غیراحمدی میں کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔حضرت حکیم مولودی تور الدین کی صدارت میں کیا فرق ہے۔سیر کو جهان خانہ جدید میں ایک محلیس ہوئی جس میں باہر سے آنے والے تمام مہمان شریک ہوئے اس مجلس میں خواجہ کمال الدین صاحب نے تقریر کرتے ہوئے جماعت کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور اخراجات کی طرف جماعت کو توحید دلائی۔اس موقع پر حضرت مسیح موجود بھی تشریف لے آئے تو خدام نے حضور جلسہ ہوا۔حضرت صاحبزادہ مرزا محمد احمد صاحب ، حضرت حافظ عبد الرحیم صاحب پھر حضرت صاحب صدر نے الله نور السموات والارض۔۔۔۔۔الخ کے موضوع پر تقریر فرمائی اور بتایا کہ ہر انجمن ہر شخص اور ہر جماعت کی کامیابی کا واحد راستہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا، عاجزی اور گڑ گڑانا اور رونا اور بیج یدر ۲۷ دسمبر ) سے عرض کی کہ کچھ اس دفرمائیں اس پر حضرت اندکس نے فضائل پر مبنی تقریر زمان اور تنزیہہ باری تعالیٰ کرنا ہے۔احباب اس مبارک موقع پر اس کثرت سے تھے کہ ۲۹ دسمبر جمعہ المبارک کے دن بیت الاخطی کا تمام بیرونی صحن مینار اور کنوئیں اور (حضرت اقدس کے ۱۲ دسمبر کو حضرت مسیح موعود نئے مہمانوں کی خاطر سیر کو تشریف لے گئے۔والد صاحب کی قبر کے اردگرد دونوں طرف یا ہر نکلنے کی سیڑھیوں تک لوگ احباب نہایت کثرت سے تھے۔پر ایک عاشقانہ طور پر حضور کے دیدار کے واسطے آگے کی طرف دوڑتا تھا۔اس واسطے بعض دوستوں نے حضور کے ارد گر دو ایک حلقہ فراج اس جلسہ میں بہشتی مقبرہ کے انتظام کے واسطے ایک انجمن بنائی گئی جس کا کی صورت میں ایک جگہ کشادہ بنادی جس کے اندر حضور چلتے تھے اور زائرین نام " انجمن احمد به کار پرداز مصالح بہشتی مقبرہ " رکھا گیا اس نہین کے زیارت بھی کہتے تھے ریشیز TRUSTEES) حضرت مسیح موعود نے نامزد فرمائے۔پیندر سہواں جلسہ سالانہ ر دسمبر کو ظہر و عصر کی نمازیں بیت الا قطعی میں جمع کر کے پڑھی گئیں اور بعد نماز حضرت مسیح موعود نے بیت الصلوۃ کے درمیانے در میں کھڑے ہو کر تقریر فرمائی۔اس تقریر میں حضور نے کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ کے معانی اور اس پر عمل کا طریق بیان فرمایا نیز باقی ارکان دین پر عمل کی طرف جماعت کو توجہ دلائی۔دسمبر کو دو بجے کے قریب حضور بیت الاقصی میں تشریف لے گئے جہاں نماز ظہر وپسر کی ادائیگی کے بعد حضور نے تقریر فرمائی اور گزشتہ روز کی تقریر کی جو علالت طبع کے باعث حضور مکمل نہ فرما سکے تھے تکمیل فرمائی۔منعقده ۲۶ تا ۲۹ دسمبر ۱۹ بمقام بیت الاقصی قادیان ۲۵ دسمبر کو انجن شہید الاذہان کا جلسہ ہوا جس کی روئیداد بیان پر تقریر فرمائی۔کرتے ہوئے اخبار" بدر" قادیان لکھتا ہے۔ر دسمبر کو حضرت حکیم مولانا نورالدین نے ضرورۃ الامام کے موضوع ور دسمبر کی صبح صدر آئین احمدیہ کا عام احیاس بیت الاقصی میں ہوا۔جیں جلسہ کے شرکا کا ہوش و خروش انہیں جلسہ کی متعین میں سالانہ رپورٹ پڑھی گئی اور انجین کا بجٹ ستایا گیا اور مولوی محمد علی صاحب اور تاریخوں سے پہلے ہی قادیان پہنچے جانے کا سبب بن جاتا۔۲۵ دسمبر کو علہ تشہد الا زمان کی وجہ سے بھی مہان دیوانہ دار دار مسیح پہنچنا شر ہو جائے چنانچہ اس کثرت کی وجہ سے وضو وغیرہ کا بار بار نظام تواجیہ کمال الدین صاحب نے تقاریر کیں۔نماز جمعہ سے قبل حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے " شرک اور اس کی بیخ کنی کے موضوع پر تقریر کی جو اتنے بڑے مجمع میں ان کی پہلی ہونا مشکل ہوتا۔کھانے کا انتظام بھی ایک ہی جگہ کرنا ضروری ہوگیا تقریر یتی۔آپ کے بعد حضرت حکیم مولانا نورالدین نے اپنی تقریر میں حضرت صاحبزادہ چنانچہ ظہر و عصر کی نمازیں بہت الاقصی میں جمع کی گئیں اور حضرت مسیح مرزا بشیر الدین محمود احمد کے جاری کردہ رسانہ نتیجہ الا ذہان کے مقاصد پر روشتی موعود اندرون خانه تشریف لے گئے نئے مہمان خانہ کے ساتھ کے میدان میں احباب جلسہ نشسجد الاذہان کے لئے جمع ہوئے جہاں مشینوں ڈالی۔(حیات نور صفحه ۲۹۵) بعد نماز جمعہ حضرت مسیح موعود کے فرمانے پر حضرت حکیم مولانا نور الدین صاحب نے ایک اور تقریر فرمائی جس میں حصول تقویمی کی طرف خاص توجہ دلائی ۴۰