المحراب — Page 41
لبعد نماز جمعہ احباب کی روانگی شروع ہوگئی اور اگلے دن تھور سے آدمی رہ گئے دسمبر کو بعد نمازظهر و عصر شیخ عبدالرحمان صاحب مدرس نے تقریر کی جیں کے بعد حضرت حکیم مولانا نور الدین نے احباب کو تلقین کی کہ وہ نفقہ فی الدین حاصل کرنے کے لئے اپنے میں سے ایک ایک آدمی اور اس کا خرچ بھی کریں تا دو دین سیکھ کر واپس جائیں اور اپنے اہل شہر کو سیا سی پہنچائیں۔دوران جلسه بیعت تقریباً ہر روز ہوتی رہی۔بیعت کرنے والوں کی کثرت کے باعث کئی پکڑیوں کی مدد سے بیعت کی گئی۔بعض آدمی درمیان میں کھڑے ہو کر حضور کے الفاظ دوہراتے اس طرح احباب بیعت کر سکے۔سولہواں جلسہ سالانہ منعقده ۲۸۰۲۷۰۲۶ دسمبر ۱۹ بمقام بیت الاقصی قادیان مگر اس بات کو پہچانے کا آئینہ کہ خدا کا حق ادا کیا جارہا ہے یہ ہے کہ مخلوق کا حق بھی ادا کر رہا ہے یا نہیں۔جو شخص اپنے بھائیوں سے معاملہ صاف نہیں رکھ سکتا وہ خدا سے بھی صاف نہیں رکھتا۔تقریر کے بعد حضور نے احباب سے مصافحہ کیا۔۲۸ دسمبر کی صبح حضور سیر کو تشریف لے گئے۔میدان میں ایک جگہ حضور بیٹھ گئے۔احباب نے زیارت کا شرف حاصل کیا۔بعض احجاب نے نظمیں پڑھیں۔نماز ظہر و عصر بیت الاقصی میں جمع کر کے پڑھی گئیں جس کے بعد حضرت مسیح موعود نے تقریر فرمائی اور گزشتہ روز کے مضمون کو مکمل فرمایا حضور نے فرمایا۔جو کچھ کل میں نے تقریر کی تھی اس کا کچھ حصہ باقی رہ گیا تھا۔کیونکہ جب علالت طبع تقریر ختم نہ ہوسکی۔اس واسطے آج میری تقریر کرتا ہوں۔زندگی کا کچھ اعتبار نہیں جسیس قدر لوگ آج اس جگہ موجود ہیں معلوم نہیں ان میں سے کون سال آئندہ تک زندہ رہے گا اور کون مرجائے گا ؟ ان الفاظ کے بعد حضور نے جماعت کو صبر کی تلقین فرمائی اور قیمتی نصائح ۲۵ دسمبر کو انجمن تشجب الازبان کا جلسہ ہوا جس میں حضرت صاحبزادہ سے نوازا۔مرزا بشیرالدین محمد احمد حضرت شاہ ولی اللہ اور حضرت حکیم مولانا نورالدین نے ایام جلسہ میں مرد و ز بیات کا سلسلہ جاری رہا۔بعیت کرنے والوں کی تقاریر کیں حضرت حکیم مولانا نور الدین نے واعظ کے مرکی ہونے کے بارے میں نہایت لطیف ارشادات فرمائے۔آپ نے قرآن کریم سے ثابت کیا کہ سب سے بڑے واعظ انبیاء کرام اوران کے بعد خاصان خدا ہوتے ہیں۔ر دسمبر کو حضرت مسیح موعود سیر کے واسطے تشریف لے گئے اور قدام جوق در جوق ساتھ ہوئے ہجوم کی کثرت کے باعث سیر پر جانا مشکل ہوگیا۔حضور ایک درخت کے نیچے کھڑے ہو گئے اور قریباً دو گھنٹے تک خدام کو مصافحہ کا شرف بخشا۔کی تعداد بعض اوقات اتنی بڑھ جاتی کہ لوگوں کا حضور تک پہنچنا اور معمول کے مطابق حضرت اقدس کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کرنا ناممکن ہو جاتا۔اس لئے پگڑیوں کے ذریعہ بیعت کی جاتی۔دید در جنوری شاه و تاریخ احمدیت جلد سوئم صفحه ۵۲۱ تا ۵۲۵) مہمانوں کی آمد کا سلسلہ وار دسمبر سے ۲۷ دسمبر تک جاری رہا۔احباب کی اس قدر کثرت تھی کہ جمعہ کے روز بیت الاقصی کے علاوہ ارد گرد کی دوکانوں گھروں اور ڈاک خانہ کی چھتوں پر کھڑے ہو کر لوگوں نے نماز ادا کی۔حضرت مسیح موعود کی ر دسمبر کو بیت الاقصی میں خطبہ جمعہ حضرت حکیم مولوی نورالدین حیات مبارک میں منعقد ہونے والا یہ آخری جلسہ سالانہ تھا۔( إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ) نے پڑھا۔نماز ظہر و عصر جمع کی گئی جس کے بعد حضرت مسیح موعود نے خطاب فرمایا۔اپنے خطاب میں حضور نے سورہ فاتحہ کی لطیف تفسیر بیان کرنے کے بعد جماعت کو تزکیہ نفس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا۔تزکیہ نفس اسے کہتے ہیں کہ خالق و مخلوق دونوں کے حقوق کی رعایت کرنے والا ہو، خدا تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ جیسا زبان سے اسے وحدہ لا شریک مانا جائے۔الیسا ہی عملی طور سے اسے مانیں اور مخلوق کے ساتھ برابر نہ کیا جائے۔اور مخلوق کا حق یہ ہے کہ کسی سے ذاتی بغض نہ ہو۔بیشک خدا کا حق بڑا ہے