المحراب

by Other Authors

Page 19 of 207

المحراب — Page 19

اور اشرفیوں کے ڈھیر لگ رہے ہیں قسم قسم کی دکانیں خوبصورت اسباب حضرت مسیح موعود نے شام میں فرمائی تھی جماعتی ضروریات کے پیش نظرکت داد سے جگہ گا رہی ہیں۔ز تذکره ۴۱۹ - ۲۲) میں اس کی پہلی اور میں اس کی دوسری توسیع ہوئی۔اس کی نسبت حضور کو ملنے والی بشارات میں سے ایک مہتم بالشاں بشارت مُبَارِك وَمُبَارَكَ وَكُلُّ امْرِ مُبَارَكَ يُجْعَلُ فِيْهِ ہے ربا امین احمدیه مته چهارم مرده رمانی قرانی بادی قادیان کے چند مقدس تاریخی مقامات کا تعارف اس بیت الصلاۃ کے بارہ میں پانچ مرتبہ الہام ہوا مینجمیدان کے ایک بیت الفکر یہ وہ مبارک کمرہ ہے جس میں سیدنا حضرت مسیح موعود نہایت عظیم الشان الہام میں ہے یہ ابتدائی ایام میں تالیف و تصنیف کے کام میں مشغول رہا کرتے تھے اور جہاں آپ نے فِيهِ بَرَكَاتُ لِلنَّاسِ وَمَنْ وَخَلَهُ كَانَ آمِنًا۔اپنی محرکة الآراء کتاب براہین احمدیہ تالیف فرمائی۔اس کمرہ کی نسبت حضور کوشند مکتوبات جلد اول م۵۵) میں الہام ہوا " أَلَمْ تَجْعَلَ لَكَ سُهُولَةٌ فِي كُلِّ امْرِ بَيْتِ الْفِكْرِ الخ د را بین احمدیہ حصہ چہارم ده میانی فرمائن جلد اول ص ۳۶) سُرخی کے نشان والا حجرہ یہ وہ مبارک حجرہ ہے جس ہیں ،ار بيت الدعاء بیت الفکر سے ملحق به حجرہ سیدنا حضرت مسیح موعود نے جولائی شاه پر از جمعہ المبارک بعد نماز فجر جبکہ حضرت مسیح موعود استراحت فرما اپنی خلوت کی دعاؤں کے لئے اور مارچ منشاء میں تیار کر وایا اور اس کا نام بیلبیت رہے تھے اور حضرت مولوی عبد اللہ صاحب سنوری حضور کی خدمت میں موجود تھے الدعاء تجویز فرمایا۔اور اس کی نسبت خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ اس بہیت الدعا کو سرخی کے چھینٹوں والا نشان ظاہر ہوا۔اور یہ چشم آریہ) امن کوس امتی اور اعداء پر بذریعہ دلائل تیره و با این ساطعہ فتح کا گھر بنا ہے۔ر ذکر جیب مولفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب) لنگر خانه حضرت مسیح موعود حضرت میں موجود کے زمانہ مبارک میں حضور کی رہائش گاہ ہی لنگر خانہ اور مہمان خانہ کا کام دیتی تھی۔اس کے کمره پیدائش حضرت مسیح موعود بانی بس اعلی احمد به سینا بعد سلسلہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر عہد خلافت ثانیہ میں لنگر خانہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود کے آبائی مکان الدار کے لئے علیحدہ کمرے تعمیر کئے گئے بر ۲ - ۹۲ در میں مزید وسعت دی گئی سی ۹۹۵ار میں واقع یہ وہ مبارک کمرہ ہے جو ۱۴ شوال ۲۵ مطابق ۱۳ فروری ۱۳ به در جمعته میں پرانی عمارت کو منہدم کر کے جدید بنیادوں پر لنگر خانہ کی موجودہ عمارت معرض المبارک نماز فجر کے وقت حضور کی ولادت با سعادت کے نتیجے میں مہبط انوار دبیر کا ہوا۔وجود میں آئی۔بريت الریاضت اس کمرے میں جو مردانہ نشست گاہ کے طور بیت الا قصے دمنارہ مسیح یہ وہ بہت الصلوۃ ہے جس کے پر استعمال ہوتا تھا ، حضور نے اواخر ماہ میں آٹھ یا نو ماہ تک مسلسل خفیہ روزے سے گنبدوں والا حصہ مع اپنے محدود دھن کے حضور کے والد ماجد حضرت مرزا غلام مرتضی صاب رکھے جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو عجیب و لطیف مکاشفات سے سرفراز نے اپنی وفات سے قریبا چھ ماہ قبل تعمیر کر دیا۔بعدازاں حضور کے زمانہ مبارک شایر فرمایا اور عالم کشف میں گزشتہ انبیاء اور اولیائے امت کی ملاقات کے علاوہ چین میں اس کی توسیع اول معہد خلافت ولی میں توسیع ثانی اور عہد خلافت ثانیہ میں عالم بیداری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بھی نصیب ہوئی ، توسیع ثالث عمل میں آئی۔بہشتی مقبرہ (کتاب البرتي) اسی کے وسیع و خراطین صحت میں حضرت اقدس مسیح موعود نے اذنِ الہی کے ما تحت حدیث نبوی إذا لعنت الله المسيح بن مَرْيَمَ فَيَنزِلُ عِيد ا مزار مبارک حضرت مسیح موعود الہی پیش خبریوں اور منم باستان الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شرقي دمشق ریح مسلم کو ظاہری شکل میں پورا کرنے آسمانی بشارتوں کے تحت معرض وجود میں آنے والے قبرستان بہشتی مقبرہ کی چار دیواری لئے سور ماریه مساله بروز جمعہ المبارک اپنے دست مبارک سے منارہ المسیح کا سنگ میں واقع حضرت مسیح موعود کی آخری آرام گاہ ہے۔حضور کے پہلوئے مبارک ہیں بنیا د رکھا اس کی تکمیل (عہد خلافت ثانیہ) دسمبر سال میں ہوئی ، حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کا بھی مزار ہے۔ران) مقام ظہور قدرت ثانیه در باغ حضرت مسیح موعود میں واقع وہ بیت المبارک بیت الفکر سے علمی اس بیت الصلوة کی ابتدئی تیر مقام جہاں حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کی روایات کے مطابق حضرت 14