المحراب — Page 181
وہ چاند سے مکھڑے والا کئے ٹکڑے تھے اور گریا تھا پانی صاحب نے یہ روئیاں مہمان خانہ سے لی تھیں اور گڑ کسی غریب درویش بھائی سے خریدا تھا۔ذرا تصور فرمائیے مرحوم کو دیا مسیح سے کیسی میرے دل نے خواہش کی کہ حضور سیدنا سی پیک کو دور سے تو دیکھ لیا ہے عقیدت تھی اور آپ سمجھتے تھے کہ ایک احمدی کو حضرت مسیح موعود کے لشکر کی روٹی سے نگر نزدیک بیٹھ کر دیکھنے کا موقع مل جائے تو کیا ہی خوش قسمتی سے ابھی اس خیال ہی زیادہ قیمتی تحفہ اور کیا دیا جا سکتا ہے۔" میں بہت کا قصی کے آخری حصہ میں نماز جمعہ کے انتظار میں بیٹھا تھا کہ وہ چاند سے مکھڑے والا خوشبو سے معطر دلیر آتا ہے اور عین میرے اور میر نے بھائی حافظ ملک محمد صاحب کے سامنے بیٹھ جاتا ہے اور میں کش کر مولی میں لگ جاتا اور حیرت میں پڑ جاتا ہوں کہ ہم روٹی کی لذت کئی شاید بجھتے ہوں کہ اتنی لذت نہیں ملتی مینی ان کی گھر کی روٹی ہیں ملتی تا چیز بندہ اور یہ انعام الہی یہ تیرے دل کی خواہش تھی یا بجلی کی تار تھی کہ میں نے بندہ نواز ہے لیکن نہیں تو بہت لذت آتی ہے۔۔۔۔۔سب سے زیادہ مزے دار روٹی جو ہیں کے دل پر اثر کیں اور بندہ کے پاکس لا بٹھایا مجھے اس جیسہ (۱۹۰۷ء) میں حضرت اقدس نے عمر میں کھائی ہے وہ تازہ گرم گرم توری روٹی تھی جو جا لانہ کے تنور سے نکلی کی دونوں روز دونوں تقاریر سننے کا موقع ملتا ہے۔ایک روز حضور سیر کے لئے قضیہ سے اور میں نے بغیر امن کے کھالی اور ساتھ پانی پی لیا۔بہت سے کھانے میں نے یا ہر تشریف لے جاتے ہیں اور بالا رادہ بڑے بازار میں سے اپنے گرد بھیڑ سمیت باہر کھائے ہیں۔اب بھی اس روٹی کی لذت دل میں سرور پیدا کرتی ہے حالانکہ اس وقت چلے جاتے ہیں تاکہ قادیان کے ہندوں کنہین کو یہ نظارہ دکھلایا جائے کہ یہ چھوٹا سا جلسہ ہورہا ہے اور نہ وہ تنوار چل رہا ہے۔" گاؤں اور یہ جم غفیر اور یاد کرایا جائے کر حضور کا الہام يأتون من كل فج عميق ا به حضرت خلیفة المسیح الثالث فرموده ۲۸ نومبر شد کیسی صداقت کے ساتھ پورا کیا ہے ؟ روایت از ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب۔۔۔۔احمد جلد ششتم من روٹی کے ٹکڑے شہادت کی انگلی کی شہادت جناب شیخ عبد القادر صاحب مربی سلسلہ لاہور حضرت میر محمد اسحق صاحب ج الانہ مشتار سے چار پانچ روز پہلے حضرت حافظ حامد علی صاحب، منشی کے متعلق رقم طراز ہیں در ایک واقعہ کا واقعہ ہے لنگری نہ میں روٹی ختم ہو چکی تھی۔اور سیالکوٹ کے امام الدین پوری صاحب کے پاس آئے اور حضرت میاں صاحب (حضرت مصلح موعود) کسی معزز زمیندار نے کھانا کھانا تھا اس۔پاس شکایت کی کہ روئی ختم ہو چکی ہے، اور مجھے بھوک لگی ہوئی ہے۔آپ اُسی وقت اس کے ساتھ منگریں نہ تشریفی کا پیغام دیا کہ جیسے دلانہ کے لئے لکڑی کا انتظام کریں۔منشی صاحب کی طبیعت بہت جوشیلی تھی فوراً لکٹری کے انتظام میں مشغول ہو کے گئے۔کھانے کی میز پر کافی تعداد میں بکھرے ہوئے بچے کچھے کڑے پڑے تھے گئے۔اور تین چار دن میں حسب ضرورت لکڑی بھیجوا دی بیسارا سارا دن خود کھڑے رہ ان کو دیکھ کر آپ نے فرمایا کہ چودھری صاحب ! کھانا تو موجو د ہے۔آئیے میں اور آپ کر کڑی کٹواتے اور گڈوں پر لد وا کر قادیان بھیجنے۔خود بڑھیوں کے ساتھ لکڑی کٹوانے دونوں کھائیں۔چنانچہ آپ نے بعض ٹکڑے اکٹھے کر لئے اور پہلے خود کھانا شروع کردیئے میں مدد دے رہے تھے کہ دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی کٹ گئی اپنی اولاد کو پر سارا سانی تو موجود تھا ہی روٹی کے قائم مقام کمڑ سے مجھے ہو گئے۔آپ کو دیکھ کہ اس معز مہمان وا قوشنا کر خوش ہوا کرتے تھے بعد ازان منتقل طور پر قادیان میں رہائش اختیار کرنے کے نے بھی دو کڑے کھانا شروع کر دیے۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى اللِ بعد کئی سال تک جلسہ سالانہ کے موقع پر آپ بطور افسر دیگ بیرون نصبہ خدمات سر انجام دیتے رہے )۔۔۔۔۔احمد ص) قیمتی تحفہ تحریرانه مکرم نور عالم صاحب ایم اے امیر جماعت احمدیہ کلکتہ مُحَمَّدِ ( الفرقان تمبر، اکتوبر شد قوم کے خادم میاں اللہ دتہ صاحب سپاہی پیشنر سیالکوٹ حضرت پیر محمد اسحق صاحب کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔میں ملازمت کی حالت میں ایک دفعہ قادیان جلسہ دیکھنے آیا۔ہمیں رات کے کسی میں اپنے کمرے میں تنہا لیٹا ہوا تھا۔بانی صاحب کے دو فرزند نصیر احمد بانی حصہ میں قادیان پہنچا تھا۔ہمیں اس وقت ناصر آباد میں اپنی بیوی بچوں کے ساتھ رہتا و شریف احمد بانی کمرے میں داخل ہوئے اور میرے ہاتھ میں ایک پیکٹ دیتے ہوئے تھا۔صبح کا وقت تھا کہ میں دودھ لینے کے لئے شہر میں گیا۔راستہ میں کیا دیکھا کہ احمدیہ کہا کہ ابا جان نے قادیان سے آپ کے لئے تحفہ لایا ہے۔کھول کر دیکھا توخشک روٹی اسکول کے پاس حضرت میر صاحب مجھے ملے اور میں نے السلام علیکم کہا۔آپ کا گلا