المحراب

by Other Authors

Page 137 of 207

المحراب — Page 137

آئے ہوئے تھے سو سو پچاس پچاس روپے کے۔اور ان پر لکھا تھا کہ ہم حاضری سے معذور ہیں مہمانوں کے لیے یہ روپے بھیجے جاتے ہیں : آپ نے وصول فرما کہ تو کل پر تقریبہ اپنی سعادت دیکھتے ہیں " ( انجام انتم ۳۱۲) ارمادا ۱۹۰۲ء کے اشتہار سے اس وقت کے لنگر خانے کے خرچ کا اندانہہ فرمائی کہ جیسا کہ ایک دنیا دار کو اپنے صندوق میں رکھتے ہوئے روپوں پر بھروسہ ہوتا ہے ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں۔کہ جب پہلا مہروں گا نکال لوں گا اس سے زیادہ ان لوگوں کو جو اللہ تعالی پر پورا توکل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ پر یقین ہوتا ہے اور ایسا ہی ہوتا ہے کہ حجب ضرورت ہوتی ہے تو فوراً خدا تعالی بھیج دیتا ہے۔(تاریخ احمدیت جلد دوم ص ۲۷) ایک دفعہ قحط پڑ گیا اور آٹا ر وپے کا پانچ سیر ہوگیا نگر کے خرچ کا فکر ہوا تو خداتعالی نے بذریعہ العام نسلی دی۔الَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدة کیا خدا اپنے بندے کے لیے کافی نہیں۔پھر نہ صرف حضرت اقدس کی ساری عمر بلکہ جماعت احمدیہ کی ساری عمر مہمانوں کے لیے خون کی بھی تنگی نہیں ہوندا تعالی انسانی قلوب میں تحریک پیدا کرتا ہے اور وہ چونکہ کثرت مسمانوں اور حق کے طالبوں کی وجہ سے ہمارے لنگر خانہ کا خریج بہت بڑھ گیا ہے اور کل میں نے جب لنگر خانہ کی تمام شاخوں پر تور کر کے اور جو کچھ مہمانوں کی خوراک اور مکان اور چراغ اور چار پائیاں اور برتن اور فرش اور مرمت مکانات اور ضروری ملالہ میں اور رسقا اور وتصویبی اور یہ جنگی اور خطوط وغیرہ ضروریات کی نسبت مصارف پیش آتے رہتے ہیں ان سب کو جمع کر کے حساب لگایا تو معلوم ہوا کہ ان دنوں میں آٹھ سویز کیر اوسط ماہواری خرچ ہوتا ہے۔مجموعه اشتہارات جلد سوم ص ۲۶ ص ۳۶) لنگر خانہ کی ابت را قادریان تشریف لانے والے معانان گرامی کے از خود روپیہ لا کر امام وقت کے قدموں میں رکھ دیتے ہیں کہ مسیح کے لنگر کی خدمت لیے حضرت مسیح موعود کی محبت بھری میزبانی کہ کے تواب دارین حاصل کریں۔مہمانوں میں اضافہ حضرت اقدس کی صداقت کی ایک میں حضرت اماں جان حضرت جہاں بیگم صاحبہ کا حتی بی تیز بھی شامل تھابلکہ یہ کہنا بجا ہے کہ سہیل خاتون افسر بنگر خانہ حضرت اماں جان ہی تھیں۔مہمان حضرت حکیم مولانا نورالدین واضح دلیل ہے۔ذیل سے کچھ اقتباسات سے لنگر خانہ حضرت مسیح موعود کے ابتدائی حالات معلوم والے دالان اور شمال مغربی کو ٹھڑی میں ٹھہرا کرتے تھے حضرت مسیح موعود کے الدار نہیں ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔میں ایک گمنام انسان تھا جو قادیان جیسے ویران گاؤں ہیں زوایہ گنامی میں پڑا ہوا تھا پھر بعد اس کے بعدانے اینڈ پیش گوئی کے موافق ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے نیا اور ایسی متواتر فتوحات سے مالی مدد کی کہ جس کا شکر یہ بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔۔۔اس آمدنی کو اس سے خیال کر لینا چاہیے کہ سالہا سال سے صرف لنگر خانہ کا ڈیڑھ ہزار روپیہ ماہوار تک خرچ ہو جاتا ہے" رحقیقت الوحی ص ۲۱ ، روحانی خزائن ۲۲ ص ۲۲) پھر فرماتے ہیں۔یادہ زمانہ نظا که باعث تفرقہ وجوہ معاش پانچ سات آدمی کا خرچ بھی اجواس وقت بہت ہی مختصر سامکان تھا) نو دس خاندان کچھ بتاملی و بیوگان اس طرح رہتے تھے جیسے کوئی سرائے یا مہمان خانہ ہو۔دائیں بائیں اوپر نیچے اندر باہر ہر طرف مہمان ہی مہمان ہوتے تھے۔اولاً حضرت اقدس نے مہمان خانے کے لیے دو کو پتھریاں بنوائیں دالان بعد میں بنا اس میں معمولی قسم کی پانچ چھے لکڑی کی کرسیاں ہوتی تھیں ان دنوں قادیان میں کوئی ذریعہ معاش نہ تھا احباب لنگر خانے سے کھانا کھائے تھے۔ایک طویل عرصہ تک متواتر اس کے جملہ اخراجیات وانتظامات حضورا دور حضرت اعتماں جان نصرت جنا بیگم کے ذمے تھے۔خدا کے بیان نے مسیح کا لنگر اولا گھر کے اندر ہی جاری ہوا در بین کھانا تیا ہوتا تھا ابتدا میں جہانیاں ہوا کرتی تھی جو گھر کے اندر ہی خادمات پیکاتی تھیں ترقی ہوتی گئی تو تو نے کی بجائے لوہ پر کئی کئی عورتیں مل کر چپاتیاں پکانے لگیں۔190 میں لنگر خانہ الدار کے اس حصہ میں تھاجہاں تقسیم ملک سے قبل محرم اول سید نا حضرت مصلح موعود میرے پر ایک بوجھ تھا اور یا اب وہ وقت آگیا کہ بحساب اوسط بین کی ڈیوڑھی تھی جہاں مشرق کی طرف سے الدار کے نچلے حصے میں داخل ہوتے ہیں۔اس آدمی ہر روز مع جبال واطفال اور ساتھ اس کے کئی سفر یاء اور درویش اس میں روٹی کھاتے ہیں۔و حقیقة الوحی ص ۲۳ - روحانی شهر داشتن ۲۲ ۷ ۲۳ - مت (۲۲) ڈیوڑھی میں ملک خادم حسین سالن پکاتے تھے بعد ازاں لنگر خانہ اس ڈیوڑھی کے ملحقہ شمالی کمرے میں منتقل ہو گیا۔کھانے میں عموماً دال اور کبھی کبھی سبزی گوشت بعض اوقات ایک وقت دال اور دوسرے وقت (کسی مینری کا سالن ہوتا تھا دال عموماً چنے کی دال رجوع خلائقی کا اس قدر مجمع بڑھنے گیا کہ بجائے اس کے کہ ہمارے لنگر میں الیسی پتیلی مگر لذیذ ہوتی تھی کہ کھانے والے پیالہ اٹھا اٹھا کر گھونٹ گھونٹ پی جایا کرتے تھے۔ساتھ یا ستر روپیہ ماہواری خرچ ہوتا تھا۔اب از سط خرچ کبھی پانچسو کبھی چھ سوماہواری تک ہو گی یا در خدا نے ایسے مخلص اور جان فشان ارادتمند ہماری خدمت میں نگاہ ہے کہ اپنے مال کو اس راہ میں جیتا کرنا آٹے کی فراہمی میں حضرت میر نا صرفواب ، حضرت بھائی عبد الرحیم قادیانی حضرت میاں کرم داد ملک غلام حسین حضرت بھائی عبد الرحمن قادیانی خدمت سر انجام دیتے تھے۔کئی سال اس حال میں گرہ ہے۔سلسلہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ لنگر نے بھی ترقی کی۔104