المحراب

by Other Authors

Page 10 of 207

المحراب — Page 10

جا لانہ کی غرض و غایت (حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے مبارک الفاظ میں)۔۔۔۔۔اس جلسے میں ایسے حقائق اور معارف کے سنانے کا شغل رہے اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی گا جو ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینے کے لئے ضروری ہیں۔اور ان دوستوں نہیں۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفوه ۱۳۴۳ ۳۷۲) کے لئے خاص دعائیں اور خاص توجہ ہوگی اور حتی الوسع بدرگاہ ارحم الراحمین ر اشتہار کر دسمبر ست کوشش کی جائے گی کہ خدائے تعالیٰ اپنی طرف ان کو کھینچے اور اپنے لئے قبول کرے د العالی نے ارادہ فرمایا ہے کہ محض اپنے فضل اور کرامت خاص سے اس عاجز کی دعاؤں اور اس تا چیز کی توجہ کوان زمینی حقیقی متبعین کی پاک استعداد کے اور پاک تبدیلی ان میں بجھتے۔ایک عارضی فائدہ ان جلسوں میں یہ بھی ہو گا کہ ہر ایک نئے سال میں قدر ظہور دیروز کا وسیلہ ٹھہرا دے اور اُس قدوس جلیل الذات نے مجھے ہوش بخشا نے بھائی اس جماعت میں داخل ہوں گے وہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہو کر اپنے پہلے ہے نا میں ان طالبوں کی تربیت باطنی میں مصروف ہو جاؤں اور ان کی آلودگی کے بھائیوں کے منہ دیکھ لیں گئے اور روسش ناسی ہو کہ آپس میں رشتہ تودد و تعارف ترقی ازالہ کے لئے دن رات کوشش کرتا رہوں۔۔۔سو میں توفیق تعالی کابل اور شرت پذیر ہوتا یہ ہے گا۔اور جو بھائی اس عرصہ میں اس سرائے فانی سے انتقال کر جائے گا نہیں رہوں گا۔اور اپنے دوستوں کی اصلاح طلبی سے جنہوں نے اس سلسلہ میں داخل اس جلسہ میں اس کیلئے دعائے مغفرت کی جائے گی۔اور تمام بھائیوں کو روحانی طور پر ہونا لصدق قدم اختیار کر لیا ہے غافل نہیں بنوں گا بلکہ ان کی زندگی کے لئے سوت ایک کرنے کے لئے اور ان کی خشکی اور اجیت اور نفاق کو درمیان سے اُٹھا دینے تیک دریغ نہیں کروں گا۔" کیلئے بنگاہ حضرت معزرت جیل ستاندا کوشش کی جائے گی اور اس روحانی جلسہ میں اور بھی کئی روحانی فوائد اور منافع ہوں گے جو انشاء اللہ القدیر وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتے رہیں گئے۔(اشتہار ۳ د میر اشاره آسمانی فیصلہ استتبار کار مارچ سلام دین تو چاہتا ہے مصاحبت ہو، مچھر مصاحبت ہو۔اگر مصاحبت سے گریز ہو تو دینداری کے حصول کی امید کیوں رکھتا ہے۔ہم نے بار بار اپنے دوستوں کو۔۔۔۔۔اس جلسہ کی اعراض میں سے بڑی غرض تو یہ ہے کہ نا ہر ایک مخلص کو بالمواجد نصیحت کی ہے کہ وہ بار بار یہاں آکر رہیں اور فائدہ اٹھائیں۔مگر بہت کم توجہ کی جاتی دینی فائدہ اُٹھانے کا موقع ملے اور انکے معلومات وسیع ہوں اور خدا تعالیٰ کے فضل ہے لوگ ہاتھ میں ہاتھ دے کر دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں۔مگر اس کی پرواہ کچھ و توفیق سے ان کی معرفت ترقی پذیر ہو۔پھر اسکے ضمن میں یہ بھی فوائد ہیں کہ اس نہیں کرتے یاد رکھو قبریں آوازیں دے رہی ہیں اور موت ہر وقت قریب ہوتی جارہی ملاقات سے تمام بھائیوں کا تعارف بڑھے گا اور اس جماعت کے تعلقات اخوات ہے۔ہر ایک سانس تمہیں موت کے قریب کرتا جاتا ہے اور تم اُسے فرصت کی گھڑیاں جھتے ہو۔اللہ تعالیٰ سے مکر کرنا مومن کا کام نہیں ہے جب موت کا وقت آگیا پھر استحکام پذیر ہوں گے۔ما سوا اس کے جلسہ میں یہ بھی ضروریات میں سے ہے کہ یورپ اور امریکہ کی ایک ساعت آگے پیچھے نہ ہوگی وہ لوگ جو اس سلسلہ کی قدر نہیں کرتے اور انہیں دینی ہمدردی کے لئے تدابیر حسنہ پیش کی جائیں کیونکہ اب یہ ثابت شدہ امر ہے کہ کوئی عظمت اس سلسلہ کی معلوم ہی نہیں اُن کو جانے دو مگر ان سب سے بد قسمت یورپ اور امریکہ کے سعید لوگ اسلام کے قبول کرنے کے لئے طیارہ ہوا ہے ہیں۔اور اپنی جان پر ظلم کرنے والا تو وہ ہے جس نے اس سلسلہ کو شناخت کیا اور اس میں شامل ہونے کی فکر کی لیکن پھر اس نے کچھ قدر نہ کی۔وہ لوگ جو یہاں اگر میرے۔۔۔اس جلسہ کو معمولی انانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔یہ وہ امر ہے جس کی پاس کثرت سے نہیں رہتے اور ان باتوں کو جو خدا تعالیٰ ہر رو زاپنے سلسلہ کی تائید میں خالص تائید حق اور اعلائے کلمہ دین حق پر بنیاد ہے ، اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ ظاہر کر تا ہے نہیں سنتے اور دیکھتے وہ اپنی جگہ کیسے ہی نیک انتقی اور پرہیز گار خدا تعالٰی نے اپنے ہاتھ سے کھی ہے اور اس کے لئے قومیں طہار کی ہیں جو عنقریب ہوں نگر میں ہیں کہوں گا کہ جیسا چاہیے انہوں نے قدرنہ کی میں پہلے کہ چکا ہوں