المحراب — Page 65
آپ کے حضرت مسیح موعود سے دنیا کے عام قاعدہ کے خلاف بہت زیادہ بے تکلف تھے۔حقیقی مہمان نوازی کے لئے قطری طور پر مہمان تو از خانوں کا آپ کا شریک بچوں کی تربیت کے بارہ میں آپ یہ بھی بیان فرمایا کرتی تھیں کہ پہلے زندگی بنایا۔آپ کا خوان نعمت اور خوان مجرت بجماعت کے ہر فرد کے بچے کی تربیت پر اپنا پوران دیر لگا یہ دوسرے اس کا نمونہ دیکھ کر خود ہی ٹھیک لئے کشادہ تھا اس طر یہ عمل سے جماعت کا ہر فرد خود کہ آپ کے خاندان کا ایک حقہ تصویر کرتا آپ بے تکلفی سے بغیر کسی امتیاز کے اپنے روحانی ہو جائیں گے۔حضرت مسیح موعود نے اپنے بعض اقرباء پر اتمام حجت کی غرض سے فرزندوں کے گھروں میں تشریف لے جاتیں۔اور اُن کے دکھ سکھ میں شرکت خدا تعالے سے علم پاکر محمدی بیگم والی پیشگوئی فرمائی تو ایک دن حضرت مسیح موعود کو نہیں۔آپ کا گھر ہمیشہ بتائی، ساکین اور بیوگان کی پناہ گاہ رہا۔آپ نے دیکھا کہ حضرت اماں جان علیحدگی میں نماز پڑھ کر بڑی گریہ و زاری سے ان کی عزت نفس کا خیال رکھتیں اور عزیزوں کی طرح شین سلوک کرتیں۔تیم بچوں سے اپنے بچوں کی طرح پیش آئیں انہیں جیب خرچ کے عا فرما رہی ہیں کہ خدایا اس پیشگوئی کو اپنے فضل اور قدرت نمائی سے پورا فرما۔پیسے دیتیں۔اپنے بچوں کے برا یہ کھانا کھائیں اور خود لباس تیار کر کے جب دعا سے فارغ ہو ئیں تو حضور نے دریافت فرمایا کہ تم یہ دعا دیتیں موسم سرمامیں لحاف تیار کر وا کے ضرورت مندوں کو دیتیں۔کریہ ہی تھیں اور تم کو معلوم ہے کہ اس کے نتیجہ میں تم پر سوسنی آتی ہے۔حضرت حضرت اماں جان کا لیا کس نہایت نفیس اور سادہ اور پردے کے اماں جان نے بے ساختہ فرمایا خواہ کچھ ہو۔مجھے اپنی تکلیف کی پرواہ نہیں۔میری لحاظ سے بہت مناسب ہو تا لمبی آستین کی قمیض پہنا کرتیں۔آپ کا تب خوشی ہی میں ہے کہ خدا کے منہ کی بات پوری ہو۔اور آپ کی پیشگوئی پوری ہو۔غیر معمولی طور پر صاف اور وسیع تھا کسی کے لئے خواہ اس سے کتنی تکلیف پہنچی ہو صاجزادہ مریا بانک احمدکی وفات پر آپ نے کمال صب کا نمونہ دکھایا آپ کے دل پر میں آتا تھا۔کان میں رینجرہ بات کہ اس صبر سے پی جاتی تنقیں کر حیرت ہوتی تھی اور ایسا بتا کر ان کی کسی دوسرے کو بھی کی بات کے جس پر حضرت اندکس کو الہام ہوا۔دہرانے کی جرائت نہ ہوتی تھی۔تیسکی ، چغلی، غیبت کسی بھی رنگ میں نہ کبھی آپ کہ خدا خوش ہو گیا " جب یہ الہام حضرت سیدہ کو سنایا گیا۔تو آپ نے فرمایا مجھے اس نے کیا نہ اس کو پسند کیا۔دیر دایت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب) الہام سے اس قدر خوشی ہوئی ہے کہ دو ہزارہ مبارک احمد بھی مر جاتا تو میں شو میں جب حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہوں کا وصال ہوا۔تو توکل علی اللہ، ایمان اور میر کا اعلی نمونہ دکھایا۔اس وقت آپ کی زبان مبارک پروا نہ کرتی۔بیمار دل کی عیادت کرنا اپنا فرض سمجھتیں۔صدقہ وخیرات کبھی سے ادا ہونے والا جملہ ان سے دلیہ تونہیں چھوڑ چلے ہیں پر تو ہیں چھولینا عیاں اور کبھی نہاں ہر طرح سے کرتیں جماعت کے پروگراموں کے لئے مال کی بعد میں جب آپ کو کسی واقعہ یا ذکر سے حضرت مسیح پاک کی یاد آتی تو آپ فورا ضرورت ہوتی تو بے دریغ چندہ دیتیں۔ہاتھ سے محنت کر کے بھی پھندہ زیا قرآن پاک پڑھنے لگتیں۔اور قادیان کی خواتین میں محنت کی عظمت کا احساس پیدا کیا۔مینارہ اسیح کے رد و امیت حضرت مولوی غلام نبی صاحب / کتاب عرفانی کبیر ۵۳) لئے تحریک ہوئی تو اپنی جائیداد فروخت کر کے کل ضرورت کا بڑا ادا کر دیا تحریک آپ اللہ اپریل ۱۹۵۲ء ساڑھے گیارہ بجے شب ربوہ نہیں انٹی سال کی جدید کا چندہ اڈل وقت ادا فرما دیا کہ نہیں۔عمر میں اس جہان فانی سے رحلت فرما گئیں۔خدا رحمت کنند این عاشقان حضرت اماں جان بڑی مہمان نوا نہ نفیس اپنے عزیزوں اور دوسرے ، پاک طینت را P لوگوں کو اکثر کھانے پر ہلاتی رہتی تھیں اگر گھر میں کوئی خاص چیز یکی تو عز بندوں میرے لیا تو نے مجھے اپنے مسیحا کے لئے کے گھروں میں بھجواتی تھیں۔سب سے پہلے یہ کریم ہے میرے جانا ہے تیرا عید کے دن اپنے سارے خاندان کو اپنے پاس کھانے کی دعوت کوئی ضائع نہیں ہوتا جو تترا طالب ہے دیتی تھیں اور سہر ایک کی پسند کا خیال رکھتیں۔کوئی رسوا نہیں ہوتا جو ہے جو یار تیرا اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود (ر آپ پر سلامتی ہو) کو جہانوں کی آسماری پر سے فرشتے بھی مدد کرتے ہیے کثرت کی بشار نہیں دی تھیں اور ان کی ضرور بات کے تشکفل ہونے کا ذمہ لیا تھا۔کوٹھے ہو جائے اگر بندہ ذرات تیرا