المحراب — Page 66
خورتوں کو ھمارے ملک میں کوئی تعلیم نہیں دیتا۔مناظر قدرت میں ان کو جانے کی اجازت نہیں میرے نزدیک به گندہ طریق ہے۔انسان اگر غور سے دیکھے اس قدر موقع تعلیم کا اس کو حاصل ہے عورتوں کو کہاں مگر بعض نادان چاہتے ہیں کہ ہمارے ہی جیسی عارات او عقل رکھنے والی عور تیں ہوں بھلا بلا تعلیم ہے نہیا ہے۔وہ اعضاء میں بہت نازک ہوتی ہیں ، مانع ان کا بہت چھوٹا ہوتا ہے۔اس لیے جو بہت نازک چیز ہوتی ہے اس کے محفوظ رکھنے کے لیے بھی رحمت اور دعا و احتیاط کی نہایت ضرورت ہے۔خطبہ نکاح فرموده ۲۸ اکتوبر ۱۹۱۲ء 129 16 / خطبات نور مجلد دوم صف ۱۷۹۶۱۷۸ حضرت اماں جان کی سیرت پر بہت کچھ کھا جا چکا ہے اور آنے والے مورخ اس عظیم اور مقدس خاتون کی سیرت سوارخ پر لکھنا بڑی سعادت تصور کریں گے لیکن حضرت اسماعیل صاحب نے جو آپ کے چھوٹے بھاں تھے چند فقرات میں جو آپ کی سیرت بیان کی ہے ہے وہ حقیقتا دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے اور ہر احمدی خاتون کے لیے مشعل راہ ہے۔ا بہت صدقہ خیرات کرنے والی۔۔ہر چندہ میں شریک ہونے والی۔اول وقت اور پوری تو تب و انہماک سے پنجوقتہ نماز ادا کرنے والی۔ت اور وقت کے ان میں تبد کاخاص التزام چاہیے کہ بیویوں سے خاوند کا ایسا تعلق ہو جیسے دو بچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔انسان کے اخلاق فاصلہ اور خدا تعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں اگر ان ہی سے تعلقات اچھے نہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ سے صلح ہو۔رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔خَيْركم خيركم لأهله تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کے لیے اچھا ہے۔( ملفوظات جلد ہی جم صف ۲۴۱۸) عورت اور مرد کے جوہر میں کوئی فرق نہیں جیسی عورت کی فطرت اور خواہشات میں ایسے ہی مرد کی۔اس لیے جیسے حقوق مرد سکتے ہیں ویسے عورت کو ملنے چاہئیں۔ازہار لذوات الخمار صو (۴۵) رکھنے والی۔۵۔خدا کے خوف سے معمور صفائی پسند شاعر با نداق سخن فهم - مخصوص زمانہ جہالت کی باتوں سے دُور۔گھر کی عمدہ منتظم ۱۰ اولاد کے لیے از حد معین ار خاوند کی بے حد مطیع و فرمانبردار ۱۲۔کینہ نہ رکھنے والی ہ عورتوں کا خاص وصف کریا بہت ہے مگر میں نے حضرت محمد وتر کو اس عیب سے ہمیشہ پاک اور بری پایا۔ا سیرت حضرت ام ای جلد دوم صفر )