المحراب

by Other Authors

Page 32 of 167

المحراب — Page 32

کلام حضرت مرزا بشیرالدین محمداحمدخلیفہ اسیح الثانی نوراللہ مرقده دشمن کو ظلم کی برچھی سے تم سیند و دل برمانے دو یہ درد رہے گا بن کے دوائم صبر کرد وقت آنے دو یہ عشق و وفا کے کھیت کبھی نوں پہنچے بغیر نہ پہنیں گے ! اس راہ میں جان کی کیا پروا جاتی ہے اگر تو جانے دو تم دیکھو گے کہ انہی میں سے قطرات محبت ٹپکیں گے بادل آفات و مصائب کے چھاتے ہیں اگر تو چھانے دو صادق ہے اگر تو صدق دیکھا، قربانی کر ہر خواہش کی ہیں جنس وفا کے ناپنے کے دُنیا میں میں پیمانے دو جب سونا آگ میں پڑتا ہے تو کندن بن کے نکلتا ہے پھر گالیوں سے کیوں ڈرتے ہو دل جلتے ہیں جل جانے دو عاقل کا یہاں پر کام نہیں، وہ لاکھوں بھی بے فائدہ ہیں مقصود مرا پورا ہو اگر مل جائیں مجھے دیوانے دو یہ زخم تمھارے سینوں کے بن جائیں گے رشک چمن اس دن ہے قادر مطلق یار مرا تم میرے یار کو آنے دو جو پیتے مومن بن جاتے ہیں ، موت بھی ان سے ڈرتی ہے تم پیچھے مومن بن جاؤ اور خوف کو پاس نہ آنے دو یا صدق محمد عربی ہے یا احمد ہندی کی ہے وفا باقی تو پرانے قصتے ہیں تازہ ہمیں یہی افسانے دو ! وہ تم کو حسین بناتے ہیں اور آپ یزیدی بنتے ہیں ! یہ کیا ہی بتا سودا ہے ، دشمن کو تیر چلانے دو محمود اگر منزل ہے کٹھن تو راہنما بھی کامل ہے تم اس پر بھروسہ کر کے چلو آفات کا خیال ہی جانے دو ۲۳