المحراب — Page 33
۲۵ صبر جمیل حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ شان دکھلا گئے جس صبر کی مردان جلیل سن کے بہتان دکھا تو بھی وہی صبر جمیل لوگ سمجھیں گے تو سمجھیں یہ خطا کا بے ثبوت تم سمجھ لو کہ ہے سو بات کی اک بات سکوت شعلہ جو دل میں بھڑکتا ہے دبا دو اس کو جھوٹ پر آگ جو لگتی ہے بجھا دوائس کو صبر کی شان کچھ اس طرح نمایاں ہو جاتے۔آپ سے آپکے ہی دوشمن بھی ہراساں ہو جائے آج جو تلخ ہے بیشک وہی کل شیریں ہے یچ کسی نے نئے کہ صبر کا چکل شیریں ہے کیا یہ بہتر نہیں ، مولا ترا ناصر ہو جاتے نامرادی عدد خلق پہ ظاہر ہو جاتے ہو جاتے صبر کر صبر کہ اللہ کی نصرت آتے تیری کچلی ہوئی غیرت پہ وہ غیرت کھاتے وہ لڑے تیر کے لیے اور تو آزاد رہی ہے خوب نکتہ ہے یہ اللہ کر کے یاد رکہ ہے کب خاموش کی خاطر وہی لب کھولتا ہے جب نہیں بولتا بندہ تو خدا بولتا ہے