المحراب

by Other Authors

Page 70 of 167

المحراب — Page 70

آپ قدرت ثانیہ کے چوتھے منظر نے تو ہمیشہ پیار و عزت کے ساتھ تھی۔بہت ہی پیار کرنے والی طبیعت تھی۔عمر کے ہر طبقہ کے لوگوں "میاں طاہر بلائیں آپ ملنے آتے تو ادب کے ساتھ اُٹھ کر بیٹھ جائیں سے آپ کے حسن سلوک کا دائرہ آپ کی محبت اور رحمت اور اپنے پاس بٹھاتیں۔آپ کی اجازت اور مشورہ کے بغیر کوئی اہم کام شفقت کے نتیجہ میں بہت ہی وسیع تھا۔“ سر انجام نہ دیتی تھیں۔اور انے سیج پاک کی لخت جگر ! اے حضرت اماں جان حضرت امام وقت بھی آپ کا بے حد عزت و احترام کہ تھے اور کی تو یہ نظر ! اے ہمارے دلوں کی رونق اور روحوں کی تسکین؟ خدا تعالی کی مجھے یہ ان گنت رحمتیں ، برکتیں اور ٹورنازل اپنی والدہ کی طرح ان سے پیار و مجزرت کرتے۔جیسا کہ آپ نے اپنے جذبات کا اظہار آپ کی وفات کے بعد یوں گیا۔ہوں۔اس کے پیاروں کا قرب تجھے نصیب ہو۔خدا کی رھنا کی حضرت پھوپھی جان کے ساتھ میرا ایک اور تعلق یہ بھی ابدی جنتوں میں تیرا بسیرا ہو۔تھا کہ میری والدہ کو ان سے بہت پیار تھا۔بچپن سے آنکھ کھلتے ہی جب سے ہوش آئی ہے ہم نے اپنی والدہ کو پھوپھی جان کے اے آسمانی لقب پانے والی درخت کرام۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے آپ کی صفات حمیدہ لئے غیر معمولی محبت کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے پایا اور کا حامل بنائے۔اور آپ کے نیک نقوش پر ہمیں چلنے کی پھوپھی جان کو بھی جوابا آپ سے تعلق تھا اس لئے حضرت پھو بھی ہوں توفیق دے۔آمین! میرے لئے تو ایک طرح سے والدہ ہی تھیں جو فوت ہوگئیں۔آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا تو آپ کو ور ترمین ملا تھا۔آپ اپنے والد ماجد حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح یہ کامل ر تعطیه جمعه ۸ مئی شان بمقام بیت الفضل لندن) آپ حلوا باخلاق اللہ کی جیتی جاگتی تصور تھیں یقین رکھتی تھیں کہ ہر برکت کا منبع حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ و سلم کا وجود آپ کا وجود سراپا حسن و احسان تھا، آپ پاک طینت، پاک خو سعید ہے۔اور تمام رحمتیں اور برکتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے اور پاک سیرت تھیں۔آپ کا مزاج نہایت پاکیزہ تھا۔شرم و حیا آپ سے حاصل ہوتی ہیں۔آپ کثرت سے درود شریف پڑھتی رہتی تھیں اور کا نہ یوہ تھی۔آپ اپنے آسمانی نام " دخت کرام کے مطابق بہت زیادہ اپنی اولاد اور اپنے ملنے جلنے والوں سے بھی کیا کرتی تھیں کہ وہ کثرت فیاض اور مہربان اور مہمان تو نہیں۔یہ بات آپ کی طبیعت کا حصہ سے درود پڑھا کریں اور خدا تعالے سے دعائیں کیا کریں۔تھی کہ اگر کھانے سے بت کوئی مہمان آجاتا تو اُسے کھانا کھائے بغیر جانے آپ کی صاحبزادی محترمہ فوزیہ بیگم صاحبہ آپ کی سیرت کے کی اجازت نہ دی تھیں۔آپ متفقیق ماں کی طرح سب احمدی بھائی بہنوں بیان میں فرماتی ہیں۔کے لئے تڑپ تڑپ کر دعائیں کرتیں۔" خدا اور رسول سے بے انتہا محبت تھی۔ایک دفعہ یہ نافع الناس اور بزرگ ہستی مٹی شاد بروز بدھ قریباً میں نے کہہ دیا کہ آج کل کے لوگوں نے رسول اللہ کی محبت کو ۸۳ سال کی عمر میں اس عالم فانی سے رحلت کر کے اپنے مولائے حقیقی بھی کد سے متجاوز کر دیا ہے۔یہ سُن کر آبدیدہ ہو گئیں۔کہنے لگیں سے جاملی۔اس طرح اس ارمین خاک سے سیے پاک کے خا کی جسم کا رابطہ یہ نہ کہو۔بعض وقت رسول کی محبت بھی خدا کے برابر لگنے لگتی ہے جو لہو سے شروع ہو اتھا اور میں ایک سو باون سال کے بعد ختم ہوگیا اس دن مجھے پتہ چلا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے بھی ستید تا محضرت مرزا طاہر احمد ایدہ اللہ تعالے نے آپ کی وفات آپ کتنی سرشار تھیں۔خدا کی ذات پر بے انتہا توکل تھا۔دعاؤں ساله مصباح جنوری فروری شد ۶ ۶۵) کے بعد مٹی 19 ء کے خطبہ جمعہ میں آپ کی سیرت طیبہ کی ایک جھلک پر بے حد یقین۔ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے۔حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحہ بھی بہت پاک خو خدا تعالی اور اس کے رسول کی محبت کے ساتھ ساتھ آپ کو اور پاک شکل تھیں اور حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی اولاد میں کلام اللہ سے بے حد عشق تھا۔قرآن مجید آپ کی روح کی غذا تھی۔سے آپ کو ایک رنگ عطا ہوا تھا جس میں بہت ہی جاذبیت ZA