المحراب — Page 69
دین حق کو بغیر کسی تعصب کے پڑھیں اور اس کی تلاوت فرمائیں۔یہاں تک کہ اپنی وفات کے دن بھی تلاوت کی کی دعوت پر غور کریں “ آپ قرآن مجید کے ہر حکم پر عمل پیرا ہونے کو سعادت سمجھتی تھیں۔جہاں آپ کی دین حق سے سچی اور دلی محبت ظاہر و بچپن سے آپ نہایت ذہین وتعین تھیں۔علم دوست تھیں ہے وہاں آپ کی اس شدید ترپ کا اظہار بھی ہے کہ کاش یہ تھیں۔بہت بیدار مغر تھیں۔اور بہت سلجھی ہوئی طبیعت کی مالک لوگ دین اسلام قبول کر لیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تھیں۔معاملہ فہم تھیں۔تلے پناہ لے لیں۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے اپنی درخت کرام کے آپ وہ بابرکت ہستی تھیں جنہیں چاروں خلفاء کے ادوارہ متعلق ایک مضمون میں فرمایا دیکھنے نصیب ہوئے۔آپ نے خدائی نصرت کے نظارے دیکھے اور کہ فہد کا زمانہ جو ہے یہ ضروری نہیں کہ پہلے چھ مہینے حضرت مہدی مسعود ( آپ پر سلامتی ہو) کی روز روشن کی طرح پوری کا ہو یہ تو دودھ کا نہ مانہ کہلاتا ہے۔جہد کا زمانہ تو تین چاریال ہونے والی پیش گوئیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔پر ممتد ہوتا ہے اور اس عمر میں بعض بچے بہت باتیں کرتے آپ کو یہ سعادت عظمی بھی حاصل ہوئی کہ حضرت خلیفہ آج ہیں چنانچہ میری بیٹی امتہ الحفیظ بیگم تھی جو کم و بیش اسی عمر الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جب خلیفہ منتخب ہوئے تو آپ کی ہے بہت باتیں کرنے والی ہے اور بڑی ذہین بچی ہے۔نے اپنے مشترک ہاتھوں سے سیدنا حضرت بانی سلسلہ حالیہ احمدیہ کی مبارک انگوٹھی جس پر الیس الله بکاف عبدہ کے الفاظ کنندہ ہیں آپ کو پہنائی۔ر مفهوم از ملفوظات جلد نهم مه ۲۳۵) حصول علم کا آپ کو بے حد شوق تھا۔آپ نے شادی کے بعد میٹرک، ادیب عالم اور انگریزی میں ایفدا سے کیا۔اردو ادب آپ منتجاب الدعوات تھیں۔آپ کے لب کبھی دُعائیں کرتے کے علاوہ انگریزی ادب بھی کافی پڑھا ہوا تھا، تفسیر کبیر کا بہت گہرا مطالعہ تھا۔ایک انگریز عورت نے آپ کی وفات کے بعد آپ کی نہ تھکتے تھے۔لاریب۔آپ تو دعاؤں کا انمول خزانہ تھیں۔آپ کی دُعاؤں کی برکت سے لوگوں کی نہ ندگیاں بدل جاتی تھیں۔آپ نے کامیاب زندگی گزارنے کے لئے کتنا اعلیٰ اور ارفع گر بتایا ہے کہ غیر معمولی ذہانت کا اعتراف اپنے خط میں آپ کی صاحبزادیوں سے "بس دُعا نہ چھوڑو۔اللہ سے رشتہ جوڑ لو۔سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، یوں کیا کہ حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب امیر قوم ) قم فرماتے تھے۔و ئیں ان سے مل کر اس قدر متاثر ہوئی تھی کہ ایک چھوٹے میں نے اکثر اوقات دیکھا ہے کہ ان کو کسی چیز کی خواہش سے قصبے میں رہنے والی بزرگ خاتون دنیا کے حالات سے پیدا ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو آنا جانا مہیا کرنے کے کس قدر ENLIGHTENED ہیں۔سامان پیدا کر دیتے۔میرے پر جو بھی اللہ تعالیٰ کی مہربانیاں اور ده ساله مصباح جنوری فروری ۱۹۸۷ء ص ۱۶۴ عنایات ہیں وہ اسی کے طفیل ہیں۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ چار سال کی عمر میں اس کے سامنے بھی اپنا چہرہ ڈھانپ لیتیں اور فرماتی تھیں کہ کو اپنے موئی کے سپرد کر گئے تھے جب سے ہی وہ اپنے مولی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے عورت بغیر مرد سے پردہ کرے کی گود میں نہایت پیار سے رہتی ہیں۔۔وہ میرے لئے اللہ تعالیٰ اس لئے میں کیوں اللہ تعالی کے حکم کی نافرمانی کروں کی طرف سے جرنہ کا کام دیتی ہیں۔ر اصحاب احمد جلد دوانه دهم صفحه ۸۴ تا ۸۲) قرآنی حکم پردہ کی بڑی سختی سے پابند تھیں۔یہاں بیک کر ڈاکٹروں در رساله مصباح جنوری فروری ۱۹ م ۱۲۵) قدرت ثانیہ سے آپ کو بے حد مخلصانہ تعلق تھا اور بے حد آپ روزانہ فجر کی نماز کے بعد التزام کے ساتھ تلاوت قرآن پاک دالبتگی تھی۔آر آپ حضرت خلیفہ اسیح الرابع ایدہ اللہ کا بے حد عزت و فرمائیں۔باوجود ضعف اور بیماری کے آپ تکیہ کے سہارے بیٹھ کر قرآن مجید احترام فرماتی تھیں۔بچپن میں آپ کو طاری " کہتی تھیں۔لیکن جب